AhnafMedia

Articles Urdu

Articles Urdu (275)

Rate this item
(4 votes)
Rate this item
(3 votes)
Rate this item
(5 votes)
Rate this item
(4 votes)
Rate this item
(17 votes)
Rate this item
(5 votes)

ساس بہو کا جھگڑا …جیت کس کی؟؟ ؟

محمد شفیق ،کوٹ ادو

ہمارے معاشرے میں ساس بہو کی لڑائی، نند بھاوج کی لڑائی، دو سوکنوں کی لڑائی معمول کی بات ہے۔ شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں یہ ازل تا ابد کا مسئلہ در پیش نہ ہو مگر ان تمام لڑائیوں میں جو مشہوری بغیربینڈباجے گاجے ،طوطنی اور ڈگڈگی کے ساس بہو کی لڑائی کو ملی ہے ایسی شہرت تو شاید پانی پت کی لڑائی یا 1857ء کی جنگ آزادی کو بھی نہ ملی ہو گی۔ دونوں پل بھر بھی ایک دوسرے کے (نوے فیصد) قریب پھٹکناتک گوارا نہیں کرتیں۔ وجہ.........؟؟ جنریشن گیپ یعنی ساس کو دقیانوسی اور بہو کو نئے زمانے کی چیز کہا جا تا ہے۔ اگرچہ ابھی بھی کچھ اچھے لوگ باقی ہیںلیکن اس جہاں میں اکثریت ایویں ہی ہے۔

ہاں جناب! تو ہم بات کر رہے تھے ساس بہو کے پھڈے کی ۔ساس بہو کا پھڈا کس بات پر، کس وقت ،کس جگہ شروع ہو جائے… مری کے موسم اور ہمارے ملک کی سیا ست کی طرح اس کا بھی کوئی بھروسہ نہیں ۔ ایک ساس نے اتفاق سے یا غلطی سے بہو سے پینے کا پانی مانگ لیا ،بہو جو پہلے ہی بہت جھمیلوں میں پھنسی، سٹار پلس کے ڈراموں اور فیشن کے خیالوں میں مگن تھی، ٹکا سا جواب دے دیا کہ خود اٹھ کرپی لو۔ اب آپ تصور کریں کہ بیچاری اوور ویٹ(Over Weight) بوڑھی ساس، گھٹنوں کے درد کی ماری اور مزید چھ بیماریوں میں مبتلا بھلا کیسے خود پانی لے کر پی سکتی ہے ؟ لو جی پھڈا شروع……پھڈا بھی ایسا کہ نہ ختم ہونے والا یعنی ہمارے مفاد پرست سیاست دانوں جیسا نہیں کہ جیب میں مال ختم تو رات کو تحفظات کا پھڈا شروع ہوا اور صبح دے دلا کر تمام تحفظات اور پھڈے ختم اور اب شیروشکر۔ لوجناب!پہلے ساس صاحبہ نے حملہ کیا ’’دیکھو تو آج کل کی بہوؤںکو،ایک گلاس پانی کیا مانگ لیا کھانے کو ایسے دوڑ پڑیں جیسے سمندر لانے کو کہہ دیا ہو یا ان کی آبائی جائیداد میں سے حصہ مانگ لیا ہو، کام کی نہ کاج کی دشمن صرف میرے بیٹے کے مال کی……‘‘ وغیرہ وغیرہ۔

حسب توقع بہو کی طرف سے بمباری شروع ہوئی: ’’جی ہاں سارے گھر کا کام کاج تو فرشتے آکر کرتے ہیں ناں؟خود تو سارا دن منہ میں پان چبڑچبڑ کے سارا گھر لال پیلا کیے رکھتی ہو اوپر سے کام نہ کرنے کے طعنے……‘‘ ابھی ساس بہو کی یہ جنگ جاری تھی کہ نند صاحبہ جو کہ حسب معمول بازار کے دورے پر تھیں واپس آدھمکیں اور اپنی ماں پہ ظلم وستم کے پہاڑ ٹوٹتے دیکھ کر آستینیںچڑھا ، اس جنگ میں شامل ہو گئیں ۔اب بے چاری اکیلی بہو اور دشمن دو!!!

’’ بھابھی! آپ کرتی ہی کیا ہیں سوائے سٹار پلس کے ڈرامے دیکھنے اور اپنی اماں،ابا، بہن،بھائیوں وغیرہ سے گھنٹوں فون پر باتیں کرنے کے ؟‘‘ بہو نے نند کی سنی ا ن سنی کرتے ہوئے اپنے کارنامے زور شور سے گنوانے شروع کر دیے: ’’تینوں ٹائم میں ہی پکا پکاکر کھلا تی ہوں،سارے گھر کے کام کاج میں ہی کرتی ہوں، تمہاری ساری بہنیں جب درجنوں بچوں سمیت آ وارد ہوتی ہیں تو ان کے اوجھ کے بوجھ میں ہی کھلا کھلا کر بھرتی ہوں، تم تو اٹھتی ہی دوپہر کے بارہ بجے ہو، کچن کی صفائی بھی میں کرتی ہوں، آنے جانے والے تمام مہمان میرے ہاتھوں ہی بھگتائے جاتے ہیں ، اور ہاں یہ تمام کپڑے میرے ہی دھلے ہوئے پہنتی ہو،سمجھیں ؟؟؟تمہیں آتا ہی کیا ہے سوائے باتیں بگھارنے، سونے اور بازار کے چکروں کے……‘‘

نند صاحبہ کچن کے فرش سے چند استعمال شدہ تیلیاں اٹھا لائیں: ’’یہ ہے آپ کی صفائی! سارا دن کچن میں گندے برتن پڑے سڑتے رہتے ہیں ۔ آپ کہتی ہیں کہ صفائی کرتی ہوں، وہ دیکھیںکل سے منے کے گندے ڈائپر اور نیکریں واشنگ مشین میں پڑے ہیں ،آپ نے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ ڈرائنگ روم کی ٹیبل پر دیکھیں کتنی مٹی جمی ہوئی ہے، چھی چھی… اور ذرا اپنے کمرے کا حال تو دیکھیں کہ اب تک صبح کے بستر تک سیٹ نہیں ہوئے ایسے لگ رہا ہے جیسے سرائے یا ریلوے اسٹیشن ہو یا پھر آپ سیلاب زدگان میں سے ہوں۔ دوپہر ہو نے کو ہے اورابھی تک پکانے کو بھی نہیں چڑھایا، لگتا ہے دوپہر کا کھانا رات ہی کو ملے گا ۔‘‘

اسی دوران گھر میں شور وغل سن کر اوس پڑوس اور محلے کی عورتوں نے اپنی اپنی چھتوں پر مورچے گاڑ کر اس جنگ کی باقاعدہ مانٹیرنگ بھی شروع کر دی تاکہ استعمال شدہ ڈائیلاگ یاد کرلیں اوربوقت ضرورت اپنی لڑائیوں میں کام میں لائیں۔یہ مورچے لگتے ہی تینوں موصوفاؤں نے کچھ غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عارضی جنگ بندی کا اعلان کر دیا ۔

یہ جھگڑے جن کی ایک جھلک ہم نے یہاں پیش کی ہے، اکثر گھروں کا معمول ہیں۔ نہایت خوش قسمت ہیں وہ گھر جہاں اخلاقیات زندہ ہیں، چھوٹے اپنے بڑوں کی قدر کرتے ہیں اور بڑے چھوٹوں سے محبت و شفقت کا سلوک کرتے ہیں۔ اس مزاحیہ خاکے میں کتنے سبق پوشیدہ ہیں، یہ بات اہل نظر پر مخفی نہیں۔ اگر ہم میں سے ہر ایک اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرلے اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کی کوشش کرتا رہے تو یقین مانئے کہ ہمارے گھر جنت کا نمونہ بن جائیں گے۔ ساس بہو کے جھگڑوں میں جیت ہوتی ہے تو صرف شیطان کی، یا ان فتنہ پرور لوگوں کی جنہیں اس طرح کے فسادات سے لطف ملتا ہے۔

Rate this item
(1 Vote)
Rate this item
(2 votes)

اٹھو کہ کوچ نقارہ بج چکا!

محمد الیاس گھمن

نومبر کا آغاز ہو چکا، ہواؤں میں یخ بستگی بڑھتی جا رہی ہے۔ آج صبح نماز فجر کی ادائیگی کے بعد سیر چمن کو نکلا تو ہر شے منجمد سی محسوس ہوئی ما سوائے اپنے خیالات کے۔! یا اللہ! کیا یہ وہی ملک ہے کہ جس کا خواب 9نومبر کو پیدا ہو نے والے ایک فرزانے نے دیکھا تھا؟ ریڈ کلف ایوارڈ کی ظالمانہ تقسیم نے اس پاک وجود کے کتنے حصے اس سے جدا کر دیے۔ مقبوضہ جموں کشمیر، جونا گڑھ،حید آباددکن جیسے کتنے ہی زخم ہیں جو اس پاک سر زمین کے سینے پر لگائے گئے اور وہ آج تک ناسور بن کے رس رہے ہیں۔ رہی سہی کسر 1971ء میں’’ اپنوں‘‘ نے پوری کر دی۔ بھائی کو بھائی سے جدا کرنے کی سازشیں رنگ لائیں اور ہمارا بازو کاٹ کر نفرتوں کی خلیج ہمارے درمیان حائل کر دی گئی۔ بات صرف یہی ختم نہیں ہوتی بلکہ جس بنیادی نظریہ پر یہ ملک حاصل کیا گیا تھا اس بنیاد پر کاری ضربیں لگا ئیں گئیں اور ’’لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ کے شرمندۂ خورشید جلوۂ تاباں سے نظریں چرا کر مغرب کے اندھیروں میں بھٹکنے کو انسانیت کی معراج سمجھ لیا گیا ۔

کیا یہ وہی اسلامی فلاحی ریاست ہے جس کا تصور اقبال مرحوم نے خطبہ الہ آباد میں پیش کیا تھا…؟ کیا یہ وہی خطۂ پاک ہے جس کو ہم نے ہزار ہا عصمتوں اور ان گنت جانوں کی قربانی دے کر حاصل کیا تھا …؟ کیا ان قربانیوں کا کوئی بدلہ ملنے والا نہیں …؟ کیا اس پاک سرزمین کا کاروبار سلطنت چلانے کے لیے ابھی تک اسی نظام پر انحصار کیا جا رہا ہے جیسے علامہ اقبال نے ان الفاظ میں ’’خراج عقیدت‘‘ پیش کیا تھا :

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا تو کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

گستاخی معاف… اقبال مرحوم کی شوخی قلم کی ایک اور جھلک ملاحظہ ہو :

الیکشن، ممبری، کونسل، صدارت

بنائے ہیں خوب آزادی نے پھندے

میاں نجار بھی چھیلے گئے ساتھ

نہایت تیز ہیں یورپ کے پھندے

میں یہاں عرض کرتا چلوں کہ اقبال کی طنز اور ظرافت سطحیت سے بالکل پاک ہے اقبال کے طنز میں جو گہرائی اور گیرائی ہے اس سے صاحب دل اور صاحب حال لوگ بڑی اچھی طرح آشنا ہیں۔ مغربی معاشرت کا سیلاب جس طرح ہمارے گلی کوچوں سے آگے بڑھ کر ہمارے گھروں کے اندر آ گھسا ہے اور اسلامی اور مشرقی تہذیب وتمدن کو دقیانوسیت کی علامت قرار دے دیا گیاہے اسے دیکھتے ہو ئے اقبال کی چشم قلندارانہ اوردیدہ بینا ہمیں یہ پیغام دیتے ہوئے یہ محسوس ہو رہی ہے: ع

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہوگا

اللہ تعالی من حیث القوم ہم سب کو اپنی ان ذمہ داریوں کے ادراک کی توفیق دے جو اس نظریاتی سر زمین کا باشندہ ہو نے ناطے ہم پر عائد ہو تی ہیں ۔ کاش ہمارے ارباب اختیارو اقتدار دل کی آنکھوں سے اقبال کے خطبہ الہ آباد کو ایک مرتبہ پڑ لیں اور اس میں جھلکتے پیغام کو حرز جان بنا لیں ۔

ہم وطنو! خواب غفلت سے اٹھو اب اور کون سے صور اسرافیل کا انتظار ہے ؟ اٹھو اٹھو کوچ نقارہ بج چکا قافلہ حق کے ساتھ چل نکلو اہل السنت والجماعت کے عقائد ونظریات کو مضبوطی سے تھام لو اور مغربی تہذیب وافکار پہ دو حرف بھیج کر یہ ثابت کر دو کہ:

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

اس نومبر کا یہی پیغام ہے اور اقبال کے دل میں بھی یہی نغمہ درد تھا جسے وہ ساری عمر قوم کو سناتے رہے

Rate this item
(4 votes)

فساد معاشرہ کے 13اسباب

مفتی محمد اسماعیل طورو

پہلا سبب ؛اپنی غلطی:

ہم مردوں نے یہ نفسیا ت بنالی ہے کہ ہم جو کچھ کریں ہماری بیوی، بہن اور بیٹی کو صاف رہنا چاہیے ورنہ خلاف ورزی پر اسے سخت سزا دیں گے، مگر مرد یہ نہیں سوچتاکہ جس طرح یہ حرکت اس کے لیے بُری ہے بالکل اسی طرح میرے لیے بھی بری، حرام اور ناجائز ہے ۔اس لیے کہ سورۃ نور میں خود اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ:

’’ گندی عورتیں گندے مردوں کے لیے اور گندے مرد گندی عورتوں کے لیے اور صاف مرد صاف عورتوں کے لیے اور صاف عورتیں صاف مردوں کے لیے ہیں۔ ‘‘اور اس شخصیت کا ارشاد ہے جس سے زیادہ کوئی سچا نہیں کہعفوا تعف نسائکم تم خود صاف رہو تو تمہاری عورتیں بھی صاف رہیں گی اگر تم غلط ہو تو اپنی عورتوں کے بارے میں یہ روش کیسی ؟حقیقت یہ ہے کہ مرد کو چھوڑ کر صرف عورت ذات کے ساتھ ہمارا یہ رویہ نہایت ہی ظالمانہ اور بے جادلیرانہ ہے۔

دوسرا سبب؛ نگرانی میں سستی:

شریعت میں سختی نہیں عام لوگ بھی یہی کہتے ہیں اور ٹھیک کہتے ہیں لیکن کیا شریعت میں پابندی بھی نہیں؟پردے کی تاکید نہیں؟ غلط بات سے منع رہنے اور رکنے کی پابندیاں نہیں؟ بلکہ بچوں اور بیویوں کو مارنے تک کا تذکرہ شریعت میں موجود نہیں؟یہ پولیس، فوج، کرفیو، انتظامی ادارے اور مربی کی ڈانٹ ڈپٹ کیاسختیاں ہیں؟یا فائدہ بخش اصول؟ شریعت میں سختی نہیں لیکن صحیح پابندی ہے؛ بہن ،بیٹی اور بیوی جس طرح کے بھی کپڑے پہن لیں باریک ہوں یا چست نیم عریاں ہوں یاساڑھی، یہ بھائی، باپ اور بیٹا دیکھتا رہے گا اور کوئی نصیحت نہیں کرے گا(پابندی اور سختی میں فرق یہ ہے کہ ایک میں فائدہ اور دوسرے میں نقصان ہے جس طرح چوراہے میں لال بتی کا جلنا پابندی اور فائدہ بخش ہے لیکن بے جا کسی کو روکنا اور آگے(باوجود راستے کے صاف ہونے کے )جانے نہ دیناسختی ہے۔

تیسرا سبب ؛دینی مجالس سے دوری:

دنوں پر دن گزر جاتے ہیں لیکن ہمارے گھروں میں تقویٰ، للہیت ،فکرِ آخرت، موت کی یاد،اعمال کا شوق اور قبر میں جانے کے لیے کوئی بات نہیں ہوتی، دن رات گپ شب، ڈرامے فلم ٹی وی، اور کاروباری باتیں کرتے ہیں، کم از کم چوبیس گھنٹے میں ایک آدھا گھنٹہ دینی تعلیم و تعلم کے لیے مقرر کرنا چاہیے جس میں گھر کے افراد آپس میں علم وعمل اور دینی باتوں کا تذکرہ کریں۔

چوتھا سبب؛ آلات نشریات کا غلط استعمال:

ڈش، کیبل، ٹی وی، وی سی آروغیرہ۔اگر یہ آلات آپ از خود گھر لاچکے ہیں تو یہ توقع نہ نہ رکھیں کہ گھر والوں کے لیے شہوات نہ ابھریں؟ ان کے دلوں میں گندے خیالات نہ ابھریں ؟ جب یہ چیزیں دلوں میں پناہ گزیں ہوجائیں تو اولاد سے خیر کی توقع، چھوٹے بڑے کی تمیز کا مطالبہ اور شرم وحیا کے وجود کاسوال ایسا ہے جیسا کہ نڑکے پودے کو گنے کی مشین میں ڈال کر جوس کا مطالبہ، از خود سامان تعیش مہیا کرکے آگ لگاتے ہیں اور شعلوں سے منع بھی کرتے ہیں۔

ہم خدا خواہی وہم دنیا دوں

ایں خیال است ومحال است وجنوں

پانچواں سبب؛ صحیح شرعی پردے کا فقدان:

آج کل جورواجی پردہ ہے اس سے تو پردہ نہ کرنا اچھا ہے ، صرف سکارف پہن کر پورے بدن تنگ کپڑوں میں نظر آتاہے، یا ایسی گرے کلر یا کالی مخصوص قسم کی چادریں پہن لیتی ہیں جو بدن سے چپک جاتی ہیں اور بدن کے سارے اعضاء الگ الگ نظر آتے ہیں۔ پردہ کا مقصد یہی ہے کہ مردوں کی نظر کی حفاظت ہوجائے اور عورت کاحسن چھپ جائے جس پردے میں یہ صفت نہ ہووہ پردہ نہیں بلکہ بے پردگی ہے۔ صحابیات اس طرح پردہ کرتیں کہ چمک دمک کے بغیر گھٹنوں سے نیچے تک موٹی چادریں پہن لیتی اور صرف ایک آنکھ کھول کر دیوار سے لگ لگ کر شرم و حیا کے ساتھ چلتیں۔پردہ میں یہ بھی شامل ہے کہ عورت 78کیلومیٹر پیدل سفر کے تناسب سے دور جائے تو محرم مرد ساتھ ہو۔ اکیلی نہ جائے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق دوسروں سے زیادہ اپنوں سے پردہ کرنے کی ضرورت ہے لیکن ہم ان سے پردہ نہیں کرتے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے کہ دیور سے اس طرح بھاگو جس طرح موت سے بھاگتے ہو صرف دیور نہیں بلکہ ہر عورت کے لیے اپنے اور خاوند کے ماموں زاد، خالہ زاد، چچازاد جس کو ہم ’’بھائی‘‘ کہتے ہیں سے پردہ ہے۔

چھٹا سبب ؛روک ٹوک کی کمی:

کسی بھی وقت اگر لڑکی کہے کہ میں آج فلاں سہیلی کے گھر رات گزاروں گی میں بازار جا رہی ہو یاموں، چچا اور خالہ کے گھر رات گزاروں گی تواس پرکوئی پابندی نہیں ،کسی وقت سیر کے لیے نکل سکتی ہے کسی بھی وقت شاپنگ کرسکتی ہے میرے خیال کے مطابق یہی سبب ایسا خطرناک ہے جس کاکوئی انداز ہ نہیں، جس سے رونما ہونے والی مفاسد کے درجنوں واقعات میرے ذہن میں گردش کررہے ہیں، جس کا ذکر نہ کرنا بہترہے۔

ساتوں سبب؛ معاشرے کا تشتت:

چونکہ عورت اپنے دائرہ کار میں نگرانی ہی کے ذریعے رہتی ہے اور اگر شومیٔ اعمال سے گھر کا نگران ہی نہ ہوتوعورت کو کھلی چھٹی مل جاتی ہے جو جی میں آیا کرگزرتی ہے، یہاں پرمحلہ علاقہ ، بستی اور قریبی رشتہ داروں کا باہمی جوڑ، اصلاحی کمیٹی اور جرگہ سسٹم کام آتا ہے ہر جگہ پر اس طرح کی ایک کمیٹی ہونی چاہیے جو بزرگوں پر مشتمل ہو اور وہ عوام الناس کے مسائل کا تصفیہ کریں اگر کوئی بے بس ہو تو اس کی مدد کرے اور اگر کوئی مرد یا عورت غلط راستے پر جا رہی ہو تو اس کو نرمی کے بعد قوت سے روکیں اور اگر منع نہ ہوتوعلاقے والے ان سے سوشل بائیکاٹ کرلیں۔

اٹھواں سبب؛ غلط اعتماد:

شریعت میں اعتماد ایک اہم اصل ہے اور یہ کہ کسی پر شک نہیں کرنا چاہیے لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ آپ نگرانی اور پابندی چھوڑ دیں، ہر شخص کو دفاتر ہسپتال ، مخلوط تعلیم اور عوامی تعلیم سے منسلک مستورات کی حالت زار کاعلم ہے کہ وہ کسی موڑ سے گزر رہی ہیں اور کیا کچھ ہو رہا ہے ؟ لیکن ہر ایک کی نفسیات یہ بنی ہوئی ہے کہ میری بہن، بیوی اور بیٹی ٹھیک ہے باقی غلط ہوں گے، جو کچھ ہو رہاہے ہمارے ساتھ نہیں ہو رہا اس کو اس وقت پتا چلتاہے جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے

نواں سبب؛ مخلوط معاشرہ:

مسلمانوں کی عزت ،عظمت اور عصمت کو مخلوط سوسائٹی نے جتنا نقصان پہنچایا، اندازے سے باہر ہے۔عورت میں جہاں اللہ کریم نے صبر، عفت ،شرم وحیا، نرم دلی، قوت برداشت ،غم خواری اور ایثار کا جذبہ رکھا وہاں اگر یہ نفس اور شیطان کے کہنے کے مطابق چلے تو قرآن اس کے بارے میں فرماتاہے:’’ اِنَّ کَیْدَکُنَّ عَظِیْمٌ۔‘‘عورتو !تمہارا مکر نہایت ہی بڑاہے شیطان کے مکر کو بڑا نہیں کہا ہے لیکن عورت کے فریب کو بڑا کہاہے اللہ نہ کرے اگر عورت بے دین ہو جائے تو یہ اپنی بے دینی کی بناء پر ایسا انداز اختیار کرلیتی ہے کہ خاوند، بھائی اور باپ کو متاثر کر لیتی ہے اور اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے آنسو بہانا اس کے لیے دو منٹ کاکام ہے نا محرم مرد ڈرائیوروں کے ساتھ اپنی جوان بچیوں کو بٹھا دیتے ہیں لیکن انجام کانہیں سوچتے ہیں۔

چشم دیدہ واقعات ہیں کئی مرتبہ وہی ڈرائیور سکول کالج چھوڑنے کے بجائے کسی تفریح گاہ ہوٹل اور محفوظ مقام پر پہنچا دیتے ہیں اسی طرح Co.Educationکالج یونیورسٹیوں میں بچیوں کو بھیجنا اخلاق کے لیے کینسر اور عزت وناموس کے لیے کسی لاعلاج مرض سے کم نہیں ۔اب تو چوری چھپکے کی بات ختم ہوگئی کلاس روموں میں کالج یونیورسٹیوں کے سامنے پارکوں میں اور تفریح گاہوں میں پڑھنے والے بچوں اور بچیوں کی آپس میں بات چیت مذاق بلکہ ہاتھ کا مذاق کسی سے چھپی ڈھکی بات نہیں ہے، ہر ایک یہی کہے گا کہ میری بچی اور بچہ پاک صاف ہے لیکن یہ سب کچھ کون کر رہا ہے ؟ اور الحمد للہ اگر آپ کی بچی پاک بھی ہے تو کیسے اس ماحول سے بچ سکتی ہے ؟ لہٰذا قرآن پر عمل کی اشد ضرورت ہے۔

دسواں سبب ؛ہماری انتظامیہ:

جب چوکیدار چور، محافظ ڈاکو، ڈاکٹر بیمار اور ہدایت دینے والے گمراہ بن جائیں تو نظم ونسق کی بحالی کہاں ممکن ہے؟ ہر گلی اور مصروف شارع پر پولیس کے جوان موجود ہوتے ہیں، اگر یہ اصلاح لانا چاہیںتو کیا اصلاح نہیں ہوسکتی اس کے لیے بھی پولیس مختلف بہانے بناتے ہیں، اجی بڑے بیمار ہیں گزارہ مشکل ہے جب فلاں غلط تو ہم بھی غلط اگر صحیح کام چلانا چاہیں تو چین سے بیٹھنے نہیں دیتے وغیرہ وغیرہ اگرچہ اصل بات یہ ہے کہ کل اللہ کے دربار میں ان بہانوں میں سے کوئی بہانہ چل جائیگا؟ہرگز نہیں۔

گیارھواں سبب ؛غربت:

عوت کے گندگی میں جانے کے متعلق بطور خاص یہ بات ذکر کی جاتی ہے کہ غربت کی بنا پر موجود کئی عورتیں گندگی کی طرف جانے پر مجبور ہیں اگرچہ اصل بات وہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد :

’’وَلَا عَالَ مَنْ اِقْتَصَدَ۔‘

(وہ کبھی فقیر نہیں ہوگا جو خرچہ میں میانہ روی سے چلے) پر عمل نہ کرنے اور تقویٰ کے فقدان نے اس چیز کو جنم دیا ہے۔ اس لیے کہ دو ہزار کا ملازم اپنے گھر کا خرچہ چلا سکتاہے اور فعل قبیح کا ارتکاب کرنے والی ایک دن میں ہزاروں کما کر گزارہ نہیں کرسکتی، شریعت نے خرچے کا بوجھ والد بھائی اور شوہر کی موجودگی میں خاوند پر ڈال رکھا ہے اگر یہ نہ ہو یا گزارہ مشکل ہو تو عورت پردے میں رہ کر ذکر کردہ شرائط کو مدنظر رکھ کر ملازمت کر سکتی ہے ۔تو گندگی کے ذریعے کمائی کی کیا ضرورت؟ اللہ کا ڈر آخرت کی فکر موت کی یاد اور قبر کے لیے تیاری کا غم ختم ہوگیا اللہ کریم کا ارشاد ہے :’’اے مسلمانو! زنا کے قریب مت جائو یہ گندہ اور برا راستہ ہے ۔

حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی شب دیکھا کہ جو عورتیں زنا کرتی ہیں ان کے لیے جہنم میں آگ کا ایک تندورتیار کیاگیاہے جس کا منڈیر تنگ اور نچلا حصہ وسیع ہے اس میں ان عورتوں کو ننگا جلایا جائے گا اور آگ کی شدت کی وجہ سے زانی عورتیں اوپر کے حصے تک آئیں گی ۔

(بخاری شریف )

حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ سات آدمی قیامت کے ہولنا ک اور گرم دن میں عرش کے سائے کے نیچے ہوں گے جن پر کوئی غم نہیں ہوگا ایک وہ شخص جس کو زنا کا موقعہ مل جائے اور وہ یہ کہہ کر چھوڑ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔

(بخاری ومسلم)

ناجائز باتوں کے لیے ہم مختلف حیلے بہانے بناتے ہیں ایسا بہانہ بنائو جو کل اللہ کے دربارمیں چل سکے۔

بارھواں سبب؛شادی میںتاخیر اور گرانی جہیز کی لعنت:

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ پاک پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین چیزوں میں تاخیر مت کرو ؛نماز جنازہ اور بالغ بچی کے نکاح میں جس کے لیے برابر کا جوڑمل جائے بلوغ کے بعد بچوں سے جو گناہ سرزد ہوتے ہیں والدین اس میں برابر کے شریک ہوتے ہیں قیامت میں ان کو سزا ملے گی آج کل جتنی پریشانیاں ہمارے اوپر سوار ہیں یہ ہماری اپنی پیدا کردہ ہیں ۔

تیرھواں سبب؛ حدود وقصاص کا عد م نفاذ:

اگر قرآن کے ارشاد کے مطابق ایک ڈاکو کو قتل کی سزا میں چوراہے پر قصا صاً لٹکا دیا جائے ایک چور کا ہاتھ دنیا کے سامنے کاٹ دیا جائے ایک شادی شدہ زانی کو بڑے چوراہے پر رجم کیا جائے یا شرابی کو کوڑے لگادئیے جائیں تو کیا کوئی قاتل ، زانی ، شرابی اور چور،رہے گا؟ اللہ تعالیٰ ہم کو گھر کی صحیح نگرانی ، اپنے عمل کی اصلاح اور معاشرے کو صحیح رخ پر ڈالنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

آمین ثم آمین

Rate this item
(13 votes)

مذاہب عالم سے اسلام کا تقابلی جائزہ

فوزیہ چوہدری، مانسہرہ

۱: ہندومت: ہندومذہب کا آغاز1500قبل مسیح میں ہواآریہ قبائل جب ہندوستان میں داخل ہوئے تو وہ اپنے ساتھ کچھ عقائد اور نظریات بھی لائے تھے مگر وہ ہندوستانی باشندوں کے وعقائد سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ ہندوستان میں آریائوں کی آمد سے قبل چند خدا دراوڑی نظریے کے مطابق موجود تھے اورکچھ آریا اپنے ساتھ لائے تھے مگر رفتہ رفتہ ہرکام اوربالآخر ہر مطلب کے لیے الگ الگ دیوتا کی پرستش کرتا ہندومت کے پیروکاروں کی مذہبی عادت بن گئی۔

کرم کاتصور:

ہندومت میں قربانی کو خاص اہمیت حاصل تھی کرم لفظ ہندی میں قربانی کے لیے ہی استعمال کیاجاتاتھا اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ اس سے انسان کو نجات مل جاتی ہے اور اگلا جنم اس کے لیے سکون کاباعث بنتاہے انسان اس دنیا میں جس قسم کے اعمال کرتاہے ان کی سزااسے بھگتا پڑے گی۔

ذات پات کا نظام:

ہندوستان میں ذات پات کا نظام آج بھی عروج پرہے اس نظام کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کو چلانے کے لیے خالق نے چار ذاتیں بنائی ہیں برہمن ،کھشتری،ویش اور شودر۔

برہمن سب سے برتر وافضل ہے کیونکہ ان کے خالق نے اپنے منہ سے پیدا کیاہے کھشتریوں کا کام حکومت کرنا اور دنیاوی نعمتوں سے فائدہ حاصل کرنا ہے ویش کا کام تجارت وزاعت ہے جب کہ شودر صرف اور صرف برہمنوں کی خلافت کے لیے ہے ۔شودرسور اورکتے کی طرح ناپاک ہیں شودر وہی کھاناکھاسکتاہے جوبرہمن کا جھوٹاہو۔شودر صرف ایک بار مہینے میں حجامت بنوائے اور اس کی غذا برہمن کا کھایاہوا جھوٹا کھاناہے۔

(پانچواں ادھائے اشکوک 140)

ہندومت میں شودر کو انتہائی گھٹیاا وررسواسمجھاجاتاہے وہ اپنے مذہب اور عبادت کے متعلق درس دیناتو درکنار اگر چھپ کرسن بھی لے تواس کی سخت سے سخت سزاہے بدھ مت میں ہندومت کی مخالفت کے آثار بھی ذات پات کا نظام ہی ہے۔

بدھ مت:

بدھ مت کے بانی گوتم بدھ کا اصل نام’’ سدھارتایاساکھیامنی‘‘ تھا۔وہ ایک امیر گھرانے میں پیداہوئے ابتدائی زندگی شہزادوں کی طرح گزاری ان کی پیدائش کے وقت نجومیوں نے کہاکہ اگر انہوں نے بڑے ہوکردنیا کے مصائب کا مشاہدہ کرلیاتو وہ رہبانیت اختیار کریں گے اور اگر انہوں نے مصائب کا مشاہدہ نہ کیاتو وہ بادشاہ بنیں گے۔

گوتم بدھ کے والد نے یہ سن کر اس بات کا اہتمام کیاکہ وہ مصائب وآلام سے واقفیت حاصل نہ کرسکیں ان کی توجہ عیش وعشرت کی طرف مائل کرنے کے لیے زبردست انتظامات کیے گئے انہیں محل میں ہی تمام آسائش دی گئیں تاکہ دنیاوی مصائب سے بے خبر رہیں مگر ایک دن اس سب کے باوجود انہوں نے حقیقت جان لی۔

انہوںنے ایک بوڑھا دیکھا ضعف کی وجہ سے اس کی کمر جھکی ہوئی تھی کمزوری کی بدولت اس کا چلناپھرنا محال تھا، ایک لاش دیکھی جس کے اردگرد بچے اور بوڑھے ماتم کر رہے ہیں مریض دیکھاجو درد کی شدت سے کراہ رہاتھا، غرض ان سب کو دیکھ کردنیا کی حقیقت ان پرکھل گئی کہ دنیا فانی ہے دنیا کی بے پناہ آسائشوں سے بھی کوئی دلی سکون حاصل نہیں کرسکا، انہوں نے اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کو الوداع کرکے درویشانہ طریقہ اختیار کرلیا، حق کی تلاش میں وہ بیابانوں اور صحرائوں میں پھرتے رہے چونکہ ان کی ابتداء ہندوطرز معاشرت پرہوئی تھی۔ اس لیے انہوںنے سب سے پہلے ہندو مت میں ہی سچائی تلاش کرنے کی کوشش کی مگر اس میں اونچ نیچ اور ذات پات کے سوا کچھ دکھائی نہ دیا اور وہ سچائی پانے سے قاصر رہے۔

آخر کار اپنے چیلوں سے کہاکہ میں نے یہ مان لیاہے کہ حقیقت کی تلاش اور ریاضت بے کارہے اس لیے تم اس سے پرہیز کرنا۔چنانچہ گوتم بدھ نے خود آگاہی شروع کی، اس دوران وہ پیپل کے درخت کے نیچے بیٹھ گئے کئی فاقے اور صعوبتیں برداشت کیں اور بالآخر بدھی یعنی روحانی روشنی (بزعم خود… ادارہ)حاصل کرلی جس کی وجہ سے انہیں بدھ کہاجانے لگا۔ چونکہ ان کے قبیلے کانام گوتم تھا اس لیے عام طور پر انہیں گوتم بدھ کہاجاتاہے۔گوتم بدھ نے جس مذہب کی تبلیغ دی اس میں دیوی دیوتائوں کی پوجاکاحکم نہ تھا۔ اس سے ہندوانہ عقیدوں کی شدید مخالفت ہوئی ہندو اس مذہب سے شدید نفرت کرتے تھے ۔

کفارہ:

بدھ مت میںتوبہ اور کفارہ کا سرے سے تصور ہی نہیں ہے اور نہ اس کی گنجائش ہے ان کے نزدیک اگر گناہ کیاجاسکتاہے توپھر اس کی سزابھی بھگتی جاسکتی ہے۔

بدھ مت اورخدا:

بدھ کے متعلق کہاجاتاہے کہ اس نے خداکے وجود کا انکار کیاہے، بدھ مذہب میں عبادات اوراعتقادات کا کوئی خاص مقام نہیں اور نہ ہی نجات کاکوئی واضح عقیدہ موجود ہے اسی وجہ سے کہاجاتاہے کہ گو تم بدھ خداکے وجود کا منکرتھا، مگر اس کی بھی اصل کچھ نہیں ہے کیونکہ خود گوتم نے کبھی ایسا دعویٰ نہیں کیاکہ وہ خدا کے منصب پرفائز ہے یا اپنے پیروکاروں کے لیے نجات دہندہ ہے۔بدھ مت میں خدا کی ذات اور صفات کے متعلق خاص نشاندہی نہ ملتی تھی، البتہ جب مدتوں بعد بدھ مت کے پیروکاروں میں اختلاف ہوا تو کئی نظریات نے جنم لیا ۔ بدھ مت دوبڑے فرقوں میں تقسیم ہوگیا۔ ایک تصور تو یہ تھاکہ ہرکام اور ہرضرورت کے لیے دیوی اور دیوتائوں کا اپنا اپنا مخصوص دائرہ اختیار ہے یعنی کہ ہندومت کے قدیم دیوی اور دیوتائوں کا تصور تھا۔دوسرا تصور خدا کے بارے میں یہ تھاکہ وہ قادر مطلق ہے تمام طاقتوں اور فیوض کا سرشمہ وہی ہے وہی کائنات کا خالق بھی ہے۔ایک دوسرے فرقہ جس نے یہ تبلیغ دی کہ خدا بدھ کی صورت میں ظاہر ہوا یہ نظریہ بدھ کے تعلیمات کی منافی ہے مگر اس کے پیروکاروں نے ان تعلیمات کو فراموش کر دیا ۔

بدھ مت کی سب سے بڑی کمزوری عبودیت کی ہے کیونکہ اس میں کہیں بھی خدا کی عبادت کاتصور نظر نہیں آتا اور ایک بشر کے لیے عبادت ِخدا نے بغیر تسکین حاصل کرناممکن نہیں۔ یہ بہت بڑی خامی تھی جو بدھ مت کے ابتدائی دور میں رہی کیونکہ اس میں نہ تو دیوی دیوتائوں کے پوجنے کی اجازت تھی اور نہ خدا کی عبادت کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی جس کی بدولت بدھ مت کے پیروکارگوتم بدھ کا مجسمہ بناکراس کی پرستش میں لگ گئے تھے تاکہ دلوں کو تسکین حاصل ہو۔

یہودی مذہب:

یہودی کاسلسلہ قدیم سامی اقوام سے ہے اور ان کا قدیم وطن عراق ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے نبوت عطاکی تواس وقت بنی اسرائیل کسی ایک خداکی پوجا نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے کئی خدا تھے یہودی اپنے قومی دیوتا مولک کے حضور اپنی قربانی پیش کرتے تھے کئی عرصہ تک اس دیوتاکوبھی یہودا کہاجانے لگا خاندانی دیوتا الگ الگ تھے اور ان کی پوجا بھی کی جاتی تھی ایک دوسرے کے خاندانوں کے دیوتائوں کی پوجا نہیں کی جاتی تھی۔

یہودی نظریات:

یہودی خدا کی وحدانیت کا اقرارکرتے ہیں یہودی عقائد کے مطابق یہ دنیا تسکین آورہے اور اسے حاصل کرنا ہر کسی کا حق ہے یہودیت میں تبلیغ کرنا اچھا نہیں سمجھاجاتاان کے ہاں ہفتے میں ایک تعطیل بھی ہے جو جمعہ کے دن غروب آفتاب سے شروع ہوکرہفتہ کی رات ستاروں کے طلوع ہونے تک رہتی ہے اسے ’’سبت ‘‘کی تعطیل کانام دیاگیاہے اس دن عبادت کی جاتی ہے اورکوئی دنیاوی کام نہیں کیاجاتا۔

یہودیوں کے فرقے:

تمام یہودی حضرت موسیٰ حضرت ہارون اور حضرت یوشع علیہم السلام پر ایمان لاتے ہیں اس طرح یہودی تمام پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں سب یہودی اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی بھی پیغمبر دوسرے پیغمبر کے لائے ہوئے احکامات کو منسوخ نہیں کرسکتا۔

یہودیوں کا مقدر:

یہودی حکومت اور سلطنت کے اعتبار سے کہیں بھی خود مختار اور مضبوط قوم نہیں رہے اور نہ رہیں گے یہودیوں کو ہردور میں نقصان پہنچتا رہاہے یروشلم کے فاتحین نے یہودیوں کی نسل کشی کے ساتھ ساتھ ان کے صحیفوں کو بھی نقصان پہنچایا، یہودی؛ دنیا میں ہمیشہ کم تعداد میں رہے ہیں ان پر ہمیشہ کے لیے عزت وعظمت کے دروازے قرآن مجید نے یہ کہہ کر بند کردیے ’’اور ان پر ذلت اور بے چارگی مسلط کردی گئی ہے اور یہ قوم غضب کی مستحق قرارپائی۔‘‘

عیسائیت:

دنیا میںعیسائیت کے پیروکاروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت سے مذہبی اجارہ داری خطرے میں نظرآنے لگی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا ایک ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع کردیا، عیسائیوں میںحضرت عیسی علیہ السلام کے مغلوب ہونے پر کوئی متفق قول نہیں ہے، کئی اقوال نقل کئے گئے ہیں جن سے معلوم ہوتاہے کہ حقیقت عیسائیوں سے بھی مشتبہ ہے ان میں سے کوئی کہتاہے کہ صلیب پر جو شخص چڑھایاگیاتھا وہ مسیح نہ تھا بلکہ مسیح کی شکل میں کوئی اور تھا ۔کوئی کہتاہے کہ انہوں نے صلیب پر جان دے دی غرض عیسائیوں کو اپنے مذہب کی اہم معلومات میں بھی شبہ ہے۔

عیسائیوں کا کفر:

عیسائیوں کا خیال یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ خدا کا اکلوتا بیٹاہے اور خدانے اپنے اکلوتے بیٹے کو زمین پر اس لیے بھیجا ہے کہ وہ انسانوں کے گناہوں کو اپنے سرسے لے کر صلیب پر چڑھ جائے اور اپنے خون سے گناہ کا کفارہ کرے، حالانکہ یہ محض عیسائیوں کاخیال ہے اس بات کا ثبوت مسیح علیہ السلام کے کسی قول سے ثابت نہیں اور اس کا تصوربھی نہیں کیاجاسکتا۔

اسلام:

اب باری آتی ہے اسلام کی جو تمام ادیان عالم کا سردار ہے اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس میں ہر مقصد اور ہر عبادت کی حقیقت ہے زندگی کے ہر شعبہ کی ہدایات اس میں موجود ہیں اسلام میں تمام پیغمبروں پر ایمان لانا ضروری ہے کسی ایک پیغمبر کونہ ماننا اسلام نہیں۔ اسلام ایک سچا مذہب ہے قرآن مجید میں ارشاد ہے: ان الدین عند اللہ الاسلام

ترجمہ: بے شک خدا کے نزدیک اصل دین تو اسلام ہے۔(آل عمران 16)

اسلام جس نظام زندگی کانام ہے اس کی ماخذ اللہ کی کتاب(قرآن کریم )ہے اور اس کارسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو اپنی زندگی کو قرآن وسنت کے مطابق ڈھال دیتاہے اسلام ایسا مذہب ہے جوکسی قسم کے جبر کا حکم نہیں دیتا جو چاہے اطاعت و فرمانبرداری اختیارکرے اور جو چاہے بغاوت کی راہ پر چل پڑے، اسلام میں ذات پات کا کوئی وجود نہیں اور بعض مقام پر اس کی کھل کر مخالفت بھی کی گئی ہے۔

خداکااقرار:

اسلام میں سب سے پہلے جس چیز پر ایمان لاناضروری ہے وہ ہے اللہ رب العالمین کی ذات۔ یعنی خداکامنکر مسلمان نہیں ہوسکتا، ایک مومن کا عقیدہ ہوناچاہیے کہ اللہ ایک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کے سامنے ہی جھکنا چاہیے اوراسی سے محبت کرنی چاہیے۔

خداکے وجود کا سب سے بڑاثبوت کائنات ہی ہے میں نے درختوں سے پتے جھڑتے دیکھے، زمین سے پانی نکلتا دیکھا،آسمان پر چھائے بادل دیکھے تو اس حقیقت سے انکارنہ کر سکی کہ ان سب کا موجد اور خالق موجود ہے جب ہم سوچتے ہیں کہ ایک سلطنت بادشاہ کے بغیر نہیں چل سکتی تو وہ خدا ہی ہے جو اس تمام دنیا کو چلارہاہے دنیاکے اور تمام مذاہب نے خدا کو جن صفات کے ساتھ پیش کیاہے وہ نامکمل اور ناقص ہے جب کہ اسلام میں خدائے واحد کی تمام صفات مبارکہ موجودہیں ۔ایک مومن کبھی مایوسی نہیں ہوتاکیونکہ اسے معلوم ہوتاہے کہ خدا کا سہارا اس کے ساتھ ہے اور وہ اسے کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گا۔

نبوت کے امین:

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس برس کی عمر میں نبوت ملی آپ کو نبوت ملنے سے پہلے بھی لوگ صادق اور امین کہہ کر مخاطب کرتے تھے امانت داری کایہ عالم تھا کہ مکہ کے مشرکین بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس امانتیں رکھواتے تھے ۔

یہی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کے صدقے یہ کائنات بنائی گئی ہے انہوںنے کبھی عیش وآرام کو پسند نہیں کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دو دو مہینے گزر جاتے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے مکانات میں چولہا نہیں جلتاتھا کھجور اور پانی پر گزرہوتا تھا اگر نبی پاک چاہتے تو انہیںقیصروکسریٰ سے زیادہ دولت عطا فرماسکتے تھے، مگرنبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے قدرت رکھنے کے باوجود تمام آسائشوں کو ٹھکرا کرآخرت کی طلب کی ۔اپنی امت کی بخشش طلب کی رات کو رو رو کر دعائیں کیں اپنی امت کے لیے کہ میری امت نارسے بچ جائے۔

ارکان اسلام:

اسلام کے پانچ ارکان ہیں:

۱:کلمہ ۲:نماز ۳:روزہ ۴:زکوۃ ۵:حج

کلمہ ایک بارپڑھ لیاکافی ہے مگر سچے دل سے پڑھنا ضروری ہے نماز دن میں پانچ مرتبہ فرض ہے روزے سال میں ایک مہینہ فرض ہیں زکوۃ اور حج صاحب حیثیت لوگوں پر فرض ہے ۔

تمام مذاہب کامحاسبہ:

ہندومذہب کے پیروکارتیس کروڑ خدائوں کے قائل ہیں تعجب یہ ہے کہ جودیوتا اپنی سیوا نہیں کرسکتے وہ اوروں کی کیاکریں گے ؟ ؟ مگر اس کے باوجود وہ اپنے دیوتاکے وجود پر ایمان کا اظہار کرتے ہیں۔بدھ مت نے خداکے وجود کا انکار تو نہیں کیا مگر اس کی زندگی میں خداکے وجود کی نشاندہی نہیں ملتی، گو تم کے نزدیک ہر شخص غیبی طاقت کے بغیر بھی اپنے نفس پر قابوپا سکتا ہے۔

یہودیت کی بنیاد خدا کی وحدانیت اور بنی اسرائیل۔ خدا کی منتخب کردہ امت تمام الہامی مذاہب خدا کی وحدانیت کو تسلیم کرتے تھے مگر بعد میں لوگوں نے اپنی خواہشات اور نظریات کے مطابق اس تصور کو خالص نہ رہنے دیا۔عیسائیت کے داعی بھی تثلیث کا تصور رکھتے ہیں اور کفریانہ طورپرحضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں ان کا نظریہ کفر اور شرک پر مبنی ہے۔اسلام لاثانی مذہب ہے، اس کے فرمانبردار صر ف ایک خداکے قائل ہیں جوتمام جہانوں کا مالک ہے وہ جو چاہے جب چاہے جس کے بارے میں چاہے سب کچھ کرسکتاہے کوئی چیز اس کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی قرآن مجید میں ارشادہے:’’اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم !آپ لوگوں کو بتلادیں کہ اللہ ایک ہے اللہ بے نیاز ہے نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے ۔

جس پر ایمان لاناکامل ایمان ہے وہ ہیں محمد عربی جسے ان سے محبت ہے اسے خدا سے بھی محبت ہے مسلمانوں کو ہادی عالم سے محبت کیوں نہ ہو؟ وہ راتوں کواٹھ اٹھ کر اپنی امت کی بھلائی کے لیے دعائیں مانگتے تھے، تاریخ شاہد ہے کہ کسی مذہب کے پیشوا یا راہنمانے اپنی آل کے لیے اتنے مصائب برداشت نہیں کیے جتنے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے برداشت کیے ہیں اسی لیے کروڑوں سلام محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر۔

 

Rate this item
(2 votes)

DARULIFTA

Visit: DARUL IFTA

Islahun Nisa

Visit: Islahun Nisa

Latest Items

Contact us

Markaz Ahlus Sunnah Wal Jama'h, 87 SB, Lahore Road, Sargodha.

  • Cell: +(92) 
You are here: Home Islamic Articles (Urdu)

By: Cogent Devs - A Design & Development Company