AhnafMedia

Articles Urdu

Articles Urdu (280)

Rate this item
(6 votes)

مذاہب عالم سے اسلام کا تقابلی جائزہ

فوزیہ چوہدری، مانسہرہ

۱: ہندومت: ہندومذہب کا آغاز1500قبل مسیح میں ہواآریہ قبائل جب ہندوستان میں داخل ہوئے تو وہ اپنے ساتھ کچھ عقائد اور نظریات بھی لائے تھے مگر وہ ہندوستانی باشندوں کے وعقائد سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ ہندوستان میں آریائوں کی آمد سے قبل چند خدا دراوڑی نظریے کے مطابق موجود تھے اورکچھ آریا اپنے ساتھ لائے تھے مگر رفتہ رفتہ ہرکام اوربالآخر ہر مطلب کے لیے الگ الگ دیوتا کی پرستش کرتا ہندومت کے پیروکاروں کی مذہبی عادت بن گئی۔

کرم کاتصور:

ہندومت میں قربانی کو خاص اہمیت حاصل تھی کرم لفظ ہندی میں قربانی کے لیے ہی استعمال کیاجاتاتھا اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ اس سے انسان کو نجات مل جاتی ہے اور اگلا جنم اس کے لیے سکون کاباعث بنتاہے انسان اس دنیا میں جس قسم کے اعمال کرتاہے ان کی سزااسے بھگتا پڑے گی۔

ذات پات کا نظام:

ہندوستان میں ذات پات کا نظام آج بھی عروج پرہے اس نظام کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کو چلانے کے لیے خالق نے چار ذاتیں بنائی ہیں برہمن ،کھشتری،ویش اور شودر۔

برہمن سب سے برتر وافضل ہے کیونکہ ان کے خالق نے اپنے منہ سے پیدا کیاہے کھشتریوں کا کام حکومت کرنا اور دنیاوی نعمتوں سے فائدہ حاصل کرنا ہے ویش کا کام تجارت وزاعت ہے جب کہ شودر صرف اور صرف برہمنوں کی خلافت کے لیے ہے ۔شودرسور اورکتے کی طرح ناپاک ہیں شودر وہی کھاناکھاسکتاہے جوبرہمن کا جھوٹاہو۔شودر صرف ایک بار مہینے میں حجامت بنوائے اور اس کی غذا برہمن کا کھایاہوا جھوٹا کھاناہے۔

(پانچواں ادھائے اشکوک 140)

ہندومت میں شودر کو انتہائی گھٹیاا وررسواسمجھاجاتاہے وہ اپنے مذہب اور عبادت کے متعلق درس دیناتو درکنار اگر چھپ کرسن بھی لے تواس کی سخت سے سخت سزاہے بدھ مت میں ہندومت کی مخالفت کے آثار بھی ذات پات کا نظام ہی ہے۔

بدھ مت:

بدھ مت کے بانی گوتم بدھ کا اصل نام’’ سدھارتایاساکھیامنی‘‘ تھا۔وہ ایک امیر گھرانے میں پیداہوئے ابتدائی زندگی شہزادوں کی طرح گزاری ان کی پیدائش کے وقت نجومیوں نے کہاکہ اگر انہوں نے بڑے ہوکردنیا کے مصائب کا مشاہدہ کرلیاتو وہ رہبانیت اختیار کریں گے اور اگر انہوں نے مصائب کا مشاہدہ نہ کیاتو وہ بادشاہ بنیں گے۔

گوتم بدھ کے والد نے یہ سن کر اس بات کا اہتمام کیاکہ وہ مصائب وآلام سے واقفیت حاصل نہ کرسکیں ان کی توجہ عیش وعشرت کی طرف مائل کرنے کے لیے زبردست انتظامات کیے گئے انہیں محل میں ہی تمام آسائش دی گئیں تاکہ دنیاوی مصائب سے بے خبر رہیں مگر ایک دن اس سب کے باوجود انہوں نے حقیقت جان لی۔

انہوںنے ایک بوڑھا دیکھا ضعف کی وجہ سے اس کی کمر جھکی ہوئی تھی کمزوری کی بدولت اس کا چلناپھرنا محال تھا، ایک لاش دیکھی جس کے اردگرد بچے اور بوڑھے ماتم کر رہے ہیں مریض دیکھاجو درد کی شدت سے کراہ رہاتھا، غرض ان سب کو دیکھ کردنیا کی حقیقت ان پرکھل گئی کہ دنیا فانی ہے دنیا کی بے پناہ آسائشوں سے بھی کوئی دلی سکون حاصل نہیں کرسکا، انہوں نے اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کو الوداع کرکے درویشانہ طریقہ اختیار کرلیا، حق کی تلاش میں وہ بیابانوں اور صحرائوں میں پھرتے رہے چونکہ ان کی ابتداء ہندوطرز معاشرت پرہوئی تھی۔ اس لیے انہوںنے سب سے پہلے ہندو مت میں ہی سچائی تلاش کرنے کی کوشش کی مگر اس میں اونچ نیچ اور ذات پات کے سوا کچھ دکھائی نہ دیا اور وہ سچائی پانے سے قاصر رہے۔

آخر کار اپنے چیلوں سے کہاکہ میں نے یہ مان لیاہے کہ حقیقت کی تلاش اور ریاضت بے کارہے اس لیے تم اس سے پرہیز کرنا۔چنانچہ گوتم بدھ نے خود آگاہی شروع کی، اس دوران وہ پیپل کے درخت کے نیچے بیٹھ گئے کئی فاقے اور صعوبتیں برداشت کیں اور بالآخر بدھی یعنی روحانی روشنی (بزعم خود… ادارہ)حاصل کرلی جس کی وجہ سے انہیں بدھ کہاجانے لگا۔ چونکہ ان کے قبیلے کانام گوتم تھا اس لیے عام طور پر انہیں گوتم بدھ کہاجاتاہے۔گوتم بدھ نے جس مذہب کی تبلیغ دی اس میں دیوی دیوتائوں کی پوجاکاحکم نہ تھا۔ اس سے ہندوانہ عقیدوں کی شدید مخالفت ہوئی ہندو اس مذہب سے شدید نفرت کرتے تھے ۔

کفارہ:

بدھ مت میںتوبہ اور کفارہ کا سرے سے تصور ہی نہیں ہے اور نہ اس کی گنجائش ہے ان کے نزدیک اگر گناہ کیاجاسکتاہے توپھر اس کی سزابھی بھگتی جاسکتی ہے۔

بدھ مت اورخدا:

بدھ کے متعلق کہاجاتاہے کہ اس نے خداکے وجود کا انکار کیاہے، بدھ مذہب میں عبادات اوراعتقادات کا کوئی خاص مقام نہیں اور نہ ہی نجات کاکوئی واضح عقیدہ موجود ہے اسی وجہ سے کہاجاتاہے کہ گو تم بدھ خداکے وجود کا منکرتھا، مگر اس کی بھی اصل کچھ نہیں ہے کیونکہ خود گوتم نے کبھی ایسا دعویٰ نہیں کیاکہ وہ خدا کے منصب پرفائز ہے یا اپنے پیروکاروں کے لیے نجات دہندہ ہے۔بدھ مت میں خدا کی ذات اور صفات کے متعلق خاص نشاندہی نہ ملتی تھی، البتہ جب مدتوں بعد بدھ مت کے پیروکاروں میں اختلاف ہوا تو کئی نظریات نے جنم لیا ۔ بدھ مت دوبڑے فرقوں میں تقسیم ہوگیا۔ ایک تصور تو یہ تھاکہ ہرکام اور ہرضرورت کے لیے دیوی اور دیوتائوں کا اپنا اپنا مخصوص دائرہ اختیار ہے یعنی کہ ہندومت کے قدیم دیوی اور دیوتائوں کا تصور تھا۔دوسرا تصور خدا کے بارے میں یہ تھاکہ وہ قادر مطلق ہے تمام طاقتوں اور فیوض کا سرشمہ وہی ہے وہی کائنات کا خالق بھی ہے۔ایک دوسرے فرقہ جس نے یہ تبلیغ دی کہ خدا بدھ کی صورت میں ظاہر ہوا یہ نظریہ بدھ کے تعلیمات کی منافی ہے مگر اس کے پیروکاروں نے ان تعلیمات کو فراموش کر دیا ۔

بدھ مت کی سب سے بڑی کمزوری عبودیت کی ہے کیونکہ اس میں کہیں بھی خدا کی عبادت کاتصور نظر نہیں آتا اور ایک بشر کے لیے عبادت ِخدا نے بغیر تسکین حاصل کرناممکن نہیں۔ یہ بہت بڑی خامی تھی جو بدھ مت کے ابتدائی دور میں رہی کیونکہ اس میں نہ تو دیوی دیوتائوں کے پوجنے کی اجازت تھی اور نہ خدا کی عبادت کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی جس کی بدولت بدھ مت کے پیروکارگوتم بدھ کا مجسمہ بناکراس کی پرستش میں لگ گئے تھے تاکہ دلوں کو تسکین حاصل ہو۔

یہودی مذہب:

یہودی کاسلسلہ قدیم سامی اقوام سے ہے اور ان کا قدیم وطن عراق ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے نبوت عطاکی تواس وقت بنی اسرائیل کسی ایک خداکی پوجا نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے کئی خدا تھے یہودی اپنے قومی دیوتا مولک کے حضور اپنی قربانی پیش کرتے تھے کئی عرصہ تک اس دیوتاکوبھی یہودا کہاجانے لگا خاندانی دیوتا الگ الگ تھے اور ان کی پوجا بھی کی جاتی تھی ایک دوسرے کے خاندانوں کے دیوتائوں کی پوجا نہیں کی جاتی تھی۔

یہودی نظریات:

یہودی خدا کی وحدانیت کا اقرارکرتے ہیں یہودی عقائد کے مطابق یہ دنیا تسکین آورہے اور اسے حاصل کرنا ہر کسی کا حق ہے یہودیت میں تبلیغ کرنا اچھا نہیں سمجھاجاتاان کے ہاں ہفتے میں ایک تعطیل بھی ہے جو جمعہ کے دن غروب آفتاب سے شروع ہوکرہفتہ کی رات ستاروں کے طلوع ہونے تک رہتی ہے اسے ’’سبت ‘‘کی تعطیل کانام دیاگیاہے اس دن عبادت کی جاتی ہے اورکوئی دنیاوی کام نہیں کیاجاتا۔

یہودیوں کے فرقے:

تمام یہودی حضرت موسیٰ حضرت ہارون اور حضرت یوشع علیہم السلام پر ایمان لاتے ہیں اس طرح یہودی تمام پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں سب یہودی اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی بھی پیغمبر دوسرے پیغمبر کے لائے ہوئے احکامات کو منسوخ نہیں کرسکتا۔

یہودیوں کا مقدر:

یہودی حکومت اور سلطنت کے اعتبار سے کہیں بھی خود مختار اور مضبوط قوم نہیں رہے اور نہ رہیں گے یہودیوں کو ہردور میں نقصان پہنچتا رہاہے یروشلم کے فاتحین نے یہودیوں کی نسل کشی کے ساتھ ساتھ ان کے صحیفوں کو بھی نقصان پہنچایا، یہودی؛ دنیا میں ہمیشہ کم تعداد میں رہے ہیں ان پر ہمیشہ کے لیے عزت وعظمت کے دروازے قرآن مجید نے یہ کہہ کر بند کردیے ’’اور ان پر ذلت اور بے چارگی مسلط کردی گئی ہے اور یہ قوم غضب کی مستحق قرارپائی۔‘‘

عیسائیت:

دنیا میںعیسائیت کے پیروکاروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت سے مذہبی اجارہ داری خطرے میں نظرآنے لگی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا ایک ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع کردیا، عیسائیوں میںحضرت عیسی علیہ السلام کے مغلوب ہونے پر کوئی متفق قول نہیں ہے، کئی اقوال نقل کئے گئے ہیں جن سے معلوم ہوتاہے کہ حقیقت عیسائیوں سے بھی مشتبہ ہے ان میں سے کوئی کہتاہے کہ صلیب پر جو شخص چڑھایاگیاتھا وہ مسیح نہ تھا بلکہ مسیح کی شکل میں کوئی اور تھا ۔کوئی کہتاہے کہ انہوں نے صلیب پر جان دے دی غرض عیسائیوں کو اپنے مذہب کی اہم معلومات میں بھی شبہ ہے۔

عیسائیوں کا کفر:

عیسائیوں کا خیال یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ خدا کا اکلوتا بیٹاہے اور خدانے اپنے اکلوتے بیٹے کو زمین پر اس لیے بھیجا ہے کہ وہ انسانوں کے گناہوں کو اپنے سرسے لے کر صلیب پر چڑھ جائے اور اپنے خون سے گناہ کا کفارہ کرے، حالانکہ یہ محض عیسائیوں کاخیال ہے اس بات کا ثبوت مسیح علیہ السلام کے کسی قول سے ثابت نہیں اور اس کا تصوربھی نہیں کیاجاسکتا۔

اسلام:

اب باری آتی ہے اسلام کی جو تمام ادیان عالم کا سردار ہے اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس میں ہر مقصد اور ہر عبادت کی حقیقت ہے زندگی کے ہر شعبہ کی ہدایات اس میں موجود ہیں اسلام میں تمام پیغمبروں پر ایمان لانا ضروری ہے کسی ایک پیغمبر کونہ ماننا اسلام نہیں۔ اسلام ایک سچا مذہب ہے قرآن مجید میں ارشاد ہے: ان الدین عند اللہ الاسلام

ترجمہ: بے شک خدا کے نزدیک اصل دین تو اسلام ہے۔(آل عمران 16)

اسلام جس نظام زندگی کانام ہے اس کی ماخذ اللہ کی کتاب(قرآن کریم )ہے اور اس کارسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو اپنی زندگی کو قرآن وسنت کے مطابق ڈھال دیتاہے اسلام ایسا مذہب ہے جوکسی قسم کے جبر کا حکم نہیں دیتا جو چاہے اطاعت و فرمانبرداری اختیارکرے اور جو چاہے بغاوت کی راہ پر چل پڑے، اسلام میں ذات پات کا کوئی وجود نہیں اور بعض مقام پر اس کی کھل کر مخالفت بھی کی گئی ہے۔

خداکااقرار:

اسلام میں سب سے پہلے جس چیز پر ایمان لاناضروری ہے وہ ہے اللہ رب العالمین کی ذات۔ یعنی خداکامنکر مسلمان نہیں ہوسکتا، ایک مومن کا عقیدہ ہوناچاہیے کہ اللہ ایک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کے سامنے ہی جھکنا چاہیے اوراسی سے محبت کرنی چاہیے۔

خداکے وجود کا سب سے بڑاثبوت کائنات ہی ہے میں نے درختوں سے پتے جھڑتے دیکھے، زمین سے پانی نکلتا دیکھا،آسمان پر چھائے بادل دیکھے تو اس حقیقت سے انکارنہ کر سکی کہ ان سب کا موجد اور خالق موجود ہے جب ہم سوچتے ہیں کہ ایک سلطنت بادشاہ کے بغیر نہیں چل سکتی تو وہ خدا ہی ہے جو اس تمام دنیا کو چلارہاہے دنیاکے اور تمام مذاہب نے خدا کو جن صفات کے ساتھ پیش کیاہے وہ نامکمل اور ناقص ہے جب کہ اسلام میں خدائے واحد کی تمام صفات مبارکہ موجودہیں ۔ایک مومن کبھی مایوسی نہیں ہوتاکیونکہ اسے معلوم ہوتاہے کہ خدا کا سہارا اس کے ساتھ ہے اور وہ اسے کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گا۔

نبوت کے امین:

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس برس کی عمر میں نبوت ملی آپ کو نبوت ملنے سے پہلے بھی لوگ صادق اور امین کہہ کر مخاطب کرتے تھے امانت داری کایہ عالم تھا کہ مکہ کے مشرکین بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس امانتیں رکھواتے تھے ۔

یہی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کے صدقے یہ کائنات بنائی گئی ہے انہوںنے کبھی عیش وآرام کو پسند نہیں کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دو دو مہینے گزر جاتے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے مکانات میں چولہا نہیں جلتاتھا کھجور اور پانی پر گزرہوتا تھا اگر نبی پاک چاہتے تو انہیںقیصروکسریٰ سے زیادہ دولت عطا فرماسکتے تھے، مگرنبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے قدرت رکھنے کے باوجود تمام آسائشوں کو ٹھکرا کرآخرت کی طلب کی ۔اپنی امت کی بخشش طلب کی رات کو رو رو کر دعائیں کیں اپنی امت کے لیے کہ میری امت نارسے بچ جائے۔

ارکان اسلام:

اسلام کے پانچ ارکان ہیں:

۱:کلمہ ۲:نماز ۳:روزہ ۴:زکوۃ ۵:حج

کلمہ ایک بارپڑھ لیاکافی ہے مگر سچے دل سے پڑھنا ضروری ہے نماز دن میں پانچ مرتبہ فرض ہے روزے سال میں ایک مہینہ فرض ہیں زکوۃ اور حج صاحب حیثیت لوگوں پر فرض ہے ۔

تمام مذاہب کامحاسبہ:

ہندومذہب کے پیروکارتیس کروڑ خدائوں کے قائل ہیں تعجب یہ ہے کہ جودیوتا اپنی سیوا نہیں کرسکتے وہ اوروں کی کیاکریں گے ؟ ؟ مگر اس کے باوجود وہ اپنے دیوتاکے وجود پر ایمان کا اظہار کرتے ہیں۔بدھ مت نے خداکے وجود کا انکار تو نہیں کیا مگر اس کی زندگی میں خداکے وجود کی نشاندہی نہیں ملتی، گو تم کے نزدیک ہر شخص غیبی طاقت کے بغیر بھی اپنے نفس پر قابوپا سکتا ہے۔

یہودیت کی بنیاد خدا کی وحدانیت اور بنی اسرائیل۔ خدا کی منتخب کردہ امت تمام الہامی مذاہب خدا کی وحدانیت کو تسلیم کرتے تھے مگر بعد میں لوگوں نے اپنی خواہشات اور نظریات کے مطابق اس تصور کو خالص نہ رہنے دیا۔عیسائیت کے داعی بھی تثلیث کا تصور رکھتے ہیں اور کفریانہ طورپرحضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں ان کا نظریہ کفر اور شرک پر مبنی ہے۔اسلام لاثانی مذہب ہے، اس کے فرمانبردار صر ف ایک خداکے قائل ہیں جوتمام جہانوں کا مالک ہے وہ جو چاہے جب چاہے جس کے بارے میں چاہے سب کچھ کرسکتاہے کوئی چیز اس کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی قرآن مجید میں ارشادہے:’’اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم !آپ لوگوں کو بتلادیں کہ اللہ ایک ہے اللہ بے نیاز ہے نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے ۔

جس پر ایمان لاناکامل ایمان ہے وہ ہیں محمد عربی جسے ان سے محبت ہے اسے خدا سے بھی محبت ہے مسلمانوں کو ہادی عالم سے محبت کیوں نہ ہو؟ وہ راتوں کواٹھ اٹھ کر اپنی امت کی بھلائی کے لیے دعائیں مانگتے تھے، تاریخ شاہد ہے کہ کسی مذہب کے پیشوا یا راہنمانے اپنی آل کے لیے اتنے مصائب برداشت نہیں کیے جتنے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے برداشت کیے ہیں اسی لیے کروڑوں سلام محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر۔

 

Rate this item
(2 votes)
Rate this item
(4 votes)
Rate this item
(2 votes)

امام اعظم سیمینار،اسلام آباد

محمد کلیم اللہ

اہل السنت والجماعت کی نمائندہ مسلکی تنظیم ’’اتحاد اھل السنت والجماعت‘‘ کے زیر انتظام امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رحمۃ اللہ علیہ سیمینار میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔

اسلام آباد کے خوشگوار ماحول میں میلوڈی مارکیٹ کے ایک عمدہ اور خوبصورت اسلام آباد ہوٹل میں سیمینار کا انعقاد کیاگیاتھا ۔یہ اتحاد اھل السنت والجماعت کی طرف سے دوسرا سالانہ سیمینار تھا جس میں چیدہ چیدہ شخصیات کو مدعو کیاگیاتھا، ان میں بطور خاص چند نام قابل ذکرہیں۔

٭فضیلۃ الشیخ مولانا عبدالحفیظ مکی، مکہ مکرمہ٭شیخ الحدیث والتفسیر مولانا زاہد الراشدی، گوجرانوالہ٭متکلم اسلام مولانامحمد الیاس گھمن، سرگودھا٭مولانا سید عدنان کاکاخیل، کراچی ٭ پیر عزیز الرحمن ہزاروی، اسلام آباد ٭ مولانا منیر احمد منور،کہروڑپکا٭ڈاکٹر علی اصغر چشتی ، اسلام آباد٭مولانا شفیق الرحمن، راولپنڈی٭مولاناابن الحسن عباسی،کراچی ٭مولانامحمد زاہد فیصل آباد٭مفتی شبیر احمد،سرگودھا۔٭مولاناعبدالشکور حقانی،لاہور٭ مولانا رضوان عزیز سرگودھا ٭مولاناسجاد ابن الحجابی، مردان اور مولانا تنویر احمد علوی وغیرہ۔

سیمینار کی باقاعدہ کارروائی تلاوت کلام مجید سے شروع ہوئی بعد ازاں علی الترتیب اھل علم وفضل اور مقالہ نویس حضرات کے پرمغز مدلل بیانات شروع ہوئے۔ سیمینار کے انعقاد سے تقریبا دوماہ قبل مندوبین حضرات کو ان کے مقالے اور بیان کا عنوان دے دیاگیاتھا۔

دوحاضر کے چیلنجز اورفقہ حنفی سب کا مشترکہ عنوان تھا۔ ذیلی عنوانات میں جہاں فقہ اور فقہاء کی عظمت، اہمیت اور ضرورت بیان کی گئی وہاں پر خصوصا سرتاج الفقہاء امام اعظم ابوحنیفہ کی بارگاہ عالیہ میں بھی خراج عقیدت پیش کیاگیا۔

آپ کی منقبت اور خصائل جو اصحاب فضل وکمال حضرات متقدمین ومتاخرین نے بیان کیے ہیں اسے بھی دہرایاگیا تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ امام اعظم کی شخصیت کا ہر پہلو اتنا نمایاںہے کہ جس کی مثال دور تابعین میں کہیں نہیں ملتی۔

امام اعظم رحمہ اللہ کی سیاسی زندگی پر گفتگو کرتے ہوئے جامعہ نصرۃ العلوم کے شیخ التفسیر والحدیث مولانازاہدالراشدی نے کہا:’’امام اعظم کی زندگی کا ہر پہلو تابناک اور روشن ہے ۔امام صاحب کی سیاسی زندگی پر مولانا مناظر احسن گیلانی نے جو قلم اٹھایاہے اسے پڑھ کریہ یقین ہوتاہے کہ امام اعظم محض تدریس حدیث وفقہ پر ہی دسترس نہ رکھتے تھے بلکہ آپ کی سیاسی بصیرت سے بادشاہان وقت بھی متاثر تھے اورآپ کو چیف جسٹس کا عہدہ سونپنے پر بضد بھی رہے لیکن امام اعظم رحمہ اللہ نے تدوین فقہ کی ضرورت کو ترجیح دی اوراپنے ایسے تلامذہ تیار کیے جنہوں نے انصاف وعدل کی عطر بیزیوں سے عالم اسلام کو معطر کردیا…‘‘

آج بھی فقہ حنفی کو بطور قانون نافذ کردیاجائے تو معاشرے میں کرپشن اور ناانصافی کابھوت خودہی مرجائے۔متکلم اسلام مولانامحمد الیاس گھمن نے کہا:’’ میں بے حدممنون اور مشکور ہوں ان تمام حضرت کا جنہوںنے ہمیں میزبانی کا شرف بخشا ۔مجھے جس عنوان پر گفتگو کے لیے کہاگیاتھا وہ امام اعظم پر وارد ہونے والے اعتراضات کا ٹھوس حوالہ جات سے جواب دیناہے۔

اللہ کافضل ہے کہ ہم نے جس امام کو اپنا بڑا اور ’’امامِ اعظم ‘‘ماناہے۔ اس میں ہم اکیلے نہیں بلکہ اَن گنت فقہاء اور محدثین کرام ہمارے ساتھ ہیں۔ ائمہ اربعہ میں امام مالک ، شافعی اور احمد بن حنبل ،اصحاب صحاح ستہ بخاری ،مسلم، ترمذی ،ابودائود، نسائی اور ابن ماجہ محدثین کرام میں امام یحییٰ بن معین ،امام ابن کثیر، امام مکی بن ابراہیم اور دیگر جلیل القدر محدثین شامل ہیں تابعین میں امام عبداللہ بن مبارک جیسے سربرآوردہ شخصیات ہمارے ساتھ کھڑے ہیں…

انہوںنے اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا: ہم امام اعظم کو اپنا پیشوا اوررہنما مانتے ہیں اور اگر کوئی ان کی ذات عالیہ پر تنقیص وتوہین کے نشتر چلائے تو دلائل کی قوت سے ہم ان کے انسداد اور روک تھام کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس وقت عجیب کیفیت تھی اور سامعین ہمہ تن گوش ہوئے مولاناکی گفتگو سماعت کررہے تھے۔ مولانا محمد الیاس گھمن نے فرمایا:ہم امام اعطم ابوحنیفہ کو فقہاء اور تابعین کی صف میں ’’امام اعظم‘‘ کہتے ہیں ۔یار لوگوں نے منفی پروپیگنڈا شروع کر رکھا کہ’’ امامِ اعظم ‘‘تو حضرت محمدﷺ ہیں یقینا امام اعظم انبیاء کی صف میں محمد ﷺ ہی ہیں لیکن جیسے صحابہ میں حضرت ابوبکر؛ صدیق اکبر ہیں حضرت عمر؛ فاروق اعظم ہیں ایسے ہی فقہاء اربعہ اور تابعین میں امام ابوحنیفہ؛ امام اعظم ہیں۔ حاشاوکلا اھل السنت والجماعت کا کوئی شخص امام ابوحنیفہ کو رسول اللہ ﷺسے برتر تو کیابرابر بھی نہیں سمجھتا۔

انہوںنے اپنے وقت مقررہ میں گفتگو کو سمیٹے ہوئے کہا کہ جیسے’’ ابوبکر‘‘ یہ صدیق اکبر کانام اور کنیت نہیں بلکہ وصف ہے۔ ایسے ہی ’’ابوحنیفہ‘‘ نام اور کنیت نہیں بلکہ ان کا وصف ہے۔ ابوبکر اسے کہتے ہیں جو ہر نیک کام میں پہل کرے ایسے ہی ابوحنیفہ ملت حنیف دین حنیف والے کو کہتے ہیں۔

بات آئی تو کہتا چلوں کچھ لوگوںنے غلط باتیں مشہور کررکھی ہیں اور کہتے ہیں کہ’’ حنیفہ‘‘ امام اعظم کی بیٹی کا نام تھا حالانکہ اہل تاریخ اس بات پر متفق ہیں کہ امام صاحب کی کوئی بیٹی نہیں تھی بلکہ ایک ہی صاحبزادے حضرت حماد تھے۔

آخر میں انہوںنے کہا کہ ہم غیرسیاسی اور غیرعسکری طور پر ملک بھرمیں اور بیرون ممالک میں اپنے مشن کی تکمیل میں سرگرم ہیں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں ہمارا ادارہ احناف میڈیا سروس بہت فعال ہے…‘‘

سیمینار میں مندوبین حضرات کے علمی اصلاحی اور فکری بیانات نے سامعین کے قلب واذہان سے شکوک اور شہبات کو بالکل ختم کردیا۔مولانا سید عدنان کاکاخیل نے اپنی بات کاآغاز کرتے ہوئے کہا:’’ ہم اتحاد اھل السنت والجماعت کے راہنمائوں کو مولانا منیر احمد منور اور مولانا محمد الیاس گھمن کو اپنے ادارے جامعۃ الرشید کی طرف سے اپنے مہتمم مفتی عبدالرحیم ،شیخ الحدیث مولانامفتی محمد اور استاد محترم مفتی ابولبابہ ان تمام کی جانب سے نیک تمنائوں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کے ساتھ اور جامعۃ الرشید سے منسلک ابلاغی ،اخباری اور رفاہی شعبہ جات کی طرف سے نمائندگی کررہاہوں …ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جو دعوت ہے یہ علم کی روایت کی پاسداری ہے جو جہالت کے مقابلے میں اٹھی ہے …کیا اس کوجہالت کی روایت نہیں سمجھا جائے گا کہ ایک آدی کھڑا ہوجائے اور کہے کہ میں حیاتیات، کیمیا ، بائیو، فزکس،کمسٹری کے مسلمہ اصول میں جن کی بنیاد پر کام بہت آگے جاچکاہے دنیا اس کے نتائج دیکھ رہی ہے۔ میںا س کون نہیں مانتا بلکہ میں خود تحقیق کروں گا اسے انگریزی محاورے میں کہاجاتاہے کہ میں پہیہ دوبارہ ایجاد کررہا ہوں ۔ایسے ہی علوم دینیہ کے اندر ایک روایت آئی امت کے ذہین ترین افراد نے جن کو ایک یادو واسطوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب اطہر تک رسائی حاصل ہے ان کی تحقیقات تشریحات اور تعبیرات کا انکار کرکے تیرہویں یا چودہویں صدی کا ایک جاہل کھڑا ہوجائے اور کہے کہ میں خود ان تمام مسائل کی از سر نو تحقیق کروں گا تو اس جہالت کی روایت کے مقابلے میں علم کے چراغ روشن کرنا اور اس طرح کے محافل کا انعقاد کرنا بہت ضروری ہے۔

اورآج ہم جو امام اعظم کے نام سے یہاں اکھٹے ہوئے ہیں یہ بھی ایک اور روایت کا تسلسل بھی ہے اور وہ رجال، سیر، تاریخ جرح وتعدیل کی کتابوں میں امام اعظم ابوحنیفہ کی منقبت اور فضائل پر مشتمل اصحاب علم وفضل کی آراء میں ان کو عام کیاجائے اور اس طرح کے پروگرامز کا انعقاد کیاجائے۔

امام شافعی فرماتے ہیں: الناس عیال فی الفقہ علی ابی حنیفہ تمام لوگ فقہ میں امام ابوحنیفہ کے دسترخواں کے خوشہ چیں ہیں۔ محمد بن اسحاق ابن ندیم نے اپنی الفہرست میں لکھاہے: العلم برا وبحرا وشرقا وغربا بعدا و قربا تدوینہ رضی اللہ عنہ علم بروبحر میں، مشرق و مغرب میں ،قریب اور بعیدمیں سے اس کو امام اعظم نے مدون کیا۔امام ابن مبارک کاقول ہے افقہ الناس ابوحنیفۃ لوگوں میں سب سے زیادہ فقیہ ابوحنیفہ ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہاکہ امام صاحب نے مذہب کی بنیاد اس دورمیں ڈالی جب مجتہدین کے اجتہادات کی گرم بازاری تھی۔ اتنے سارے اقوال کو ایک منضبط قواعد میںلے کر آنا بہت کمال کی بات ہے اجتماعی شورائی کمیٹی کے لیے 40رکنی فقہاء کی کمیٹی تشکیل دی۔

حنفیت کو اسلام کے چودہ سو سالہ سیاسی نظام سے جو تعلق ہے وہ بہت مضبوط تعلق ہے کیونکہ سیاسی نظام ہی سے معاشی نظام، اقتصادی ،معاشرتی نظام اور تعلیمی نظام پھوٹتے ہیںکئی صدیوں تک حنفی فقہاء کی عدالتیں تھیں جہاں سے اسلامی قوانین کے مطابق فیصلے کیے جاتے رہے اور آج جدید مالیاتی نظام کی جتنی کمیٹیاں دنیا میں بنی ہیں ان میں حنفی راہنما کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ 80فیصد آراء حنفی عالم کی رائے کے ساتھ متفق ہوتی ہیں۔ اصول اجتہادات میں بھی حنفی فقہاء کی آراء کو زیادہ تسلیم کیاجاتاہے ایک اور خوبی فقہ حنفی کی یہ بھی ہے کہ امام صاحب اور آپ کے تلامذہ نے ان مسائل کو بھی ذکر کیاہے جو اس وقت پیش نہیں آئے تھے تاکہ آج کے نام نہاد مجتہدین کو اجتہاد کی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔

مولانا ابن الحسن عباسی مدیر ماہنامہ ’’وفاق المدارس‘‘ پاکستان کی گفتگو کا عنوان تھا ’’علم حدیث میں حنفی علماء کا کردار‘‘ اس پر مولانانے اس کو بہت خوبصورت پیرائے میں بیان کیااور دسری تیسری صدی ہجری سے لے کر آج دن تک کی حدیث میں علماء احناف کی تصنیفی خدمات کا مختصر تذکرہ کیا

دیگر علماء میں مولانا شفیق الرحمن، نائب امیر اتحاد اہل السنت والجماعت پنجاب نے تمام مندوبین اور مدعوین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیاکہ ہم ان شاء اللہ اس طرح کے پرامن پروگرام کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں اور ہم ان کا انعقاد کرتے رہیں گے۔ سیمینا رمیں مولانا عبدالحفیظ مکی مولانا محمد زاہد فیصل آبادی اور دیگر علماء نے اپنے اپنے عنوان کے مطابق بیانات فرمائے،احناف میڈیاسروس کے ڈائریکٹر مولاناعابد جمشید نے اپنی ٹیم کے ہمراہ تمام پروگرام کو انٹرنیٹ کے حوالے سے ہینڈل کیا اور بیرون ممالک کے سینکڑوں افراد نے اس پروگرام کو براہ راست دیکھا۔آخر میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں اس طرح کے پروگرامز میں شریک ہوناچاہیے اللہ ہمیں اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلائے۔

Rate this item
(2 votes)

دوعظیم، اجسام

محمد الیاس گھمن

آج سے 64برس قبل رمضان المبارک کی ستائیسویں شب تھی جب اہل اسلام کے لہو سے سیراب ہونے والی آزادی کی کونپل شجرسایہ دار بنی،14اور15اگست کی درمیانی رات میں آل انڈیا ریڈیوپر ’’یہ ریڈیوپاکستان ہے‘‘کی آواز بلند ہوئی۔ مسلمانان ہند کے لیے یہ پرمسرت مژدہ نوید مسیحا سے کم نہ تھا، بیک وقت کئی نعمتیں ظاہر ہوئیں نعمت رمضان نعمت آزادی نعمت پاکستان نعمت شب قدر اور دوسرے دن جمعۃ الوداع کی نعمت۔

پاکستان بنانے میں اہل اسلام نے قربانیوں کی جوداستان رقم کی ہے تاریخ کے اوراق پر ایسے سنہری باب کہیں نہیں ملتے۔ جہاں بچے یتیم ہو رہے ہیں، خواتین اپنے سہاگ کی بجائے بیوگی کے عصاسے سہارا لے کر چل رہی ہوں بہادر نوجوان جرات وہمت کے مجسمے آزادی وطن کے لیے اپنی جان کو ہتھیلیوں پر لیے میدان میں مسکرارہے ہوں۔

اس آزادی میں میرے اکابر علماء دیوبند نے جو مثالی قیادت کا کردار اداکیاہے۔ صبح قیامت تک پیدا ہونے والا مورخ اس کو کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔عوام الناس میں، خصوصا اہل اسلام میں علماء دیوبند نے آزادی کی وہ روح پھونکی جس کی وجہ سے آج ہم اس ملک میں ’’آزاد‘‘ ہیں……معاف کیجئے گا………میرا قلم اس آزادی کو قومین(’’ … ‘‘)کے درمیان لکھنے پر مجبور ہوگیا ہم’’آزاد‘‘ہیں۔

ذرا سنیے ! کیسے آزاد؟…… خدائی احکامات سے ،فرامین رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے ،تعلیمات اولیاء سے، ہمدردی اور ایثار سے، اخوت اورپیار سے، شرعی قوانین سے اور ہر اس چیز سے’’آزاد‘‘ہیں۔ جس پر پابندی اسلام کا لازمی فریضہ ہے۔ جسم’’آزاد‘‘اوردماغ’’ غلام‘‘ ہیں۔ زبان’’آزاد‘‘اور دل غیروں کے ہاتھ کامہرہ…

آپ بتلائیے! کیا اسی ’’آزادی‘‘ کے لیے ہمارے آباء واجداد خاک وخون میں تڑپ گئے؟؟ کیا اسی آزادی کے لیے مائیں اپنے دودھ پیتے بچے قربان کرتی رہیں ؟؟اور کیااسی آزادی کے لیے ہم الگ وطن حاصل کرتے رہے ؟؟……ہونہہ۔تف ہے ایسی آزادی پر! اور ایسے آزاد لوگوں پر جنہوںنے اسلاف کے مدفن بیچ کھائے ہیں۔ ہاں !ہم آزاد اس لیے ہوئے تھے

پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ

یہاں پر اسلام کا بول بالا کریں گے، آزدی کے ساتھ عبادات بجا لائیں گے، اخوت ومحبت کی نِیامیں سوارہوکر دل کے ارمان پورے کریں گے۔مگر……

خیر!کوئی بات نہیں…ہم مایوسی کے مرض میں مبتلا نہیں…بلکہ مبتلا شدہ لوگوں کو اس مرض سے چھٹکارا دلاتے ہیں… ہم پورے عزم اور ارادے کے ساتھ اس وقت بھی وطن عزیز میں امن وسلامتی کے لیے ہر وقت سرگرم ہیں اللہ گواہ ہے یہ ملک ہم نے بنایاتھا ہم ہی بچائیں گے۔

انگریز ہم سے بدلہ لینے پر مصر ہے اوراندرون خانہ وہ ہم میں خانہ جنگی کرانا چاہتا ہے وہ ہمیں فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنا چاہتا ہے لیکن ہم اپنے اسلاف کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اسلاف کے دامن سے وابستہ رہیں گے ۔ہاں! وہ لوگ ضرور اس فرقہ واریت کا شکار ہوں گے جو اکابر امت پر اعتماد نہیں کرتے ۔اعتماد تو کجا! ان پر سب وشتم کرنا اپنا ’’ایمانی فرض ‘‘ سمجھتے ہیں اللہ تعالی ہم سب کو اہل حق کے ساتھ وابستہ ہونے کی توفیق دے ۔

دوسری عظیم نعمت رمضان المبارک ہے اس ماہ مقدس میں اہل اسلام کثرت سے پابندی صوم وصلوٰۃ ، تلاوت قرآن کے ساتھ ساتھ عمرے کی ادائیگی ،صدقہ وخیرات رواداری، مروت، رحمدلی، بھائی چارگی، وغیرہ پر عمل پیراہوتے ہیں۔

اس بار پھر رمضان اپنی برکات کے ساتھ ساتھ آزادی وطن کی یادگاریں لا رہا ہے۔ جہاں ہمیں شکرانِ نعمت کے لیے خدا کے حضور سجدہ ریز ہونا ہو گا وہاں اس بات کاعزم بھی کرنا ہوگا کہ وطن عزیز کی سا لمیت اور بقاء کے لیے نفاذ اسلام کے لیے ہم ہر وقت مستعد ہیں۔ ان شاء اللہ۔ علم کے مسافر…رواں دواں رواں دواں علم خدا کی معرفت اور تجلی کانام ہے، اسی کے بل بوتے انسان اور حیوان میں فرق کیاجاسکتاہے اسی کے طفیل انسان شرف ’’مسجودِملائک‘‘کو پالیتاہے اور علم…علم دین…سے دوری انسان کو اولٓئک کالانعام بل ھم اضل کامصداق بنا دیتی ہے۔علم دین میں بنیادی مرکزی اور اساسی اہمیت حاصل ہے عقائد ونظریات کو پھر درجہ بدرجہ مسائل واحکام کو ۔باقی علوم مثلا گرائمر، صرف، نحو، منطق، فلسفہ وغیرہ یہ علوم نبوت کے خادم ہیں، سارا سال دینی مدارس میں علوم نبوت کی تحصیل کے کوشاں مقتدایان امت مرحومہ علماء کرام مصروف رہتے ہیں …وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سالانہ امتحانات کے فوراً بعد مرکز اھل السنت والجماعت87جنوبی سرگودھا میں12روزہ دورہ تحقیق المسائل (از 9 جولائی تا 21 جولائی 2011) کا انعقادکیا گیا تھا۔ مرکز کے حضرات اساتذہ کرام نے اس سے قبل اس پر طویل مشاورت سے راقم کو اہم امور کی جانب متوجہ کیا جس پر راقم تمام حضرات کا تہ دل سے شکر گزار ہے۔ ملک بھرسے 180کے لگ بھگ علماء کرام مرکز اھل السنۃ والجماعۃ87جنوبی سرگودھا دورہ تحقیق المسائل کے لیے تشریف لائے علاوہ ازیں alittehaad.org،ahnafmedia.comاور دیگر مختلف ویب سائیٹس پر مکمل اسباق براہ راست نشر کیے گئے احناف میڈیا سروس کے ذمہ داران مولانا عابد جمشید ، مولانا محمد کلیم اللہ اور ان کے ساتھیوں نے لاہوردفتر احناف میڈیا سروس سے ہی اسے کنٹرول کیا ۔الحمد للہ ملک بھر اور زیادہ تر بیرون ممالک کے پڑھے لکھے افراد اس پروگرام سے براہ راست مستفید ہوتے رہے ۔ آخر میں راقم اپنے آنے والے مہمانان گرامی خصوصا حضرات اساتذہ کرام : امیراتحاد اھل السنۃ والجماعۃ پاکستان مولانامنیر احمد منور ، مولاناشفیق الرحمن امیر اتحاد اھل السنۃ والجماعۃ پنجاب ، مولاناعبدالشکور حقانی امیر اتحاد اھل السنۃ والجماعۃ لاہور ڈویژن مولانامحمد رضوان عزیز، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی قائد مولانااللہ وسایا مولانا مفتی شبیر احمد، مولانامحمد اکمل ، مولانامحمد عاطف معاویہ اور تمام شرکاء کورس کا شکریہ ادا کرتا ہے جنہوں نے اپنی گوناگوں مصروفیات میں عقیدے اور نظریے کی محنت کو ترجیح دی ۔

Rate this item
(4 votes)

ان کے غلام وقت کے امام

سید وسیم الدین

امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جس دور میں پروان چڑھے اس وقت علم زیادہ تر موالی و اعاجم میں پایا جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی کائناتی حقیقت بن کر ثابت ہوئی کہ اولادِ فارس علم کی حامل ہوگی۔ امام بخاری، شیرازی اور طبرانی وغیرہ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ روایت کیے ہیں کہ: ’’اگر علم ثریا نامی ستارے تک بھی پہنچ جائے تو اہل فارس کے کچھ لوگ اسے حاصل کرکے رہیں گے۔‘‘

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے وہ شاگرد جو محدثِ وقت بنے ان کے بارے میں چند اشارے اور جملے سپرد قلم کر رہا ہوں جس سے اِمام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی عظمت کا مزید پتا لگایا جاسکتا ہے۔

امام یحییٰ بن سعید قطان رحمۃ اللہ علیہ :

فن رجال کا سلسلہ ان ہی سے شروع ہوا۔ علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ فنِ رجال میں اول جس شخص نے لکھا وہ یحییٰ بن سعید القطان پھر ان کے بعد ان کے شاگردوں میں یحییٰ بن المدینی، علی بن المدینی، امام احمد بن حنبل، عمر و بن علی اور ابوخیثمہ نے اس فن میں گفتگو کی اور اْن کے بعد ان کے شاگردوں یعنی امام بخاری مسلم وغیرہ نے۔

حدیث میں ان کا یہ پایہ تھا کہ جب حلقۂ درس میں بیٹھتے تو امام احمد بن حنبل، علی ابن المدینی وغیرہ مؤدب کھڑے ہو کر ان سے حدیث کی تحقیق کرتے اور نمازِ عصر سے جو ان کے درس کا وقت تھا مغرب تک برابر کھڑے رہتے۔ راویوں کی تحقیق و تنقید میں یہ کمال پیدا کیا تھا کہ ائمہ حدیث عموماً کہا کرتے تھے کہ یحییٰ جس کو چھوڑ دیں گے ہم بھی اْس کو چھوڑ دیں گے۔ امام احمد بن حنبل کا مشہور قول ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے یحییٰ کا مثل نہیں دیکھا۔ اس فضل و کمال کے ساتھ امام ابو حنیفہ کے حلقۂ درس میں اکثر شریک ہوتے اور ان کی شاگردی پر فخر کرتے۔ اس وقت تک تقلید معین کا رواج نہیں ہوا تھا تاہم اکثر مسائل میں وہ امام صاحب ہی کی تقلیدکرتے تھے۔ خود اُن کا قول ہے کہ ہم نے امام ابو حنیفہ کے اکثر اقوال اخذ کیے ہیں ۔ علامہ ذہبی نے تذکرۃالحفّاظ میں جہاں وکیع بن جراح کا ذکر کیا ہے وہاں لکھا ہے کہ وکیع، امام ابو حنیفہ کے قول پر فتویٰ دیتے تھے آپ 135ھ میں پیدا ہوئے اور 198ھ میں بمقام بصرہ وفات پائی۔

امام عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ:

محدث نووی نے’’ تہذیب الاسماء واللغات‘‘ میں آپ کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: ’’وہ امام جس کی امامت و جلالت پر ہر باب میں عموماً اجماع کیا گیا ہے جس کے ذکر سے خدا کی رحمت نازل ہوتی ہے جس کی محبت سے مغفرت کی اْمید کی جاسکتی ہے۔‘‘

حدیث میں جو آپ کا پایہ تھا اس کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ محدثین اُن کو ’’ امیر المؤمنین فی الحدیث‘‘ کے لقب سے پکارتے تھے۔ ایک موقع پر ان کے شاگردوں میں سے ایک شخص نے ان سے خطاب کیا کہ اے عالم المشرق! امام سفیان ثوری جو مشہور محدث ہیں اس موقع پر موجود تھے بولے کہ ’’کیا غضب ہے عالم مشرق کہتے ہو وہ عالم المشرق والمغرب ہیں۔ امام احمد بن حنبل کا قول ہے کہ عبداللہ بن مبارک کے زمانہ میں ان سے بڑھ کر کسی نے حدیث کی تحصیل میں کوشش نہیں۔

صحیح بخاری و مسلم میں ان کی روایات مروی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ وہ فن روایت کے بڑے راویوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ حدیث وفقہ میں ان کی بہت سی تصنیفات ہیں ۔ آپ ’’مرو‘‘ کے رہنے والے تھے 118ھ میں پیدا ہوئے اور 181ھ میں مقام ہیٔتمیں وفات پائی۔

امام یحییٰ بن زکریا ابی مائدہ رحمۃ اللہ علیہ:

آپ معروف محدث تھے۔ علامہ ذہبی نے تذکرۃ الحفّاظ میں صرف ان لوگوں کا تذکرہ کیا ہے جو حافظ الحدیث کہلاتے تھے۔ چنانچہ یحییٰ کو بھی انہی لوگوں میں داخل کیا ہے اور ان کے طبقہ میں سب سے پہلے انہی کا نام لکھا ہے۔ علی بن المدینی جو امام بخاری کے مشہور استاد ہیں، کہا کرتے تھے کہ یحییٰ کے زمانے میں یحییٰ پر علم کا خاتمہ ہوگیا۔

صحاح ستہ میں ان کی روایت سے بہت سی حدیثیں ہیں وہ محدث و فقیہ دونوں تھے اور ان دونوں فنون میں بہت بڑا کمال رکھتے تھے۔ آپ امام ابو حنیفہ کے اجل تلامذہ میں سے تھے اور مدت تک ان کے ساتھ رہے آپ تدوین فقہ میں امام ابو حنیفہ کے معاون تھے۔ امام طحاوی نے لکھا ہے کہ وہ تیس برس تک شریک رہے۔ آپ کا وصال 183ھ میں 63 برس کی عمر میں مدائن کے مقام پر ہوا۔

امام وکیع بن جراح رحمۃ اللہ علیہ:

آپ فن حدیث کے امام شمار کیے جاتے ہیں۔ امام احمد بن حنبل کو ان کی شاگردی پر فخر تھا چنانچہ جب وہ اُن کی روایت سے کوئی حدیث بیان کرتے تو اِن لفظوں سے شروع کرتے تھے:’’یہ حدیث مجھ سے اس شخص نے روایت کی کہ تیری آنکھوں نے اُن کا مثل نہ دیکھا ہوگا۔‘‘

یحییٰ بن معین جو فنِ رجال کے امام ہیں ان کا قول تھا کہ میں نے کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جس کو وکیع پر ترجیح دوں۔ اکثر ائمہ حدیث نے ان کی شان میں اِس قسم کے الفاظ لکھے ہیں:’’بخاری و مسلم میں اکثر ان کی روایت سے حدیثیں مذکور ہیں۔ فنِ حدیث و رجال کے متعلق ان کی روایتیں نہایت مستند خیال کی جاتی ہیں۔ آپ کا وصال 197ھ میں ہوا۔‘‘

امام داودطائی رحمۃ اللہ علیہ:

صوفیا آپ کو بڑا مرشد کامل مانتے ہیں۔ تذکرۃالاولیاء میں ان کے مقاماتِ عالیہ مذکور ہیں۔ فقہاء اور خصوصاً فقہائے حنفیہ ان کے تفقہ اور اجتہاد کے قائل میں۔ محارب بن دثار جو معروف محدث تھے کہا کرتے تھے کہ داوٗد اگر پچھلے زمانہ میں ہوتے تو خدا قرآن مجید میں ان کا قصہ بیان کرتا۔ آپ نے ابتداء میں فقہ و حدیث کی تحصیل کی۔ پھر علم کلام میں کمال پیدا کیا اور بحث و مناظرہ میں مشغول ہوئے۔ تاہم تحصیل علم کا مشغلہ جاری رکھا۔ امام محمد کا بیان ہے کہ میں داود سے اکثر مسئلے پوچھنے جاتا۔ اگر کوئی ضروری مسئلہ ہوتا تو بتا دیتے ورنہ کہتے کہ بھائی مجھے اور ضروری کام ہیں۔

آپ کا شمار امام اعظم حضرت ابو حنیفہ کے مشہور شاگردوں میں ہوتا ہے۔خطیب بغدادی ، ابن خلکان علامہ ذہبی اور دیگر مؤرخین نے جہاں ان کے حالات لکھے ہیں وہاں امام ابوحنیفہ کی شاگردی کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا ہے۔ تدوین فقہ میں بھی آپ امام ابو حنیفہ کے شریک تھے اور اس مجلس کے معزز رکن بھی تھے۔آپ کا وصال 160ھ میں ہوا۔

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دیگر معروف شاگردوں میں قاضی امام ابو یوسف،امام محمد ،امام زفر،امام اسد بن عمر، عافیہ الازدی، قاسم بن معن، علی بن مسر، حبان، بھی خاصے مقبول و معروف ہوئے۔دین اسلام کی نشونما اور تدوین فقہ کے لیے امام اعظم ابو حنیفہ کی خدمات عالیہ اظہر من الشمس ہیں۔ آپ کے شاگردوں اور تلامذہ نے بھی اس ضمن میں چراغ سے چراغ روشن کیا ہے اور ایمان کی حرارت اور روشنی کو اجاگر کرنے میں آپ کے شاگردوں اور تلامذہ کی خدمات صدقہ جاریہ سے کم نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالم اِسلام کے مسلمان حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کی علمی، دینی، فقہی خدمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے معاشرہ میں دین متین کی سرفرازی کے لیے کمر بستہ ہوجائیں تاکہ مسلمان اپنا کھویا ہوا وقار اور عظمت رفتہ کو دوبارہ حاصل کرنے میں بامراد ہوسکیں۔

Rate this item
(2 votes)
Rate this item
(2 votes)
Rate this item
(2 votes)
Rate this item
(2 votes)

شادی اور جہیز کی گرانی

مولوی ابوسفیان

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے دعویٰ مسلمانی کرکے اصول اسلام کا لحاظ نہیں رکھا۔ اسلام قبول کرنے کی وجہ سے ہم پر جو ذمہ داریاں لاگوہوتی ہیں ان کا پاس نہیں کرتے ۔ جو شخص بھی حلقہ اسلام میں آیاہے اس پر لازم ہے کہ اپنی کامیابی کے لیے اسلامی تعلیمات کومشعل راہ سمجھے مگر ہمارا معاملہ اس سے جداہے ہم مذہب کو چند چیزوں تک محدود سمجھتے ہیں کہ مذہب اسلام عملی میدان میں چند چیزوں کانام ہے ٭نماز قائم کرنا٭ رمضان کے روزے رکھنا ٭استطاعت مطلوبہ عند الشرع کے پائے جانے کے وقت حج اداکرنا اور نصاب کی صورت میں زکوۃ اداکرنا اور بس پھر اس میں بھی اپنی مرضی کو دخیل سمجھتے ہیں حالانکہ معاملہ یوں نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے یہ صرف انہی چند چیزوں میں محصور نہیں بلکہ مہد سے لے کر لحد تک اطاعت رسول کا نام اسلام ہے اسلام پر رہتے ہوئے کسی مسلمان کیلیے بھی ذرابرابربھی زندگی گزارنا مشکل نہیں اس میں جو مشکلات آتی ہیں وہ دراصل اپنی طرف سے اسلام میں داخل کی ہوئی اشیاء کی وجہ سے ہیں پھر ہمارے اضمحلال روحانی کا یہ حال ہے کہ ان چیزوںکو ہمارا بعض طبقہ تو رسم جانتا اور کہتاہے۔ لیکن پھر بھی عمل کرنے کو لازمی سمجھتا ہے اور بعض طبقہ انکو جزو اسلام سمجھتاہے اور دین کے ضروری اجزاء سے بھی ان کو اشد ضروری اور زیادہ با حیثیت خیال کرتاہے حالانکہ یہ دونوں غلط ہیں کیونکہ شریعت کی جانب سے یہ اشیاء ضروری نہیں ان رسومات میں ایک رسم جہیز میں گرانی ہے جس کی وجہ سے میری بہت سے بہنوں کی جوانی بڑھاپے تک پہنچ گئی اور کئی گھر خوشیوںسے محروم ہوگئے سینکڑوں خاندان غموں کا سامان بن گئے اس رسم بد کا اثر صرف جنس انسانی کی ایک حیثیت یعنی عورت پر نہیں ہوا بلکہ دوسری جہت مرد بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی اس وجہ کئی جوان بھی راستہ امن سے ہٹ کر طریق ضلالت وگمراہی پر لگ گئے ۔اے مسلمان! اگر تواسلام پر عمل پیرا رہتااور ان غیرضروری چیزوں کو درجہ فرض وواجب تک نہ لے جاتا اور جیسے اس امت کے اول طبقہ نے ان خوشیوں کوسرانجام دیا ایسے تو نبھاتا توآج میری ماں بیٹی کی رخصتی کے وقت پریشان نہ ہوتی اور تیرے گھر ان خوشیوں کے اوقات میں بھی سراپا غم کدہ نہ ہوتا اور تیرے منہ سے یہ برے کلمات نہ نکلتے کہ اسلام پر عمل کرنا مشکل ہے بلکہ تو یوں کہتا کہ رسم ور رواج کا پابند ہونا کئی مشکلات کو جنم دیتاہے آج میری بہنیں اور بیٹیاں اپنے مقام ومرتبہ کے لحاظ سے ثریا تک کیوں نہ پہنچ جائیں مگر ان کامقام فاطمۃ الزہرا سے نہیں بڑھ سکتا۔ آج میں اپنی مائوںسے اور خاندان کے سرپرستوں سے یہ التماس کرتاہوں کہ وہ اپنی خوشی اور غمی میں اسلام کے ان درخشاں اشخاص کو نمونہ بنائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ کی رخصتی کس طرح کی؟ کیاجہیز دیا؟کتنے لاکھ مہر مقرر ہوا ؟ آپ اگر چاہتے تو پوری دنیا فاطمۃ الزھرا کی گود میں لارکھتے، خدمت کے لیے باندیاں دینا چاہتے تو دے سکتے تھے رہائش کے لیے کوٹھی اور پہننے کے اعلیٰ ریشم کھانے پینے کے عمدہ انتظام یہ سب کچھ کر سکتے تھے مگر ایسی سادگی اختیار کر کے امت کو سبق دے دیاکہ شادیوںمیں میانہ روی رکھیں ۔

Rate this item
(5 votes)

DARULIFTA

Visit: DARUL IFTA

Islahun Nisa

Visit: Islahun Nisa

Latest Items

Contact us

Markaz Ahlus Sunnah Wal Jama'h, 87 SB, Lahore Road, Sargodha.

  • Cell: +(92) 
You are here: Home Islamic Articles (Urdu)

By: Cogent Devs - A Design & Development Company