AhnafMedia

Articles Urdu

Articles Urdu (280)

Rate this item
(1 Vote)

تعلیمی نظام پر توجہ دینے کی ضرورت

نعیم اللہ چترالی

تاریخ کے دریچوں میں جھانک کراگر قوموں کے عروج و زوال کی داستان کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ امر واضح ہوجاتاہے کہ جن قوموں نے اپنی تعلیمی معیار کو بلند کیا وہ کامیابی و کامرانی سے ہم کنار ہوئے اور ترقی کی معراج کو پہنچ گئے تعلیم جہاں ملک کے معاشی مسائل کے سدِ باب کا ذریعہ ہے وہاں معاشرتی خرابیوں اور اخلاقی بے راہ رویوں کی روک تھام کی بھی ضامن ہے آج ستاروں پر کمندیں ڈالنے والی اور طاقت کے بل بوتے پر دنیا کو اپنی مٹھی میں لینے کا ارادہ رکھنے والی مغربی قوم کی ترقی کا راز صرف اور صرف تعلیم ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ تعلیم کی اہمیت کے پیش نظر جتنی توجہ اس پر دینے کی ضرورت تھی ہم نے اس کو اتنا ہی نظر انداز کیا ۔اپنے تعلیمی ادروں کی اصلاح پر توجہ دی اور نہ ہی پورے ملک کے لیے یکساں اور معیاری نصاب تعلیم تشکیل دینے پر غور کیاملک کا تعلیم کے لیے مختص بجٹ ایک علمی فضا اور ماحول پید اکرنے کے لیے ناکافی ہے اور اس بجٹ کا بھی بڑا حصہ صحیح مصرف پر خرچ ہونے کے بجائے ان رہزنوں کی جھولی میں چلاجاتاہے جن کو ہم ملک کی تقدیر بدلنے کے لیے اپنے اوپر مسلط کر رکھا ہے اگر آج ہم اسلامی فلسفہ تعلیم کی بنیاد پر معیاری اور یکساں نظام تعلیم تشکیل دیں اور تعلیمی اداروں کی ترقی پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ ان اداروں میں پڑھنے والے طلبہ کی دینی وا خلاقی تربیت کا بھی خاص انتظام کریں جو کل ان اداروں سے پڑھ کر فارغ ہونے والی نوجوان نسل ملک کی ڈوبتی نائو کو بھنور سے نکالنے میں بھر پور کردار اداکرسکتی ہے۔

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر قوم کانصاب تعلیم اس کی تہذیب وثقافت اور اس کے مذہبی اقدار وروایات کو ملحوظ رکھ کر ہی ترتیب دینے سے وہ قوم اس سے پوری طرح مستفید ہوسکتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں شروع ہی سے اس امر کا خیال نہیں رکھا گیا کلمہ توحید کے نام پر بننے والے اس ملک میں اسلامی فلسفہ تعلیم کی بنیاد پر ایک یکساں اور معیاری نظام تعلیم تشکیل دینے کے بجائے لارڈ میکالے کانظام تعلیم کو ہمارے اوپر مسلط کرکے نہ صرف اس کی حوصلہ افزائی کی گئی بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اب تک اس کو جاری رکھا جا رہا ہے ۔اور اس میں بہتر تبدیلی کی سوچ رکھنے والوں کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں ۔ جس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارا نوجوان تعلیمی ادارے سے پڑھ کر فارغ ہونے کے بعد ملک کے خدمت کے جذبے سے سر شار ہونے کی بجائے کسی طریقے سے ملک کو لوٹنے کیلیے سرگرم عمل نظر آتاہے۔

پورے ملک میں سب کے لیے یکساں نظام تعلیم کے فقدان سے کئی مسائل پیدا ہوچکے ہیں معاشرے کا مال دار طبقہ اپنی دولت کے بل بوتے اپنی اولاد کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرسکتاہے لیکن خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے 40فیصد عوام کا اپنی اولاد کو اعلیٰ تعلیم یافتہ بنانے کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔جس سے غریب ؛ غربت کی چکی میں مسلسل پستا جارہاہے اور امیر روز بروز امیر تر ہوتاجا رہا ہے ۔ علاوہ ازیں معاشرے کے ذہین وفطین نوجوانوں کی کثیر تعداد سے ملک فائدہ نہیں اٹھاسکتا۔ کیونکہ یہ بات تاریخی شواہد سے ثابت ہے کہ امیروں کی بہ نسبت غریب لوگوں کے بچے زیادہ ذہین ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ چین میں ماوزے تُنگ کے انقلاب سے پہلے امیر لوگ غریبوں کی اولاد کو اپنے خرچے سے تعلیم دے کر بڑی بڑی پوسٹوں پر ان کی تقرری کراتے تھے اور ان کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے تھے ۔

چنانچہ ہمارے معاشرے میں ان نوجوانوں کی کمی نہیں جو اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل ہونے کے باوجود معاشرتی مسائل کی وجہ سے تعلیم سے محروم ہیں غریبوں کے بچے بچپن کی معصوم شوخیوں سے لطف اندوز ہونے سے پہلے ہوٹلوں میں کام کرنا شروع کرتے ہیں سٹرکوں پر ٹھیے لگا کر نان شبینہ کے لیے جتن کررہے ہوتے ہیں۔کسی بھی ملک کے تعلیمی ادارے وہ واحد تربیت گاہیں ہوا کرتے ہیں جہاں انسان اخلاق حسنہ سے آراستہ وپیراستہ ہوکر معاشرے کا ایک باعزت فرد بن جاتاہے لیکن ہمار ابچہ دھوکہ بازی، فراڈ اور جعل سازی کا پہلا سبق ہمارے تعلیمی اداروں سے ہی سیکھتاہے جس وقت وہ ممتحن کی گرفت سے اپنے آپ کو بچا کر نقل جیسی ہوشیاری میں کامیاب ہوتاہے تو اس وقت اس کے دل و دماغ میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ دھوکہ اور فراڈ ہی کامیابی کا واحد ذریعہ ہے جس کے بغیر کوئی انسان دنیا میں عزت سے نہیں جی سکتا۔

اگر آج ہم تعلیمی اداروں میں اپنے بچوں کی تربیت یہ سوچ کرکریں کہ کل کویہی بچے اس ملک کے سیاہ وسفید کے مالک ہوں گے اور یہی بچے کابینہ اور پارلیمنٹ کے رکن ہوں گے اور مختلف وزارتوں کے قلم دان سنبھال کر اہم ملکی امور کافیصلہ کریں گے تو ہمارا ملک کرپشن ،رشوت ،بدامنی، فساد اور دہشت گردی جیسے مسائل سے نجات پاکر حقیقی آزادی، خود مختار اورپرامن ریاست بن کر دنیا کے نقشے پر ابھر سکتاہے۔

Rate this item
(5 votes)

یہاں پگڑیا ں اچھلتی ہیں

علامہ عبدالغفار ذہبی

قارئین ہم نے بدنام زمانہ مشہور دجال کذاب زبیر علی زئی مماتی رجسٹرڈ اہلحدیث غیرمقلد کے 100سو جھوٹ ٹھوس حوالہ جات سے پیش کیے توان کے باحوالہ صحیح جوابات دینے سے علی زئی خصوصاً اور ندیم ظہیر غیرمقلد عموما ًقاصر رہے ۔تقریبا ًچار سال کے بعد علی زئی اور ان کا ایک چیلہ جاہل بوتل فروش زبیر نامی غیرمقلد نے ان صحیح ویقینی حقیقی جھوٹوں کا جواب دینے کی ناکام کوشش کی ہے جو سچ کو جھوٹ قرار دینے کا عظیم شاہکار ہے۔

ہم قافلہ حق اورماہنامہ الحدیث کے قارئین سے التماس کرتے ہیں کہ وہ دونوں کا مکمل مضمون پڑھیں اور پھر فیصلہ فرمائیں !!!کیا ہمارے سچے اور ٹھوس حوالہ جات کا یہ جواب بن سکتاہے یا نہیں ؟؟؟ جیساکہ ہم نے حضرومیں بذریعہ اشتہار چیلنج دیاتھا اور خود تحریر لکھ کر دستخط بھی کر دیے تھے مگر علی زئی جیسے کذاب کو جرأت نہیں ہوئی کہ وہ چیلنج قبول کرکے انعام وصول کرتا۔ اس سے پہلے بھی ندیم ظہیر نے ’’کچھ‘‘ لکھا تھا ۔ الحمدللہ! ہم نے ان کا دندان شکن جواب دیاپھر اس کو آج تک جرأت نہیں ہوئی ہم اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اسی جاہل بوتل فروش زبیر غیرمقلد کے لگائے گئے جھوٹے الزام’’100جھوٹ ‘‘کاتحقیقی جواب پیش کرتے ہیں اوراس کی حقیقت دجل وتلبیس کا پردہ چاک کرتے ہیں اور فیصلہ قارئین کرام خود فرمائیںگے ۔وباللہ التوفیق

عبارت نمبر۱: زبیر بوتل فروش جاہل غیرمقلد نے لکھاکہ ’’عبدالغفار دیوبندی کے100 جھوٹ عبدالغفار دیوبندی نے اپنے قافلے(حق)میں…زبیر علی زئی (کے) سو (100) … جھوٹ اکاذیب کے نام سے پیش (کیے)ہمارے اس مضمون میں ان کا دندان شکن پیش خدمت ہے ۔ اعتراض نمبر1تا9عبدالغفار نے جھوٹے الزامات کی فہرست بنائی ہے اس میں ایک سے لے کر 9 تک صحیح بخاری میں متابعت کی بات دھرائی ہے۔ (الحدیث شمارہ نمبر80ص8)

تنبیہ: اولاً : ملاں علی زئی مماتی غیرمقلد رجسٹرڈ اہلحدیث نے لکھاکہ’’ صحیح بخاری میں راویوں کی دو طرح کی روایات ہیں۔

(۱) اصول میں (۲) شواہد و متعابعات میں

اس میں قسم اول کے راوی بلاشبہ ثقہ و حجت ہیں اور ان کی روایات صحیح ہیں بشرطیکہ ان میں شذوذ یا علت قادحہ نہ ہو۔ مگر قسم ثانی کی تمام روایات کو صحیح قراردیناغلط ہے۔

(نورالعینین ص182 ط 2002ء ؛ص176، 177 ئ2004 وغیرہ)

وثانیا ً: ملا ںعلی زئی مماتی غیرمقلد رجسٹرڈ اہلحدیث نے لکھاکہ[ علی بن الجعد اور صحیح بخاری ]

(۱) میرے علم کے مطابق اس کی صحیح بخاری میں فقط چودہ احادیث ہیں۔

(۲) مختصر یہ ہے کہ صحیح بخاری میں علی بن الجعد کی تمام روایات متابعات میں ہیں۔ پھر علی زئی نے ان چودہ احادیث کاتفصیلی نقشہ بیان کیا اور یوں لکھاکہ :

علی بن الجعد کی حدیث بخاری، ج1ص13ح53تابعہ غندر عندہ دیکھیے:

(امین اوکاڑوی کا تعاقب ؛ علی زئی ص66 )

تحقیقی جائزہ: اولاً: اہل علم وبصیرت سے گزارش ہے وہ ذرا غور فرمائیں۔علی زئی نے جو یوں لکھا کہ(تابعہ غندر عندہ)حالانکہ ’’تابع ‘‘فعل ’’ہ ‘‘ ضمیر منصوب متصل(راجع بسوائے علی بن الجعد)اس کا مفعول بہ اور غندر اسم ظاہر تابع فعل کا فاعل ہے۔ اگر علی زئی علوم قرآن وسنت وفقہ توکیا فقط نحو وصرف سے پورا واقف ہوتا تو نحوی ترکیب سے ہی تابعہ غندر کا معنی مطلب سمجھتا۔ اس یعنی علی بن الجعد کی غندر نے متابعت کی ہے اور پھر تابعہ غندر نہ لکھتا بلکہ تابعہ علی بن الجعد لکھتا۔

ثانیاً: ہم نے اس کا معنی و مطلب گرائمر عربی کے مطابق علی زئی کو سمجھایا مگر تاحال ان کا جواب نہیں آیا اورنہ قیامت تک اس کا جواب دے سکتاہے جس قوم کے خود ساختہ محدث ومحقق وذھبی دوراں کا علمی مقام یہ ہو پھر علی زئی ایند کمپنی کے ایک بوتل فروش بلکہ ایمان فروش زبیر غیرمقلد کی کیا حیثیت ومقام ہوگا؟ فیصلہ اب قارئین اہل علم وبصیرت کے ہاتھ میں اس علی زئی کے واضح ترین جھوٹ کو بلا دلیل سچ کہنا اور ہمارے سچ کو جھوٹ قرار دینا کسی عالم و اہل علم کاکام نہیں بلکہ ایک بوتل فروش جاہل زبیر غیر مقلد کا ہی کارنامہ ہوسکتاہے فتدبر۔ وللہ الحمد

عبارت نمبر۲: ملاں علی زئی مماتی غیرمقلد نے لکھا: (علی بن الجعد کی حدیث بخاری)

۲: علی بن الجعد ج21ح106۔ تابعہ غندر عند مسلم ج1ص7

(امین اوکاڑوی کا تعاقب؛ علی زئی ص 66)

تحقیقی جائزہ : میں اہل علم وقارئین کرام سے التماس کرتا ہوں جیساکہ اہل علم سے مخفی بھی نہیں ہے اس عربی عبارت کا ترجمہ بالکل واضح ہے کہ امام غندر نے امام علی بن الجعد کی متابعت کی ہے ۔یاد رہے اصولاً بخاری کی روایت اصالۃً ہے اور مسلم کی روایت متابعۃً ہے جب کہ علی زئی سے تصریح کر رکھی ہے کہ صحیح بخاری میں علی بن الجعد کی تمام روایات متعابعات میں ہے۔ لہذا یہ روز روشن کی طرح علی زئی کے جھوٹ کو سچ کہنا اور ہمارے سچ کو جھوٹ قراردینا ملکہ وکٹوریہ کی شیر خوارقوم میں سے کرائے کے کذاب ندیم ظہیر اور بوتل فروش جاہل زبیر کذاب کاہی کام ہوسکتاہے فیصلہ اہل علم وبصیرت اور قارئین کے ہاتھ میں ہے۔ وللہ الحمد

عبارت نمبر۳: ملاں علی زئی مماتی غیرمقلد نے لکھاہے کہ(علی بن الجعد کی حدیث بخاری) ج۱ ص157ح1179(پر موجود کے متعلق لکھا کہ ) تابعہ آدم عندہ(اسی علی بن الجعد کی آدم نے متعابعت کی ہے )

(تعاقب امین اوکاڑوی؛ علی زئی ص66)

تبصرہ: اہل علم وبصیرت توجہ فرمائیں کے اسی عربی عبارت کا ترجمہ کیا ہے یعنی اس علی بن الجعد کی آدم نے متابعت کی ہے اگر زبیر علی زئی دجال کذاب خبیث کو قرآن وسنت فقہ اور علم نحو وصرف کی بصیرت ہوتی تو ایسی جہالت کا ارتکاب نہ کرتا اور یہ جھوٹ نہ لکھتا کیونکہ اس نے تحقیق کے نام پر یوں تصریح کر رکھی ہے کہ ’’علی بن الجعد کی تمام روایت بخاری میں متابعۃًہیں۔‘‘ لہٰذاا س دوپہر کے سورج کی طرح چمکتا علی زئی کے اسی جھوٹ کو سچ کہنا آل وکٹوریہ میں علی زئی مماتی اور ندیم ظہیر اور ایک جاہل بلکہ اجہل بوتل فروش زبیر غیرمقلد کاہی کام ہے ۔قارئین ہمارے ٹھوس حوالہ جات اور سچ کو بلا دلیل جھوٹ کہنا ۔کیا اس کانام دندان شکن جواب ہے ؟؟؟فیصلہ اہل علم وبصیرت کے ہاتھ میں!!! وللہ الحمد

تنبیہ: ملاں علی زئی غیرمقلد رجسٹرڈ اہلحدیث نے امام علی بن الجعد کی باقی گیارہ روایت جو صحیح بخاری میں ہیں کے ساتھ یہ معاملہ کیاہے بلکہ تصریح کی ہے کہ وھذہ فی المتابعات کہ یہ سب کی سب تابعہ والی روایات متابعات میں ہیں جو تحقیقی لحاظ سے واضح ترین جھوٹ ہیں ان کامنہ کالا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اہل علم وبصیرت سے مخفی نہیں کہ تابعہ ضمیر کامرجع کون ہے؟؟؟

قافلہ حق میں ہمارے ٹھوس ثبوت و سچ کو آل وکٹوریہ کے یہ نام نہاد جاہل محقق جھوٹا ثابت کریں یہ اس کے بس میں نہیں ۔قارئین کرام سے گزارش ہے کہ سچ کو جھوٹ کہنا وہ بھی بلا دلیل۔ اسی کانام دندان شکن جواب ہے حقیقت میںیہ سچ شکن جواب ہے۔

عبارت نمبر4: زبیر بوتل فروش جاہل غیرمقلد نے لکھا کہ’’(اصالۃً ومتابعۃً)ان تمام الزامات کاجواب حافظ ندیم ظہیر…نے ماہنامہ الحدیث میں دے دیا اور بتایاکہ حافظ ابن حجر العسقلانی سے دائود بن عبدالرحمن العطار کے بارے میں لکھا ہے امام بخاری نے کتاب الصلوۃ میں بطور متابعت ایک حدیث کے سواان کی کوئی روایت بیان نہیں کی، ثابت ہواکہ عبدالغفارکایہ خود ساختہ فلسفہ باطل ہے کہ پہلے اصالۃً روایت ہی ہوتی ہے پھر متابعۃً (الحدیث شمارہ 80ص8)

تبصرہ: اولااہل علم وبصیرت توجہ فرمائیں جس طرح امام بخاری سے من طریق دائود بن عبدالرحمن العطار عن عمرو الحدیث تخریج کی ہے بخاری ج 1ص 100پھر یہی حدیث من طریق سفیان بن عیینہ عن عمرو الحدیث بخاری ج1ص25پر بھی حدیث ذکر کی ہے اور ان دونوں مقامات پر امام بخاری سے کوئی اصالۃً ومتابعۃً کی تصریح نہیں فرمائی جبکہ حافظ ابن حجر نے صدیوںبعد بلا سند وبلادلیل امام دائود کومتابعت میں قید کر دیا ہے اور بلاشبہ بات عند الغیرمقلدین حجت نہیں وثانیا امام بخاری کا اپنا اسلوب صحیح بخاری میں یوں ہے کہ جوراوی اصالۃً ہے وہ متابعۃ بھی ہے دیکھئے(بخاری ج1ص۸۲۸وج2 ص1100)مگر علی زئی کا یہ کہنابخاری میں راویوں کی روایات دو طرح کی ہے :

نمبر1: اصول نمبر2: شواہد ومتابعات میں

لہٰذا ہمارے اس سچ کو جو جبل احدکی مانند ہے آل وکٹوریہ علی زئی ،ندیم ظہیر وبوتل فروش جاہل زبیر کے بس میں نہیں کہ وہ اس کو رد کر سکیںکیا اسی کانام’’ اصولی جواب‘‘ ہے اور وہ بھی دندان شکن۔ فیصلہ اہل انصاف قارئین کریں گے وللہ الحمد۔

Rate this item
(1 Vote)

اے عشق تیرا شکریہ!!!

مولانا رضوان عزیز

کوئی فطرت کا ہٹیا، دماغ کا مغرور یایوں کہیے جس کی اوپر والی منزل کرایے کے لیے خالی تھی دوران سفر پیدل چلتے ہوئے گاجریں کھارہاتھا اورکھانے کا انداز وہی تھا جسے پنجابی میں کہتے ہیں، رجی مینہ کھنواں دا اجاڑا(بھینس کا پیٹ بھرا ہوا ہوتو پھر کھیت کو برباد کرتی ہے)یہ صاحب بھی شوریدگی بطن کے ہاتھوں وبال پائوں تھے جیسے ابوالکلام آزاد مرحوم نے ایک شعر نقل کیاہے

شوریدگی کے ہاتھوں سرہے وبال دوش

اس صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں ہے

اسی صاحب کے پیٹ میں بھی بہت سا کھانا تھا اب معلوم نہیں ریال تھے یا جہادی اموال۔ بہرحال گاجر کو پکڑتے اپنے مسلکی مونو گرام جس کی پائوں کھول کر باجماعت نمائش کرتے ہیں اس سے ٹکراکر زمیں پر پھینک دیتے کہ اس کی ضرورت نہیں بہرحال جب تمام گاجریں اپنے ناک پرہاتھ رکھ کر طواف کوئے جاناں کے ناخوشگوار فریضے سے فارغ ہوئیں تو جناب کی منزل بھی قریب تھی واپسی پر بھوک نے ستایا تو بے بس ہوکر دل نے کہا:اب وہی دیے جلیں گے تو روشنی ہوگی، جنہیں بے مصروف سمجھ کر سرراہ بجھا دیا تھا مگر وہ تو اب استعمال کے قابل نہ رہی تھیں مگر اب مرتا کیا نہ کرتا گاجر اٹھاتا اور اپنے دل کو سمجھاتاکہ شاید اس گاجرکی ثلاثی مجرد وخماسی مزیدفیہ سے ملاقات نہیں ہوئی اور کھالیتا حتی کہ جتنی گاجریں راستے میں عملا ناپاک کرکے پھینکی تھیں ساری دوبارہ تاویلا پاک کرکے کھالیں ۔

اس مثال کو ذھن میں رکھتے ہوئے عبدالحق بنارسی سابقہ ہندو کے ایجاد کردہ فرقہ کا مطالعہ کریں ان کے افراد سے ملیں تو سب کا یہی مشغلہ نظر آئے گا ہر ایک کو حقارت سے ٹھکراتے جانا اور پھر دوبارہ ضرورت پڑنے پر سینے سے لگاتے جانا۔ اکابر بیزار اس طبقے کی گرگٹ سے مستعار لی ہوئی یہ رنگ بدلنے کی پالیسی آئے دن ہمارے مشاہدے میں رہتی ہے مگر پچھلے دنوں غالبا 13 فروری کو الحمراھال لاہور میں ناموس رسالت کے حوالے سے ایک کانفرنس تھی جس میں میزبانی کے فرائض انٹرنیشنل ختم نبوت کے احباب سرانجام دے رہے تھے اورمختلف مذہبی جماعتوں کے نمائندے اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے کہ اکابر بیزار تحریک کے ایک ذمہ دار شیخ یعقوب نامی شخص سٹیج پر آیااور عجیب بات کہہ دی جب فضیلۃ الشیخ مخدوم مکرم حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی تشریف لائے تو شیخ یعقوب نے کہ الحمدللہ !ہمارے اکابرکی برکت تمہارے اکابرکے ساتھ ہے۔

لجا گئے شرما گئے دامن چھڑا گئے

اے عشق تیرا شکریہ یہاں تک تو آگئے

امیر ہمزۃ اللمزہ بھی یہ سن کر تڑپ گئے اور نذیر حسین دھلوی شیخ الکل فی الکل بالکل کی روح بھی بے قرار ہو گئی ہوگی۔(الشیخ الکل فی الکل اس لیے ہیںکہ اس وقت کے کل اہل حدیثوں کے شیخ یہ تھے اس لیے انہیں شیخ الکل فی الکل کہا جاتاہے)کہ کتنی محنتوںسے ہم نے امت کو اسلاف سے توڑا ہے اکابرین پر تبرہ بازی دشنام طرا زی کے لیے کیمونسٹوں سے زنبورخریدے جس کاقلم الزام تراشی وکذب بیانی میں وحدہ لاشریک ہے جن کی گستاخ زبان اور آوارہ ذوق تحریر سے امام اعظم ابوحنیفہ امام محمد بن حسن شیبانی جیسے اساطین علم محفوظ نہ رہے اکابرین کے خلاف زہر اگلتا یہ فرقہ اچانک کیسے پینترا بدل گیا جن کو قدم قدم پر صرف اس لیے ٹھکرایا تھاکہ اپنا پیٹ خود ساختہ تحقیق سے بھرا ہواتھا ہر میوہ حق ٹھکرادیا آج انہیں میوہ جات کو البرکۃ مع اکابر کم کے نام سے اٹھا رہے ہیںصر ف یہ ہی نہیں کہ برکات کو تسلیم کیا بلکہ علمائے دیوبند جن کے خلاف ان کی زہر افشانیاں کسی سے مخفی نہیں ہیں اوران کا زنبور حقیقتا زبیر اسما اپنے الحدث میں اہل حق کے خلاف ہوائیں چھوڑتا رہتاہے کہ علمائے دیوبند کے عقائد کفریہ شرکیہ ہیں مگر شیخ یعقوب مناظر اسلام مولانا منظور احمد چنیوٹی کو بڑے عمدہ الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے۔

انہیں مناظر اسلام فخر علماء قاطع مرزائیت جیسے القاب سے نوازتاہے اب معلوم نہیں واقعی بھوک نے ساری گاجریں اٹھانے پر مجبور کردیاہے یا اپنے ہم نظریہ روافض سے تقیہ کی چادر خرید لی کہ جب اہل حق کے پروگرامز میں جانا ہوتوانہیں شیخ الاسلام، حجۃ اللہ فی الارض وغیرہ کے ناموں سے موسوم کرو اور جب خالص اپنا جلسہ یا کانفرنس ہوتو انہیں خوب بے نقط سنائو۔اسی دورخی پالیسی کوکیانام دیاجائے۔کہنے کو توبہت کچھ ہے اس فرقہ کے خبث باطن و لطافت ظاہر سے دل بینارکھنے والے تو واقف ہیں مگر شاید یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری حرکتوں پر کسی کی نظر نہیںہے۔

دل آزردہ شوی ورنہ سخن بسیار است

Rate this item
(1 Vote)
Rate this item
(6 votes)
Rate this item
(2 votes)
Rate this item
(13 votes)

فقہ حنفی کے چند اہم مسائل اور احادیث مبارکہ

مولانامحمد کلیم اللہ

وحدانیات : امام اعظم کی وہ روایات جن میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تک صرف ایک واسطہ ہو ان روایات کو بھی ایک جگہ جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، اس سلسلہ میں بعض تفصیلات حسب ذیل ہیں : ٭جزء مارواہ ابوحنیفۃ عن الصحابۃ٭جامع ابومعشر عبدالکریم بن عبدالصمد شافعی ۔ امام سیوطی نے اس رسالہ کو تبییض الصحیفہ فی مناقب الامام ابی حنیفہ میں شامل کردیا ہے ، چنداحادیث قارئین ملاحظہ فرما چکے ۔٭ الاختصار والترجیح للمذہب الصحیح۔ امام ابن جوزی کے پوتے یوسف نے اس کتاب میں بعض روایات نقل فرمائی ہیں۔ دوسرے ائمہ نے بھی اس سلسلہ میں روایات جمع کی ہیں۔مثلا:٭ ابو حامد محمد بن ہارون حضرمی ٭ ابوبکر عبدالرحمن بن محمد سرخسی ٭ ابوالحسین علی بن احمد بن عیسی ۔ان تینوں حضرات کے اجزاء وحدانیات کو ابو عبداللہ محمد دمشقی حنفی المعروف بابن طولون نے اپنی سند سے کتاب الفہرست الاوسط میں روایت کیا۔

یہ جو عام طور پر کہا جارہا ہے کہ فقہ ؛قرآن وسنت کے مخالف اور متصادم الگ دین ہے اہل اسلام کی اکثریت میں فرقہ اہل حدیث شکوک وشبہات اور وساوس پیدا کر رہا ہے اور اہل السنت والجماعت سے وابستہ افراد کو صراط مستقیم سے بہکانے کے لیے صبح وشام یہ محنت جاری رکھے ہوئے ہے کہ ’’محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت ابو حنیفہ کی فقہ سے بالکل مختلف ہے اور ابو حنیفہ کی مزعومہ فقہ میں درج شدہ مسائل خصوصا ًنماز (جس طریقہ پر احناف ادا کرتے ہیں )جیسی اہم عبادت ثابت نہیں ہے ۔‘‘

مجھے اس بات پر بہت تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ کیسے اتنے بڑے بڑے اکاذیب کو ہضم کر جاتے ہیں۔ ذیل میں ہم ان شاء اللہ چند ایک اہم مسائل پر اہل السنۃ والجماعۃ (احناف ) کے دلائل احادیث مبارکہ پیش کرتے ہیں جن کے بارے میں فریق مخالف اس بھول میں ہے کہ ان مسائل مہمہ میں احناف کا احادیث سے دامن خالی ہے امید ہے کہ آئندہ منفی پروپیگنڈہ کرنے سے پہلے فریق مخالف سوچنے پر مجبور ہو گا۔ طوالت کا خوف دامن گیر ہے ورنہ اپنی کچھ گزارشات اس فرقہ کے مسائل پر بھی عرض کر دیتا …چلیں پھر کبھی سہی …!!! پہلے مسئلے کا اصطلاحی نام ہے :

مسئلہ تحت السرہ

یعنی ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا :

اہل السنت والجماعت احناف نماز ادا کرتے وقت اپنے ہاتھ ناف کے نیچے باندھتے ہیں جبکہ فرقہ اہل حدیث سینے پر باندھتے ہیں اور ساتھ ہی کہتے ہیں کہ حنفی طریقہ نماز حدیث کے مطابق نہیں قارئین اہل السنت والجماعت کے اس بارے میں احادیث کی روشنی میں دلائل کیا ہیں ؟؟ملاحظہ فرمائیں!!

عن وائل بن حجررضی اللہ عنہ قال : رایت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضع یمینہ علی الشمال فی الصلٰوۃ تحت السرۃ۔

ترجمہ : حضرت وائل بن حجررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھے ہوئے تھے ۔

عن علی رضی اللہ عنہ قال : ان من السنۃ فی الصلٰوۃ وضع الاکف علی الاکف تحت السرۃ۔

ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز میں سنت یہ ہے کہ اپنے (دائیں)ہاتھ کو (بائیں) ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھا جائے ۔

عن انس رضی اللہ عنہ قال ؛ ثلاث من اخلاق النبوۃ، تعجیل الافطار و تاخیر السحور ووضع الید الیمنی علی الیسری فی الصلٰوۃ تحت السرۃ۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ تین چیزیں نبوت کے اخلاق میں سے ہیں 1:روزہ جلدی افطار کرنا۔2: سحری دیر سے کرنا ۔3:نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں پر ناف کے نیچے رکھنا۔

مسئلہ ترک قراۃ خلف الامام

اس کے بعد دوسرا اہم مسئلہ اما م کے پیچھے قرات نہ کرنے کا ہے۔اہل السنت والجماعت احناف کا موقف قرآن وسنت کی روشنی میں یہ ہے کہ امام کی قرات کے وقت مقتدی خاموشی سے سنتا رہے جبکہ فرقہ اہل حدیث کا نظریہ یہ ہے کہ امام کے پیچھے قرات کرنی چاہیے اور جو شخص امام کے پیچھے قرات نہیں کرتا اس کی نماز نہیں ہوتی ۔قارئین !آئیے اس مسئلہ کی حقیقت جانتے ہیں کہ جیسا فرقہ اہل حدیث کے لوگ کہتے ہیں ویسے ہی ہے یا قرآن وسنت میں امام کے پیچھے خاموشی اختیار کرنے کا حکم ہے ؟؟؟ملاحظہ فرمائیں !!

واذا قری القرآن فاستمعوا لہ و انصتوا لعلکم ترحمون o

ترجمہ : جب قرآن پڑھا جائے تو غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔

عن محمد بن کعب القرظی قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اذا قرأ فی الصلٰوۃ اجابہ من ورآئہ ان قال بسم اللہ الرحمن الرحیم قالوا مثل ما یقول حتی تنقضی الفاتحۃ والسورۃ فلبث ما شاء اللہ ان یلبث ثم نزلت واذا قری القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون فقرا ء وانصتوا۔

ترجمہ : حضرت محمد بن کعب قرظی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز میں قرأت کرتے تھے تو مقتدی بھی آپ کے پیچھے پیچھے قرات کرتے تھے ۔ چنانچہ جب آپ بسم اللہ الرحمن الرحیم کہتے تو مقتدی بھی اسی طرح کہتے یہاں تک کہ سورۃ فاتحہ اور دوسری سورت ختم ہو جاتی ۔ یہ معاملہ جب تک اللہ تعالی نے چاہا ،چلتا رہا ۔ پھر آیت واذا قری القرآن… نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرأت کرتے تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خاموش رہتے تھے ۔

قال العلامۃ ابن تیمیہ: وقول الجمھور ھو الصحیح فان اللہ سبحانہ و تعالی قال و اذا قری القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون قال احمد اجمع الناس علی انھا نزلت فی الصلوۃ۔

ترجمہ : علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :’’جمہور حضرات کا قول صحیح ہے کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے امام احمدرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ آیت واذا قری القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحموننماز کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ ‘‘

عن ابی ہریرۃ قال ؛ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انما جعل الامام لیؤتم بہ فاذا کبر فکبروا واذا قرأ فانصتوا واذا قال غیر المغضوب علیہم ولا الضآلین فقولوا آمین۔

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ امام اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اتباع کی جائے ۔ جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو۔ جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو اورجب غیر المغضوب علیہم ولا الضالین کہے تو تم آمین کہو۔ ‘‘

امام کی قرأت ہی مقتدی کی قرأت ہے :

عن جابر رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم من کان لہ امام فقرائۃ الامام لہ قراء ۃ۔

ترجمہ: حضرت جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو تو امام کی قراء ۃ ہی اس کی قرات ہے ۔ ‘‘

مسئلہ آمین بالسر

نماز میں آمین آہستہ آوازسے کہنا :

اس کے بعد ایک اور اہم مسئلہ ہے امام ، مقتدی اور منفرد کا آمین آہستہ کہنا:اہل السنت والجماعت احناف کے ہاں نماز میں آمین آہستہ کہنی چاہیے جبکہ فرقہ اہل حدیث بضد ہے کہ آمین زرو سے کہی جائے اور ہم اہل السنت والجماعت کو مخالفت حدیث کا طعنہ دیتے ہیں ۔کیا اہل السنت والجماعت کا یہ مسئلہ حدیث کے مخالف ہے ؟؟؟نہیں! بلکہ ہمارے دلائل ملاحظہ فرمائیں !!!

عن وائل بن حجر رضی اللہ عنہ قال انہ صلی مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فلما قراء غیر المغضوب علیہم ولا الضالین قال آمین خفض بھا صوتہ۔

ترجمہ: حضرت وائل بن حجررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے غیر المغضوب علیہم ولا الضالین کہا تو آمین آہستہ آواز سے کہا۔

عن ابی وائل قال : کان عمر و علی رضی اللہ عنھما لا یجھران ببسم اللہ الرحمن الرحیم ولا بالتعوذ ولا بالتامین۔

ترجمہ : حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بسم اللہ الرحمن الرحیم ، تعوذ اور آمین اونچی آواز میں نہیں کہتے تھے ۔

عن ابراہیم قال خمس یخفین، سبحانک اللھم و بحمدک والتعوذ و بسم اللہ الرحمن الرحیم و آمین و اللھم ربنا لک الحمد۔

حضرت ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ پانچ چیزیں آہستہ آواز میں کہی جائیں۔ سبحانک اللھم و بحمدک، تعوذ ، بسم اللہ الرحمن الرحیم ، آمین اور اللھم ربنا لک الحمد۔

مسئلہ ترک رفع الیدین

اس کے بعد ایک معرکۃ الاراء مسئلہ ہے جو آج کل بہت اچھالا جارہا ہے اور ایک ہی رٹ ہے کہ رفع یدین کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ قارئین آپ مندرجہ ذیل دلائل سے اندازہ لگائیں کہ کیا ان احادیث کے بعد بھی کہا جا سکتا ہے کہ ترک رفع یدین پر دلائل نہیں ہیں ؟؟؟نہیں بلکہ ایسے براہین ہیں کہ جو فرقہ اہل حدیث کے اس باطل زعم کو توڑ کر رکھ دیتے ہیں ۔ملاحظہ فرمائیں !!!

رکوع میں جاتے اور اٹھتے وقت رفع یدین نہ کرنا:

اللہ تعالی کا فرمان ہے :قد افلح المومنون الذین ھم فی صلٰوتھم خاشعون۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : مخبتون متواضعون لا یلتفتون یمیناً ولا شمالاً ولا یرفعون ایدیھم فی الصلوۃ ۔

ترجمہ: ’’خاشعون ‘‘سے مراد وہ لوگ ہیں جو عاجزی و انکساری سے کھڑے ہوتے ہیں ، دائیں بائیں نہیں دیکھتے اور نہ ہی نماز میں رفع یدین کرتے ہیں۔ حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :خاشعون الذین لا یرفعون ایدیھم فی الصلٰوۃ الا فی التکبیرۃ الاولیٰ۔

ترجمہ: ’’خاشعون ‘‘سے مراد وہ لوگ ہیں جو تکبیر تحریمہ کے علاوہ پوری نماز میں رفع یدین نہیں کرتے ۔

عن عبد اللہ قال؛ الا اخبرکم بصلٰوۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال : فقام فرفع یدیہ اول مرۃ ثم لم یعد۔

ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں تمہیںرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتائوں؟ (راوی کہتے ہیں کہ) آپ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور پہلی مرتبہ (تکبیر تحریمہ)کے وقت رفع یدین کیا پھر دوبارہ (پوری نماز میں )رفع یدین نہیں کیا۔

3: عن عبد اللہ قال صلیت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و ابی بکر و عمر فلم یرفعوا ایدیھم الا عند افتتاح الصلٰوۃ۔

ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ اور حضرت عمررضی اللہ عنہ کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں، وہ سب شروع نماز کے علاوہ (باقی نماز میں )رفع یدین نہیں کرتے تھے ۔

عن علی رضی اللہ عنہ قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذا قام الی الصلٰوۃ المکتوبۃ کبر و رفع یدیہ حذو منکبیہ …وفی روایۃ انہ کان یرفع یدیہ فی اول الصلوۃ ثم لا یعود۔

ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فرض نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف شروع نماز میں رفع یدین کرتے تھے پھر دوبارہ نہیں کرتے تھے۔

عن البراء بن عازب رضی اللہ عنہ قال:کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذا افتتح الصلٰوۃ رفع یدیہ حتی یحاذی منکبیہ لا یعود برفعھما حتی یسلم من صلٰوتہ۔

ترجمہ : حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے یہاں تک کہ اپنے ہاتھ کندھے کے قریب کر لیتے ، نماز کا سلام پھیرنے تک دوبارہ رفع یدین نہیں کرتے تھے ۔ اس کے علاوہ بھی مزید دلائل موجود ہیں

مسئلہ بیس رکعات تراویح

اس کے بعد قارئین کرام مسئلہ بیس رکعات تراویح کے بھی چند دلائل ذکر کرنا مناسب خیال کرتا ہوں کہ رمضان المبارک کا مہینہ بالکل قریب ہے اور فتنہ پرور گروہ ان مبارک ایام میں بھی اہل السنۃ والجماعۃ کی مساجد میں وساوس پیدا کرنے کی غرض سے آتے ہیں اور آٹھ رکعات ادا کرکے صفوں کو چیرتے ہوئے نکل جاتے ہیں۔اللہ تعالی ہدایت عطا فرمائے ۔اہل السنت والجماعت کے دلائل ملاحظہ فرمائیں !!

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک عمل:

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:خرج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذات لیلۃ فی رمضان فصلی الناس اربعۃ وعشرین رکعۃ واوتر بثلا ثۃ۔

ترجمہ : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک میں ایک رات تشریف لائے اور لوگوں کو چار رکعت(فرض) بیس رکعت (تراویح) اور تین رکعت وتر پڑھائے ۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کان یصلی فی رمضان عشرین رکعۃ والوتر۔

حضرات خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کا عمل :

حضرات خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم میں سے حضرت عمررضی اللہ عنہ ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور مبارک میں تراویح بیس رکعت ہی پڑھی جاتی رہی ہیں ۔

تصریحات پیش خدمت ہیں:

عہد عمر فاروق رضی اللہ عنہ :

عن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ان عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ امر ابی بن کعب ان یصلی باللیل فی رمضان فقال: ان الناس یصومون النھار ولا یحسنون ان یقرء وا فلو قرأت القرآن علیہم باللیل۔۔۔۔۔۔ فصلی بھم عشرین رکعۃ۔

ترجمہ : حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطا ب رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ رمضان کی راتوں میں نماز پڑھائیں ۔ چنانچہ فرمایا کہ لوگ سارا دن روزہ رکھتے ہیں اور قرأت اچھی طرح نہیں کر سکتے اگر آپ رات کو انہیں (نماز میں) قرآن سنائیں تو بہت اچھا ہوگا۔ پس حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے انہیں بیس رکعتیں پڑھائیں۔

عن السائب بن یزید قال کانوا یقومون علی عھد عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فی شھر رمضان بعشرین رکعۃ قال وکانوا یقرون بالمئتین وکانوا یتوکؤن علی عصیھم فی عھد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ من شدھ القیام۔

ترجمہ : حضرت سائب بن یزیدرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں صحابہ کرام کرام بیس رکعت تراویح پڑھتے تھے اور (قاری صاحبان) سو سو آیات والی سورتیں پڑھتے تھے اور لوگ لمبے قیام کی وجہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں لاٹھیوں کا سہارا لیتے۔

قال محمد بن کعب القرظی کان الناس یصلون فی زمان عمر بن الخطاب فی رمضان عشرین رکعۃ۔

ترجمہ : حضرت محمد بن کعب قرظی رحمۃاللہ علیہ(جو جلیل القدر تابعی ہیں) فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں بیس رکعت تراویح پڑھتے تھے۔

عن الحسن ان عمر بن الخطاب جمع الناس علی ابی بن کعب فی قیام رمضان فکان یصلی بھم عشرین رکعۃ۔

ترجمہ: حضرت حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت پر جمع فرمایا وہ لوگوں کو بیس رکعت نماز تراویح پڑھاتے تھے ۔

عہدعثمان بن عفان رضی اللہ عنہ :

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی تراویح بیس رکعت ہی پڑھی جاتی تھی جیسا کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے دور میں تھیں۔ چنانچہ حضرت سائب بن یزید فرماتے ہیں۔

کانوا یقومون علی عہد عمر بن الخطاب ؓ فی شہر رمضان بعشرین رکعۃ قال وکانوا یقرئون وکانو یتوکون علی عصیہم فی عہد عثمان بن عفان ؓ من شدۃ القیام۔

حضرت عمر بن خطاب ضی اللہ عنہ کے دور مبارک میں بیس رکعت تراویح پڑھا کرتے تھے اور قاری سو سو آیات والی سورتیں پڑھتے تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں لوگ لمبے قیام کی وجہ سے لاٹھیوں کا سہارا لیتے تھے ۔

عہد علی المرتضی رضی اللہ عنہ:آپ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی تراویح بیس رکعت ہی پڑھی جاتی ہیں۔

حدثنی زید بن علی عن ابیہ عن جدہ عن علی انہ امر الذی یصلی بالناس صلاۃ القیام فی شہر رمضان ان یصلی بہم عشرین رکعۃ۔ یسلم فی کل رکعتین و یراوح ما بین کل اربع رکعات فیر جع ذو الحاجۃ و یتوضاء الرجل وان یوتربہم من آخر اللیل حین الانصراف۔

ترجمہ : حضرت زید اپنے والد امام زین العابدین سے وہ اپنے والد حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ حضر ت علی نے جس امام کو رمضان میں تراویح پڑھانے کا حکم دیا اورفرمایا کہ وہ لوگوں کو بیس رکعات پڑھائے ہر دو رکعت پر سلام پھیرے ہر چار رکعت کے بعد اتنا آرام کا وقفہ دے کہ حاجت والا فارغ ہوکر وضو کرلے اور سب سے آخر میں وتر پڑھاتے ۔

مسئلہ تین رکعات وتر

اب آتے ہیں محترم قارئین تعداد رکعت وتر کی طرف ۔اہل السنۃ والجماعۃ (احناف ) کا موقف ہے کہ وتر کی رکعات تین ہیں لیکن نام نہاد اہل حدیث وتر ایک رکعت ادا کرتے ہیں اور ہم احنا ف کے پیچھے لٹھ لے کر دوڑتے ہیں کہ تم وترکی تین رکعات ادا کیوں کرتے ہو حدیث میں ایک رکعت کا ذکر ہے ۔ ہمارے دلائل ملاحظہ فرمائیں !!!

عن ابی سلمۃ بن عبد الرحمن انہ اخبرہ انہ سال عائشۃ کیف کانت صلوۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فی رمضان فقالت ما کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یزید فی رمضان ولا فی غیرہ علی احدی عشرۃ رکعۃ یصلی اربعاً فلا تسأل عن حسنھن وطولھن ثم یصلی اربعاً فلا تسأل عن حسنھن وطولھن ثم یصلی ثلثا۔

ترجمہ : حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز رمضان مبارک میں کیسی ہوتی تھی؟ فرمایا:’’ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ۔ پہلے چار رکعتیں پڑھتے، پس کچھ نہ پوچھو کہ کتنی اچھی و لمبی ہوتی تھیں۔ اس کے بعد پھر چار رکعت پڑھتے ، کچھ نہ پوچھو کہ کتنی ا چھی اور لمبی ہوتی تھیں پھر تین رکعت (وتر) پڑھتے تھے ۔ ‘‘

عن عائشۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کان یوتر بثلاث یقرء فی اول رکعۃ بسبح اسم ربک الاعلی وفی الثانیۃ قل یا ایھا الکفرون وفی الثالثۃ قل ھو اللہ احد والمعوذتین۔

ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر تین رکعت پڑھتے تھے پہلی رکعت میں’’سبح اسم ربک الاعلیٰ‘‘ پڑھتے ، دوسری رکعت میں ’’قل یا ایھا الکٰفرون‘‘ اور تیسری رکعت میں ’’قل ھو اللہ احد‘‘ اور معوذتین پڑھتے تھے ۔

عن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کان یوتر بثلاث رکعات، کان یقرء فی الاولیٰ بسبح اسم ربک الاعلی وفی الثانیۃ بقل یا ایھا الکفرون وفی الثالثۃ بقل ھو اللہ احد ویقنت قبل الرکوع۔

ترجمہ : حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر تین رکعت پڑھتے تھے پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الاعلی پڑھتے ، دوسری رکعت میں قل یا ایھا الکفرون اور تیسری رکعت میں قل ھو اللہ احد پڑھتے تھے ۔

اسی مضمون کی احادیث:مندرجہ ذیل کتب میں بھی مروی ہیں جن میں تین رکعت وتر کا ذکر ہے ۔

مسئلہ مرداور عورت کی نماز میں فرق

آخرمیں قارئین ایک اور اہم مسئلہ کی طرف میں آپ کی توجہ مبذول کراناضروری تصور کرتا ہوں کہ آج کل غیر مقلدیت زدہ بعض ٹی وی چینلز پر دینی پروگرام کے درپردہ ایک بات یہ بھی مشہور کی جا رہی ہے کہ مرد اور عورت کی طریقہ ادائیگی نماز میں کوئی فرق نہیں!!جیسے مرد حضرات نماز کے ارکان ادا کرتے ہیں ایسے ہی عورتیں نماز ادا کریں حالانکہ اہل السنت والجماعت کا موقف یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ میں احکام خداوندی کے مخاطب مرد و عورت دونوں ہیں۔ نماز، روزہ، حج، زکوۃ کے احکام جس طرح مردوں لئے ہیں عورتیں بھی اس سے مستثنیٰ نہیں لیکن عورت کی نسوانیت اور پردہ کا خیال ہر مقام پر رکھا گیا ہے ان عبادات کی ادائیگی میں عورت کے لئے وہ پہلو اختیار کیا گیا ہے جس میں مکمل پردہ حاصل ہو احادیث شریفہ کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ عورت اورمرد کا نماز ادا کرنے کے طریقے میں فرق ہے ۔ وہ کیا فرق ہے؟ آئیے احادیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں!!!

عن وائل بن حجر قال جئت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔ ۔فقال لی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا وائل بن حجر: اذا صلیت فاجعل یدیک حذو اذنیک والمراۃ تجعل یدیھا حذاء ثدیھا۔

ترجمہ : حضرت وائل بن حجررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے وائل بن حجر ! جب تم نماز پڑھو تو اپنے کانوں کے برابر ہاتھ اٹھائو اور عورت اپنے ہاتھوں کو چھاتی کے برابر اٹھائے ۔

عن یزید بن حبیب ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرعلی امراتین تصلیان فقال اذا سجدتما فضما بعض اللحم الی الارض فان المراۃ لیست فی ذلک کالرجل۔

ترجمہ : حضرت یزید بن حبیب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو عورتوں کے قریب سے گزرے جو نماز پڑھ رہی تھیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم سجدہ کرو تو جسم کا کچھ حصہ زمین سے ملا لیا کرو کیونکہ عورت کا حکم اس میں مرد کی طرح نہیں ہے ۔‘‘

عن عبد اللہ بن عمرقال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذا جلست المراۃ فی الصلٰوۃ وضعت فخذھا علی فخذھا الاخریٰ فاذا سجدت الصقت بطنھا فی فخذھا کاسترما یکون لھا فان اللہ ینظر الیھا ویقول : یا ملا ئکتی اشھد کم انی قد غفرت لھا۔

حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب عورت نماز میں بیٹھے تو اپنی ایک ران دوسری ران پر رکھے اور جب سجدہ کرے تو اپنا پیٹ اپنی رانوں کے ساتھ ملا لے جو اس کے لئے زیادہ پردے کی حالت ہے ۔اللہ تعالی اس کی طرف دیکھتے ہیں اور فرماتے ہیں: اے میرے ملائکہ ! گواہ بن جائو میں نے اس عورت کو بخش دیا۔

5: عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لا تقبل صلوۃ الحائض الابخمار۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بالغہ عورت کی نماز اوڑھنی کے بغیر قبول نہیں ہوتی ۔

Rate this item
(3 votes)

امام ابوحنیفہ اور اعتراضات کا جائزہ

محمد الیاس گھمن

روز ازل سے یہ بات چلی آرہی ہے کہ ہرعظیم المرتبت شخصیت کے مخالفین بھی ہوتے ہیں اور متبعین بھی۔ متبعین اس شخصیت پر اعتماد کرتے ہیں اور ان کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں، جب کہ مخالفین کا وطیرہ چلاآرہاہے کہ وہ اس شخصیت کی بے جامخالفت میں جھوٹ ،اتہام اور زبان درازی کرتے ہیں یہی کچھ سید الفقہاء والمحدثین امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت کے ساتھ بھی ہواآپ کے متبعین نے جہاں آپ کی مدون کردہ فقہ کو درس وتدریس سے کونے کونے تک پہنچایا وہاں اس (فقہ )کو عملا نافذکر کے معاشرہ میں امن، سکون، انصاف اور عدل کی بہاریں لٹا دیں ، دوسری طرف مخالفین جو سوائے اپنانامہ اعمال سیاہ کرنے کے اور کچھ بھی نہ کرسکے ۔

آج کے دور میں مخالفین کی روحانی نسل پھرسے امام اعظم ابو حنیفہ کی شخصیت پر کیچڑ اچھالنے اور ان کی بے داغ زندگی کو (العیاذ باللہ) داغدار ثابت کرنے کے لیے چند شبہات کو ہوا دینے کا منفی پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے ۔ہم ان شاء اللہ انتہائی مثبت انداز میں امام صاحب کے مناقب بھی بیان کریں گے اور آپ کی ذات پر کیے جانے والے اعتراضات کا دفاع بھی اس سلسلے میں اتحاد اہل السنت والجماعت پنڈی کے زیر اہتمام مورخہ19 جون کو اسلام آباد میں ایک عظیم الشان سیمینار کا انعقاد ہو رہا ہے اس کے اغراض ومقاصد میں جامع بات یہی ہے کہ فقہ اور فقہاء کی اہمیت کو بیان کرکے معاشرے میں مروج اور موجود ایسے تمام رسوم ورواج کو بالکل جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے جن سے علمی فتنے اور عملی فسادات رونما ہورہے ہیں ہم مثبت انداز میں سیاست اور عسکریت سے بالکل الگ تھلگ اپنی علمی کاوشوں میں شب وروز مصروف ہیں ہاں ! البتہ اگر دین کے نام پر علمی اور اعتقادی فتنے دین ہی کو نقصان دینے کا سوچیں گے تو ہم اپنے اکابر کے نقش قدم پر ان کا بھرپور علمی انداز سے جواب پہلے بھی دیتے تھے ،اب بھی دے رہے ہیں اورآئندہ بھی دیتے رہیں گے ۔ باقی رہا ضد اور تعصب …سیدھی سی بات ہے ہمارے پاس اس لاعلاج مرض کا کوئی دوا نہیں

قارئین ذی وقار ! حرماں نصیب لوگوں نے امام صاحب کی شخصیت پرویسے تو کئی ’’لام کاف‘‘کہے ہیں اور اتہامات لگائے اور پھیلائے ہیں لیکن ان میں چند ایک کو مخالفین بہت مضبوط سمجھتے ہیں ذیل میں اللہ کی توفیق سے ان شبہات کا جائزہ لیتے ہیں۔

خطیب بغدادی کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے امام عبداللہ بن مبارک کے قو ل کو پیش کیا جاتا ہے کہ انہوں نے فرمایا : کان ابوحنیفۃ یتیماً فی الحدیث

کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ حدیث میں ’’یتیم ‘‘تھے ۔ محمد یوسف جے پوری نے بھی اسی بات کو ’’ قیام اللیل‘‘ کے حوالے سے نقل کیاہے۔

یتیما فی الحدیثکا کلمہ تنقیص اور جرح کے لیے نہیں بلکہ کلمہ مدح ہے کیونکہ محاورہ میں ’’یتیم ‘‘کے معنی یکتا، منفرد اور بے مثل کے بھی آتے ہیں۔ملاحظہ ہوں !!!

’’کل شیٔ مفرد یعنی نظیرہ فہو یتیم یقال درۃ یتیمۃ۔‘‘

ہر وہ اکیلی چیز جس کی مثال کمیاب ہو ’’یتیم ‘‘ہے جیسے کہاجاتاہے درۃ یتیمۃ (نایاب موتی)

باقی امام عبداللہ بن مبارک تو امام ابو حنیفہ کے ایسے مداح ہیں کہ ان کی زبان مبارک سے امام صاحب کے بارے میں ہمیشہ مدح اور منقبت ہی صادر ہوئی ہے ۔مثلا وہ خود فرماتے ہیں کہ

’’افقہ الناس ابوحنیفۃ مارایت فی الفقہ مثلہ‘‘

لوگوں میں سب سے بڑے فقیہ ابوحنیفہ ہیں، میں نے فقہ میں ان کی مثل کسی کو نہیں دیکھا۔

یہی امام عبدا اللہ بن مبارک یہ بھی فرماتے ہیں کہ

’’ لولا ان اللہ تعالیٰ اغاثنی بابی حنیفۃ وسیفان کنت کسائر الناس۔‘‘

’’اگر اللہ تعالیٰ امام ابوحنیفہ اور امام سفیان کے ذریعہ میری مدد نہ کرتا تو میں عام لوگوں کی طرح ہوتا۔‘‘

امام ابو حنیفہ کی مزید مدح کرتے ہوئے امام عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں :

’’ان کان الاثر قدعرف واحتیج الی الرایٔ ؛ فرای مالک وسفیان وابی حنیفۃ وابوحنیفہ احسنھم وادقھم فطنۃ واغوصھم علی الفقہ وھوافقہ الثلا ثۃ۔‘‘

’’اگر اثر(حدیث )میں فقہ کی ضرورت پیش آئے تو اس میں امام مالک امام سفیان اور امام ابوحنیفہ کی رائے معتبر ہوگی۔ امام ابوحنیفہ ان سب میں عمدہ اوردقیق سمجھ کے مالک ہیں فقہ کی باریکیوں میں گہری نظر رکھنے والے اور تینوں میں بڑے فقیہ ہیں۔‘‘

بلکہ امام ابو حنیفہ پر ناز کرتے ہوئے عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں کہ

’’ھاتوا فی العلماء مثل ابی حنیفۃ والا فد عونا ولا تعذبونا ‘‘

’’علماء میں امام ابوحنیفہ کی مثل لائو ورنہ ہمیں معاف رکھو اور کوفت نہ دو۔‘‘

ان کے علاوہ کئی اقوال امام صاحب کی منقبت وشان میںامام عبداللہ بن مبارک میں مختلف کتب میں پائے جاتے ہیں۔ لہذا یتیما فی الحدیث سے جرح سمجھنا امام ابوبکر خطیب بغدادی کی غلطی ہے جسے مؤلف ’’حقیقۃ الفقہ‘‘ نے محض عناد کی وجہ پیش کیاہے ۔

اس کے علاوہ حافظ ابوالحسن احمد بن ایبک ابن الدمیاطی ؒم۷۴۹ھ کو قول نقل کر دیاجائے جو اس امر میں کافی ہے ،فرماتے ہیں:

’’ہذا بالمدح اشبہ منہ بالذم فان الناس قد قالوا درۃ یتیمۃ اذاکانت معدودۃالمثل وھذا اللفظ متداول للمدح لا نعلم احدا قال بخلاف ۔ وقیل؛ یتیم دھرہ وفرید عصرہ وانما فھم الخطیب قصر عن ادراک مالایجھلہ عوام الناس۔‘‘

یتیما فی الحدیث کالفظ مدح کے زیادہ مشابہ ہے نہ کہ ذم کے کیونکہ عام طور پر جب کسی چیز کی مثالیں کم ملتی ہو تو لوگ ’’د رۃ یتیمۃ ‘‘ کا لفظ بولتے رہتے ہیں اور یہ لفظ عام طورپر رائج ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ کسی نے اس میں اختلاف کیاہو جیسا کہ یتیم دھراور فرید عصر وغیرہ الفاظ بولے جاتے ہیں خطیب بغدادی کی فہم اس بات کو سمجھنے سے قاصر رہی جس سے عوام بھی بے خبرنہیں۔

اس کے بعد قارئین ہم ایک مشہور اعتراض کی طرف آتے ہیں جو آج کل ہرایرے غیرے کی تحریر اور تقریر میں سننے اور پڑھنے کو ملتا ہے کہ ’’تاریخ ابن خلدون میں ہے کہ فابو حنیفۃ یقال بلغت روایۃ الی سبعۃ عشر حدیثاًامام ابوحنیفہ کی نسبت کہاگیا ہے کہ ان کو سترہ حدیثیں پہونچی ہیں۔‘‘(

اس کا جواب بہت واضح ہے کہ علامہ عبدالرحمن بن محمد ابن خلدون م۸۰۸ھ نے کسی مجہول شخص کا قول نقل کیاہے اہل علم جانتے ہیں کہ خود لفظ ’’یقال‘‘ سے تعبیر کرنے میں اس کے ضعف اورباطل ہونے کی طرف اشارہ بھی کر دیا۔ بلکہ علامہ ابن خلدون نے اس کایوںرد فرمایا ہے کہ

’’ وقد تقول بعض المبغضین المتعسفین الی ان منھم من کان قلیل البضاعۃ فی الحدیث فلھذا قلت روایتہ ولا سبیل الی ھذا المعتقد فی کبار الائمۃ لان الشریعۃ انما توخذ من الکتاب والسنۃ ۔

’’ بغض سے بھرے اور تعصب میں ڈوبے لوگوں نے بعض ائمہ کرام پر یہ الزام لگایاہے کہ ان کے پاس حدیث کا سرمایہ بہت کم تھا اسی وجہ سے ان کی روایتیں بہت کم ہیں۔کبار ائمہ کی شان میں اس قسم کی بدگمانی رکھنے کی کوئی معقول وجہ نہیں کیونکہ شریعت قرآن وحدیث سے لی جاتی ہے۔‘‘

اس صراحت سے معلوم ہواکہ سترہ حدیثیں روایت کرنے کا الزام وغیرہ محض متعصبین کا تعصب ہے ، ائمہ حضرات کے دامن اس جیسے الزام سے پاک ہیں ۔مناسب معلوم ہوتاہے کہ صحیح راویات واسانید سے مروی خبار وآثار بیان کردیے جائیں جن سے امام صاحب کی حدیث میں وسعت اطلاع ،وفورعلم اورجلالت شان معلوم ہو۔چنانچہ

۱: امام ابوعبداللہ الصیمری اور امام موفق بن احمدمکی نے اپنی سند سے امام حسن بن صالح سے روایت کیاہے:’’امام ابوحنیفہ ناسخ منسوخ احادیث کے پہچان میں بہت ماہر تھے۔ حدیث جب نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے اصحاب سے ثابت ہو تو اس پر عمل کرتے تھے اور اہل کوفہ(جو اس وقت حدیث کا مرکز تھا)کی احادیث کے عارف تھے، حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے آخری فعل کے حافظ تھے۔(۳)

۲: امام موفق مکی سند صحیح کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ امام ابویوسف فرماتے ہیں:’’ (امام ابو حنیفہ کے قول کی تقویت میں)کبھی مجھے دواحادیث ملتی اور کبھی تین میں انہیں امام صاحب کے پاس لاتا تو آپ بعض کو قبول کرتے بعض کو نہیں اور فرماتے کہ یہ حدیث صحیح نہیں یا معروف نہیں، تو میں عرض کرتا حضرت آپ کو کیسے پتا چلا ؟ تو فرماتے کہ میں اہل کوفہ کے علم کوجانتاہوں۔‘‘(

۳: امام یحییٰ بن نصر بن حاجب فرماتے ہیں:’’میں امام ابوحنیفہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان کا گھر کتابوں سے بھرا ہوا تھا میں نے عرض کی یہ کیاہیں؟ فرمایا:

’’ یہ ساری احادیث ہیں، میں ان سے وہ بیان کرتا ہوں جس سے عوام کو نفع ہو۔‘‘

۴: امام حافظ اسماعیل العجلونی الشافعی م۱۱۶۲ ھ فرماتے ہیں:’’(ابوحنیفہ)فہو رضی اللہ عنہ حافظ حجۃ فقیہ ۔

قارئین آپ اندازہ فرمائیں کہ اس قول میں امام صاحب کو حافظ اور حجت کہاگیاحافظ ایک لاکھ احادیث کی سند ومتن اور احوال رواۃ کے جاننے والے کو کہتے ہیں اور حجۃ تین لاکھ حدیثوں کے حافظ کو کہتے ہیں۔

۵: امام محمد بن سماع فرماتے ہیںکہ’’ امام ابوحنیفہ نے اپنی تمام تصانیف میں ستر ہزار سے کچھ اوپر احادیث ذکر کی ہیں اوراپنی کتاب الآثار چالیس ہزار احادیث سے انتخاب کرکے لکھی ہے۔‘‘

امام اعظم پر قلت حدیث کا الزام غلط محض ہے آپ کثیر الحدیث تھے اور اصطلاح محدثین میں حافظ وحجت تھے۔رحمۃ اللہ علیہ رحمۃ واسعۃ ۔ ہم ان شاء اللہ امام اعظم کی تعلیمات کو اپنائیں گے بھی اور اس کے خلاف ہونے والے گھنائونے پروپیگنڈے کا علمی سد باب بھی کریں گے اور ہم اس کے لیے پرعزم ہیں کہ وطن عزیز میں فقہ حنفی کو نافذ کیا جائے اگر ہمیں اس کے لیے اپنی جان جوکھوں میں ڈالنی پڑی تو ہم اس کو اپنے لیے سعادت سمجھیں گے ۔اللہ تعالی ہم سب کو اپنی پناہ میں رکھے اور روز قیامت اپنے امام ابو حنیفہ کی معیت اور صحابہ کرام کی پیروی میں بہشت کے ان اعلی درجات میں جگہ عطا فرمائے جہاں ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمسائیگی کا شرف نصیب ہو… آمین

Rate this item
(1 Vote)

قربانی کے ایام؟؟

مولانا محمد عاطف معاویہ

اللہ تعالی نے انسان کو روح اور جسم کا مجموعہ بنایا ہے اور ان دونوں کی خوراک کا بھی انتظام فرمایا ہے ،جسم کی خوراک غذا وغیرہ ہوتی ہے اور روح کی خوراک عبادت ۔

انسان کو چاہیے کہ جسم اور روح دونوں کو مکمل اور خالص خوراک دے تاکہ صحت اور ایمان دونوں محفوظ وتندرست رہیں لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو روح کی خوراک یعنی عبادت میں کمی کو پسند کرتے ہیں اور جسم کی خوراک کھانے میں زیادتی کو۔ ایسا ہی کچھ حال اس زمانہ کے نام نہاد اہل حدیث حقیقتاً غیر مقلدین کا ہے جب عبادت کی باری آتی ہے

تو تہجداور تراویح کو ایک نماز کہہ کر آٹھ رکعتیں پڑھتے ہیں ۔

وتر ایک رکعت پڑھتے ہیں اور اس کو حضورﷺ کا اکثریت والا عمل کہتے ہیں ۔

اگر کوئی جان بوجھ کر نماز چھوڑدے تو کہتے ہیں اس کی قضاء کی ضرورت نہیں صرف توبہ استغفار کافی ہے

فٹبال کھیلنے کے لئے ظہر اور عصر دونوں نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنے کا فتویٰ دیتے ہیں ۔

اور جب کھانے کی بات آتی ہے تو اس میں اضافہ اور زیادتی کو پسند کرتے ہیں اس کی ایک مثال ’’قربانی کے ایام ‘‘ہیں ۔کہ یہ لوگ تین دن کی بجائے چار دن قربانی کرنے کے قائل ہیں۔

بہت سارے غیرمقلدین چوتھے دن بڑے فخر سے قربانی کرتے ہیں تاکہ ایک دن مزید گوشت مل جائے۔

تین دن قربانی کے دلائل:

1: عن سلمۃ بن الاکوع رضی اللہ عنہ قال قال النبی ﷺ من ضحٰی منکم فلایصبحن بعد ثالثۃ وبقی فی بیتہ منہ شیئی۔

یعنی جو شخص قربانی کرے تو تین دن کے بعد گھر میں گوشت نہ رکھے ۔

اور آپ ﷺنے یہ حکم 10ذی الحجہ کو فرمایا تھا

ملاحظہ ہو کہ اگر قربانی کے چار دن ہوتے تو آپ ﷺ چوتھے دن کے بعد گوشت رکھنے سے منع فرماتے ۔

نوٹ: تین دن کے بعد گھر میں گوشت رکھنے سے منع والا حکم بعد میں منسوخ ہوگیا تھا

2: عن نافع ان عبداللہ بن عمر قال الاضحی یومان بعد یوم الاضحی ۔

یعنی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عید والے دن کے دو دن بعد تک قربانی ہے۔

3: حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرمان ہے ۔

4: عن انس رضی اللہ عنہ قال الاضحی یوم النحر ویومان بعدہ ۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قربانی ۱۰ ذوالحجہ اور دو دن اس کے بعد ہے۔

5: قال ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ الاضحی ثلاثۃ ایام۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قربانی کے ایام تین دن ہیں ۔

ان احادیث سے ثابت ہوا کہ قربانی کے ایام تین ہی ہیں۔

غیرمقلدین حضرت جبیر رضی اللہ عنہ کی روایت سے استدلال کرتے ہیں جس میں کہ تمام ایام تشریق ذبح کے ہیں۔

جواب 1 : اس روایت کا جواب مشہور غیر مقلد احادیث کی توڑ پھوڑ یعنی صحیح کو ضعیف اور ضعیف کو صحیح بنانے کے ماہر زبیر علی زئی نے یوں دیا ہے کہ ’’یہ حدیث مرسل یعنی منقطع ہے اس کے راوی سلیمان بن موسیٰ نے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔‘‘

دوسری جگہ زبیر علی زئی لکھتا ہے کہ ’’ایام تشریق میں ذبح والی روایت اپنی تمام سندوں کے ساتھ ضعیف ہے لہذا اسے صحیح یاحسن قرار دینا غلط ہے۔‘‘

(2)اگر اس روایت سے تیرہ ذوالحجہ قربانی کا دن ثابت ہوتا ہے تو نو(9)ذوالحجہ کیوں ثابت نہیں ہوتا؟کیونکہ نو یں کا دن بھی ایام تشریق میں داخل ہے۔لہذا قربانی کے ایام پانچ ہونے چاہئیں ؟ آپ نو کو ایام قربانی میں داخل کیوں نہیں کرتے ؟

اہل السنۃ والجماعۃ احناف کے دلائل کو مضبوط دیکھتے ہوئے زبیر علی زئی بھی احناف کے مسلک کی تائید پر مجبور ہوگیا اور لکھا کہ ’’سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہی قول ہے کہ قربانی کے تین دن ہیں، ہماری تحقیق میں یہی راجح ہے۔‘‘

لہذا غیرمقلدین کو چاہیے کہ13ذوالحجہ کو ایام قربانی میں شامل نہ کریں اور جو آدمی 13کو قربانی کرے اس کے متعلق مولوی ابو البرکات غیرمقلد لکھتا ہے ،’’جو آدمی جان بوجھ کر چوتھے دن قربانی کرتا ہے اس آدمی کا عمل نبی ﷺ کے عمل کے خلاف ہے ۔‘‘

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو نبی اکرم ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ائمہ کرام اور سلف صالحین رحمہم اللہ کے طریقے کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطافرمائے۔(آمین بجاہ النبی الکریم )

DARULIFTA

Visit: DARUL IFTA

Islahun Nisa

Visit: Islahun Nisa

Latest Items

Contact us

Markaz Ahlus Sunnah Wal Jama'h, 87 SB, Lahore Road, Sargodha.

  • Cell: +(92) 
You are here: Home Islamic Articles (Urdu)

By: Cogent Devs - A Design & Development Company