Articles Urdu (275)
اے عشق تیرا شکریہ!!!
مولانا رضوان عزیز
کوئی فطرت کا ہٹیا، دماغ کا مغرور یایوں کہیے جس کی اوپر والی منزل کرایے کے لیے خالی تھی دوران سفر پیدل چلتے ہوئے گاجریں کھارہاتھا اورکھانے کا انداز وہی تھا جسے پنجابی میں کہتے ہیں، رجی مینہ کھنواں دا اجاڑا(بھینس کا پیٹ بھرا ہوا ہوتو پھر کھیت کو برباد کرتی ہے)یہ صاحب بھی شوریدگی بطن کے ہاتھوں وبال پائوں تھے جیسے ابوالکلام آزاد مرحوم نے ایک شعر نقل کیاہے
شوریدگی کے ہاتھوں سرہے وبال دوش
اس صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں ہے
اسی صاحب کے پیٹ میں بھی بہت سا کھانا تھا اب معلوم نہیں ریال تھے یا جہادی اموال۔ بہرحال گاجر کو پکڑتے اپنے مسلکی مونو گرام جس کی پائوں کھول کر باجماعت نمائش کرتے ہیں اس سے ٹکراکر زمیں پر پھینک دیتے کہ اس کی ضرورت نہیں بہرحال جب تمام گاجریں اپنے ناک پرہاتھ رکھ کر طواف کوئے جاناں کے ناخوشگوار فریضے سے فارغ ہوئیں تو جناب کی منزل بھی قریب تھی واپسی پر بھوک نے ستایا تو بے بس ہوکر دل نے کہا:اب وہی دیے جلیں گے تو روشنی ہوگی، جنہیں بے مصروف سمجھ کر سرراہ بجھا دیا تھا مگر وہ تو اب استعمال کے قابل نہ رہی تھیں مگر اب مرتا کیا نہ کرتا گاجر اٹھاتا اور اپنے دل کو سمجھاتاکہ شاید اس گاجرکی ثلاثی مجرد وخماسی مزیدفیہ سے ملاقات نہیں ہوئی اور کھالیتا حتی کہ جتنی گاجریں راستے میں عملا ناپاک کرکے پھینکی تھیں ساری دوبارہ تاویلا پاک کرکے کھالیں ۔
اس مثال کو ذھن میں رکھتے ہوئے عبدالحق بنارسی سابقہ ہندو کے ایجاد کردہ فرقہ کا مطالعہ کریں ان کے افراد سے ملیں تو سب کا یہی مشغلہ نظر آئے گا ہر ایک کو حقارت سے ٹھکراتے جانا اور پھر دوبارہ ضرورت پڑنے پر سینے سے لگاتے جانا۔ اکابر بیزار اس طبقے کی گرگٹ سے مستعار لی ہوئی یہ رنگ بدلنے کی پالیسی آئے دن ہمارے مشاہدے میں رہتی ہے مگر پچھلے دنوں غالبا 13 فروری کو الحمراھال لاہور میں ناموس رسالت کے حوالے سے ایک کانفرنس تھی جس میں میزبانی کے فرائض انٹرنیشنل ختم نبوت کے احباب سرانجام دے رہے تھے اورمختلف مذہبی جماعتوں کے نمائندے اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے کہ اکابر بیزار تحریک کے ایک ذمہ دار شیخ یعقوب نامی شخص سٹیج پر آیااور عجیب بات کہہ دی جب فضیلۃ الشیخ مخدوم مکرم حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی تشریف لائے تو شیخ یعقوب نے کہ الحمدللہ !ہمارے اکابرکی برکت تمہارے اکابرکے ساتھ ہے۔
لجا گئے شرما گئے دامن چھڑا گئے
اے عشق تیرا شکریہ یہاں تک تو آگئے
امیر ہمزۃ اللمزہ بھی یہ سن کر تڑپ گئے اور نذیر حسین دھلوی شیخ الکل فی الکل بالکل کی روح بھی بے قرار ہو گئی ہوگی۔(الشیخ الکل فی الکل اس لیے ہیںکہ اس وقت کے کل اہل حدیثوں کے شیخ یہ تھے اس لیے انہیں شیخ الکل فی الکل کہا جاتاہے)کہ کتنی محنتوںسے ہم نے امت کو اسلاف سے توڑا ہے اکابرین پر تبرہ بازی دشنام طرا زی کے لیے کیمونسٹوں سے زنبورخریدے جس کاقلم الزام تراشی وکذب بیانی میں وحدہ لاشریک ہے جن کی گستاخ زبان اور آوارہ ذوق تحریر سے امام اعظم ابوحنیفہ امام محمد بن حسن شیبانی جیسے اساطین علم محفوظ نہ رہے اکابرین کے خلاف زہر اگلتا یہ فرقہ اچانک کیسے پینترا بدل گیا جن کو قدم قدم پر صرف اس لیے ٹھکرایا تھاکہ اپنا پیٹ خود ساختہ تحقیق سے بھرا ہواتھا ہر میوہ حق ٹھکرادیا آج انہیں میوہ جات کو البرکۃ مع اکابر کم کے نام سے اٹھا رہے ہیںصر ف یہ ہی نہیں کہ برکات کو تسلیم کیا بلکہ علمائے دیوبند جن کے خلاف ان کی زہر افشانیاں کسی سے مخفی نہیں ہیں اوران کا زنبور حقیقتا زبیر اسما اپنے الحدث میں اہل حق کے خلاف ہوائیں چھوڑتا رہتاہے کہ علمائے دیوبند کے عقائد کفریہ شرکیہ ہیں مگر شیخ یعقوب مناظر اسلام مولانا منظور احمد چنیوٹی کو بڑے عمدہ الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے۔
انہیں مناظر اسلام فخر علماء قاطع مرزائیت جیسے القاب سے نوازتاہے اب معلوم نہیں واقعی بھوک نے ساری گاجریں اٹھانے پر مجبور کردیاہے یا اپنے ہم نظریہ روافض سے تقیہ کی چادر خرید لی کہ جب اہل حق کے پروگرامز میں جانا ہوتوانہیں شیخ الاسلام، حجۃ اللہ فی الارض وغیرہ کے ناموں سے موسوم کرو اور جب خالص اپنا جلسہ یا کانفرنس ہوتو انہیں خوب بے نقط سنائو۔اسی دورخی پالیسی کوکیانام دیاجائے۔کہنے کو توبہت کچھ ہے اس فرقہ کے خبث باطن و لطافت ظاہر سے دل بینارکھنے والے تو واقف ہیں مگر شاید یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری حرکتوں پر کسی کی نظر نہیںہے۔
دل آزردہ شوی ورنہ سخن بسیار است
فقہ حنفی کے چند اہم مسائل اور احادیث مبارکہ
مولانامحمد کلیم اللہ
وحدانیات : امام اعظم کی وہ روایات جن میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تک صرف ایک واسطہ ہو ان روایات کو بھی ایک جگہ جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، اس سلسلہ میں بعض تفصیلات حسب ذیل ہیں : ٭جزء مارواہ ابوحنیفۃ عن الصحابۃ٭جامع ابومعشر عبدالکریم بن عبدالصمد شافعی ۔ امام سیوطی نے اس رسالہ کو تبییض الصحیفہ فی مناقب الامام ابی حنیفہ میں شامل کردیا ہے ، چنداحادیث قارئین ملاحظہ فرما چکے ۔٭ الاختصار والترجیح للمذہب الصحیح۔ امام ابن جوزی کے پوتے یوسف نے اس کتاب میں بعض روایات نقل فرمائی ہیں۔ دوسرے ائمہ نے بھی اس سلسلہ میں روایات جمع کی ہیں۔مثلا:٭ ابو حامد محمد بن ہارون حضرمی ٭ ابوبکر عبدالرحمن بن محمد سرخسی ٭ ابوالحسین علی بن احمد بن عیسی ۔ان تینوں حضرات کے اجزاء وحدانیات کو ابو عبداللہ محمد دمشقی حنفی المعروف بابن طولون نے اپنی سند سے کتاب الفہرست الاوسط میں روایت کیا۔
یہ جو عام طور پر کہا جارہا ہے کہ فقہ ؛قرآن وسنت کے مخالف اور متصادم الگ دین ہے اہل اسلام کی اکثریت میں فرقہ اہل حدیث شکوک وشبہات اور وساوس پیدا کر رہا ہے اور اہل السنت والجماعت سے وابستہ افراد کو صراط مستقیم سے بہکانے کے لیے صبح وشام یہ محنت جاری رکھے ہوئے ہے کہ ’’محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت ابو حنیفہ کی فقہ سے بالکل مختلف ہے اور ابو حنیفہ کی مزعومہ فقہ میں درج شدہ مسائل خصوصا ًنماز (جس طریقہ پر احناف ادا کرتے ہیں )جیسی اہم عبادت ثابت نہیں ہے ۔‘‘
مجھے اس بات پر بہت تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ کیسے اتنے بڑے بڑے اکاذیب کو ہضم کر جاتے ہیں۔ ذیل میں ہم ان شاء اللہ چند ایک اہم مسائل پر اہل السنۃ والجماعۃ (احناف ) کے دلائل احادیث مبارکہ پیش کرتے ہیں جن کے بارے میں فریق مخالف اس بھول میں ہے کہ ان مسائل مہمہ میں احناف کا احادیث سے دامن خالی ہے امید ہے کہ آئندہ منفی پروپیگنڈہ کرنے سے پہلے فریق مخالف سوچنے پر مجبور ہو گا۔ طوالت کا خوف دامن گیر ہے ورنہ اپنی کچھ گزارشات اس فرقہ کے مسائل پر بھی عرض کر دیتا …چلیں پھر کبھی سہی …!!! پہلے مسئلے کا اصطلاحی نام ہے :
مسئلہ تحت السرہ
یعنی ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا :
اہل السنت والجماعت احناف نماز ادا کرتے وقت اپنے ہاتھ ناف کے نیچے باندھتے ہیں جبکہ فرقہ اہل حدیث سینے پر باندھتے ہیں اور ساتھ ہی کہتے ہیں کہ حنفی طریقہ نماز حدیث کے مطابق نہیں قارئین اہل السنت والجماعت کے اس بارے میں احادیث کی روشنی میں دلائل کیا ہیں ؟؟ملاحظہ فرمائیں!!
عن وائل بن حجررضی اللہ عنہ قال : رایت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضع یمینہ علی الشمال فی الصلٰوۃ تحت السرۃ۔
ترجمہ : حضرت وائل بن حجررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھے ہوئے تھے ۔
عن علی رضی اللہ عنہ قال : ان من السنۃ فی الصلٰوۃ وضع الاکف علی الاکف تحت السرۃ۔
ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز میں سنت یہ ہے کہ اپنے (دائیں)ہاتھ کو (بائیں) ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھا جائے ۔
عن انس رضی اللہ عنہ قال ؛ ثلاث من اخلاق النبوۃ، تعجیل الافطار و تاخیر السحور ووضع الید الیمنی علی الیسری فی الصلٰوۃ تحت السرۃ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ تین چیزیں نبوت کے اخلاق میں سے ہیں 1:روزہ جلدی افطار کرنا۔2: سحری دیر سے کرنا ۔3:نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں پر ناف کے نیچے رکھنا۔
مسئلہ ترک قراۃ خلف الامام
اس کے بعد دوسرا اہم مسئلہ اما م کے پیچھے قرات نہ کرنے کا ہے۔اہل السنت والجماعت احناف کا موقف قرآن وسنت کی روشنی میں یہ ہے کہ امام کی قرات کے وقت مقتدی خاموشی سے سنتا رہے جبکہ فرقہ اہل حدیث کا نظریہ یہ ہے کہ امام کے پیچھے قرات کرنی چاہیے اور جو شخص امام کے پیچھے قرات نہیں کرتا اس کی نماز نہیں ہوتی ۔قارئین !آئیے اس مسئلہ کی حقیقت جانتے ہیں کہ جیسا فرقہ اہل حدیث کے لوگ کہتے ہیں ویسے ہی ہے یا قرآن وسنت میں امام کے پیچھے خاموشی اختیار کرنے کا حکم ہے ؟؟؟ملاحظہ فرمائیں !!
واذا قری القرآن فاستمعوا لہ و انصتوا لعلکم ترحمون o
ترجمہ : جب قرآن پڑھا جائے تو غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔
عن محمد بن کعب القرظی قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اذا قرأ فی الصلٰوۃ اجابہ من ورآئہ ان قال بسم اللہ الرحمن الرحیم قالوا مثل ما یقول حتی تنقضی الفاتحۃ والسورۃ فلبث ما شاء اللہ ان یلبث ثم نزلت واذا قری القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون فقرا ء وانصتوا۔
ترجمہ : حضرت محمد بن کعب قرظی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز میں قرأت کرتے تھے تو مقتدی بھی آپ کے پیچھے پیچھے قرات کرتے تھے ۔ چنانچہ جب آپ بسم اللہ الرحمن الرحیم کہتے تو مقتدی بھی اسی طرح کہتے یہاں تک کہ سورۃ فاتحہ اور دوسری سورت ختم ہو جاتی ۔ یہ معاملہ جب تک اللہ تعالی نے چاہا ،چلتا رہا ۔ پھر آیت واذا قری القرآن… نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرأت کرتے تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خاموش رہتے تھے ۔
قال العلامۃ ابن تیمیہ: وقول الجمھور ھو الصحیح فان اللہ سبحانہ و تعالی قال و اذا قری القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون قال احمد اجمع الناس علی انھا نزلت فی الصلوۃ۔
ترجمہ : علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :’’جمہور حضرات کا قول صحیح ہے کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے امام احمدرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ آیت واذا قری القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحموننماز کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ ‘‘
عن ابی ہریرۃ قال ؛ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انما جعل الامام لیؤتم بہ فاذا کبر فکبروا واذا قرأ فانصتوا واذا قال غیر المغضوب علیہم ولا الضآلین فقولوا آمین۔
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ امام اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اتباع کی جائے ۔ جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو۔ جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو اورجب غیر المغضوب علیہم ولا الضالین کہے تو تم آمین کہو۔ ‘‘
امام کی قرأت ہی مقتدی کی قرأت ہے :
عن جابر رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم من کان لہ امام فقرائۃ الامام لہ قراء ۃ۔
ترجمہ: حضرت جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو تو امام کی قراء ۃ ہی اس کی قرات ہے ۔ ‘‘
مسئلہ آمین بالسر
نماز میں آمین آہستہ آوازسے کہنا :
اس کے بعد ایک اور اہم مسئلہ ہے امام ، مقتدی اور منفرد کا آمین آہستہ کہنا:اہل السنت والجماعت احناف کے ہاں نماز میں آمین آہستہ کہنی چاہیے جبکہ فرقہ اہل حدیث بضد ہے کہ آمین زرو سے کہی جائے اور ہم اہل السنت والجماعت کو مخالفت حدیث کا طعنہ دیتے ہیں ۔کیا اہل السنت والجماعت کا یہ مسئلہ حدیث کے مخالف ہے ؟؟؟نہیں! بلکہ ہمارے دلائل ملاحظہ فرمائیں !!!
عن وائل بن حجر رضی اللہ عنہ قال انہ صلی مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فلما قراء غیر المغضوب علیہم ولا الضالین قال آمین خفض بھا صوتہ۔
ترجمہ: حضرت وائل بن حجررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے غیر المغضوب علیہم ولا الضالین کہا تو آمین آہستہ آواز سے کہا۔
عن ابی وائل قال : کان عمر و علی رضی اللہ عنھما لا یجھران ببسم اللہ الرحمن الرحیم ولا بالتعوذ ولا بالتامین۔
ترجمہ : حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بسم اللہ الرحمن الرحیم ، تعوذ اور آمین اونچی آواز میں نہیں کہتے تھے ۔
عن ابراہیم قال خمس یخفین، سبحانک اللھم و بحمدک والتعوذ و بسم اللہ الرحمن الرحیم و آمین و اللھم ربنا لک الحمد۔
حضرت ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ پانچ چیزیں آہستہ آواز میں کہی جائیں۔ سبحانک اللھم و بحمدک، تعوذ ، بسم اللہ الرحمن الرحیم ، آمین اور اللھم ربنا لک الحمد۔
مسئلہ ترک رفع الیدین
اس کے بعد ایک معرکۃ الاراء مسئلہ ہے جو آج کل بہت اچھالا جارہا ہے اور ایک ہی رٹ ہے کہ رفع یدین کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ قارئین آپ مندرجہ ذیل دلائل سے اندازہ لگائیں کہ کیا ان احادیث کے بعد بھی کہا جا سکتا ہے کہ ترک رفع یدین پر دلائل نہیں ہیں ؟؟؟نہیں بلکہ ایسے براہین ہیں کہ جو فرقہ اہل حدیث کے اس باطل زعم کو توڑ کر رکھ دیتے ہیں ۔ملاحظہ فرمائیں !!!
رکوع میں جاتے اور اٹھتے وقت رفع یدین نہ کرنا:
اللہ تعالی کا فرمان ہے :قد افلح المومنون الذین ھم فی صلٰوتھم خاشعون۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : مخبتون متواضعون لا یلتفتون یمیناً ولا شمالاً ولا یرفعون ایدیھم فی الصلوۃ ۔
ترجمہ: ’’خاشعون ‘‘سے مراد وہ لوگ ہیں جو عاجزی و انکساری سے کھڑے ہوتے ہیں ، دائیں بائیں نہیں دیکھتے اور نہ ہی نماز میں رفع یدین کرتے ہیں۔ حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :خاشعون الذین لا یرفعون ایدیھم فی الصلٰوۃ الا فی التکبیرۃ الاولیٰ۔
ترجمہ: ’’خاشعون ‘‘سے مراد وہ لوگ ہیں جو تکبیر تحریمہ کے علاوہ پوری نماز میں رفع یدین نہیں کرتے ۔
عن عبد اللہ قال؛ الا اخبرکم بصلٰوۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال : فقام فرفع یدیہ اول مرۃ ثم لم یعد۔
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں تمہیںرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتائوں؟ (راوی کہتے ہیں کہ) آپ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور پہلی مرتبہ (تکبیر تحریمہ)کے وقت رفع یدین کیا پھر دوبارہ (پوری نماز میں )رفع یدین نہیں کیا۔
3: عن عبد اللہ قال صلیت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و ابی بکر و عمر فلم یرفعوا ایدیھم الا عند افتتاح الصلٰوۃ۔
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ اور حضرت عمررضی اللہ عنہ کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں، وہ سب شروع نماز کے علاوہ (باقی نماز میں )رفع یدین نہیں کرتے تھے ۔
عن علی رضی اللہ عنہ قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذا قام الی الصلٰوۃ المکتوبۃ کبر و رفع یدیہ حذو منکبیہ …وفی روایۃ انہ کان یرفع یدیہ فی اول الصلوۃ ثم لا یعود۔
ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فرض نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف شروع نماز میں رفع یدین کرتے تھے پھر دوبارہ نہیں کرتے تھے۔
عن البراء بن عازب رضی اللہ عنہ قال:کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذا افتتح الصلٰوۃ رفع یدیہ حتی یحاذی منکبیہ لا یعود برفعھما حتی یسلم من صلٰوتہ۔
ترجمہ : حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے یہاں تک کہ اپنے ہاتھ کندھے کے قریب کر لیتے ، نماز کا سلام پھیرنے تک دوبارہ رفع یدین نہیں کرتے تھے ۔ اس کے علاوہ بھی مزید دلائل موجود ہیں
مسئلہ بیس رکعات تراویح
اس کے بعد قارئین کرام مسئلہ بیس رکعات تراویح کے بھی چند دلائل ذکر کرنا مناسب خیال کرتا ہوں کہ رمضان المبارک کا مہینہ بالکل قریب ہے اور فتنہ پرور گروہ ان مبارک ایام میں بھی اہل السنۃ والجماعۃ کی مساجد میں وساوس پیدا کرنے کی غرض سے آتے ہیں اور آٹھ رکعات ادا کرکے صفوں کو چیرتے ہوئے نکل جاتے ہیں۔اللہ تعالی ہدایت عطا فرمائے ۔اہل السنت والجماعت کے دلائل ملاحظہ فرمائیں !!
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک عمل:
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:خرج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذات لیلۃ فی رمضان فصلی الناس اربعۃ وعشرین رکعۃ واوتر بثلا ثۃ۔
ترجمہ : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک میں ایک رات تشریف لائے اور لوگوں کو چار رکعت(فرض) بیس رکعت (تراویح) اور تین رکعت وتر پڑھائے ۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کان یصلی فی رمضان عشرین رکعۃ والوتر۔
حضرات خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کا عمل :
حضرات خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم میں سے حضرت عمررضی اللہ عنہ ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور مبارک میں تراویح بیس رکعت ہی پڑھی جاتی رہی ہیں ۔
تصریحات پیش خدمت ہیں:
عہد عمر فاروق رضی اللہ عنہ :
عن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ان عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ امر ابی بن کعب ان یصلی باللیل فی رمضان فقال: ان الناس یصومون النھار ولا یحسنون ان یقرء وا فلو قرأت القرآن علیہم باللیل۔۔۔۔۔۔ فصلی بھم عشرین رکعۃ۔
ترجمہ : حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطا ب رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ رمضان کی راتوں میں نماز پڑھائیں ۔ چنانچہ فرمایا کہ لوگ سارا دن روزہ رکھتے ہیں اور قرأت اچھی طرح نہیں کر سکتے اگر آپ رات کو انہیں (نماز میں) قرآن سنائیں تو بہت اچھا ہوگا۔ پس حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے انہیں بیس رکعتیں پڑھائیں۔
عن السائب بن یزید قال کانوا یقومون علی عھد عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فی شھر رمضان بعشرین رکعۃ قال وکانوا یقرون بالمئتین وکانوا یتوکؤن علی عصیھم فی عھد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ من شدھ القیام۔
ترجمہ : حضرت سائب بن یزیدرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں صحابہ کرام کرام بیس رکعت تراویح پڑھتے تھے اور (قاری صاحبان) سو سو آیات والی سورتیں پڑھتے تھے اور لوگ لمبے قیام کی وجہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں لاٹھیوں کا سہارا لیتے۔
قال محمد بن کعب القرظی کان الناس یصلون فی زمان عمر بن الخطاب فی رمضان عشرین رکعۃ۔
ترجمہ : حضرت محمد بن کعب قرظی رحمۃاللہ علیہ(جو جلیل القدر تابعی ہیں) فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں بیس رکعت تراویح پڑھتے تھے۔
عن الحسن ان عمر بن الخطاب جمع الناس علی ابی بن کعب فی قیام رمضان فکان یصلی بھم عشرین رکعۃ۔
ترجمہ: حضرت حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت پر جمع فرمایا وہ لوگوں کو بیس رکعت نماز تراویح پڑھاتے تھے ۔
عہدعثمان بن عفان رضی اللہ عنہ :
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی تراویح بیس رکعت ہی پڑھی جاتی تھی جیسا کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے دور میں تھیں۔ چنانچہ حضرت سائب بن یزید فرماتے ہیں۔
کانوا یقومون علی عہد عمر بن الخطاب ؓ فی شہر رمضان بعشرین رکعۃ قال وکانوا یقرئون وکانو یتوکون علی عصیہم فی عہد عثمان بن عفان ؓ من شدۃ القیام۔
حضرت عمر بن خطاب ضی اللہ عنہ کے دور مبارک میں بیس رکعت تراویح پڑھا کرتے تھے اور قاری سو سو آیات والی سورتیں پڑھتے تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں لوگ لمبے قیام کی وجہ سے لاٹھیوں کا سہارا لیتے تھے ۔
عہد علی المرتضی رضی اللہ عنہ:آپ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی تراویح بیس رکعت ہی پڑھی جاتی ہیں۔
حدثنی زید بن علی عن ابیہ عن جدہ عن علی انہ امر الذی یصلی بالناس صلاۃ القیام فی شہر رمضان ان یصلی بہم عشرین رکعۃ۔ یسلم فی کل رکعتین و یراوح ما بین کل اربع رکعات فیر جع ذو الحاجۃ و یتوضاء الرجل وان یوتربہم من آخر اللیل حین الانصراف۔
ترجمہ : حضرت زید اپنے والد امام زین العابدین سے وہ اپنے والد حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ حضر ت علی نے جس امام کو رمضان میں تراویح پڑھانے کا حکم دیا اورفرمایا کہ وہ لوگوں کو بیس رکعات پڑھائے ہر دو رکعت پر سلام پھیرے ہر چار رکعت کے بعد اتنا آرام کا وقفہ دے کہ حاجت والا فارغ ہوکر وضو کرلے اور سب سے آخر میں وتر پڑھاتے ۔
مسئلہ تین رکعات وتر
اب آتے ہیں محترم قارئین تعداد رکعت وتر کی طرف ۔اہل السنۃ والجماعۃ (احناف ) کا موقف ہے کہ وتر کی رکعات تین ہیں لیکن نام نہاد اہل حدیث وتر ایک رکعت ادا کرتے ہیں اور ہم احنا ف کے پیچھے لٹھ لے کر دوڑتے ہیں کہ تم وترکی تین رکعات ادا کیوں کرتے ہو حدیث میں ایک رکعت کا ذکر ہے ۔ ہمارے دلائل ملاحظہ فرمائیں !!!
عن ابی سلمۃ بن عبد الرحمن انہ اخبرہ انہ سال عائشۃ کیف کانت صلوۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فی رمضان فقالت ما کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یزید فی رمضان ولا فی غیرہ علی احدی عشرۃ رکعۃ یصلی اربعاً فلا تسأل عن حسنھن وطولھن ثم یصلی اربعاً فلا تسأل عن حسنھن وطولھن ثم یصلی ثلثا۔
ترجمہ : حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز رمضان مبارک میں کیسی ہوتی تھی؟ فرمایا:’’ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ۔ پہلے چار رکعتیں پڑھتے، پس کچھ نہ پوچھو کہ کتنی اچھی و لمبی ہوتی تھیں۔ اس کے بعد پھر چار رکعت پڑھتے ، کچھ نہ پوچھو کہ کتنی ا چھی اور لمبی ہوتی تھیں پھر تین رکعت (وتر) پڑھتے تھے ۔ ‘‘
عن عائشۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کان یوتر بثلاث یقرء فی اول رکعۃ بسبح اسم ربک الاعلی وفی الثانیۃ قل یا ایھا الکفرون وفی الثالثۃ قل ھو اللہ احد والمعوذتین۔
ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر تین رکعت پڑھتے تھے پہلی رکعت میں’’سبح اسم ربک الاعلیٰ‘‘ پڑھتے ، دوسری رکعت میں ’’قل یا ایھا الکٰفرون‘‘ اور تیسری رکعت میں ’’قل ھو اللہ احد‘‘ اور معوذتین پڑھتے تھے ۔
عن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کان یوتر بثلاث رکعات، کان یقرء فی الاولیٰ بسبح اسم ربک الاعلی وفی الثانیۃ بقل یا ایھا الکفرون وفی الثالثۃ بقل ھو اللہ احد ویقنت قبل الرکوع۔
ترجمہ : حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر تین رکعت پڑھتے تھے پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الاعلی پڑھتے ، دوسری رکعت میں قل یا ایھا الکفرون اور تیسری رکعت میں قل ھو اللہ احد پڑھتے تھے ۔
اسی مضمون کی احادیث:مندرجہ ذیل کتب میں بھی مروی ہیں جن میں تین رکعت وتر کا ذکر ہے ۔
مسئلہ مرداور عورت کی نماز میں فرق
آخرمیں قارئین ایک اور اہم مسئلہ کی طرف میں آپ کی توجہ مبذول کراناضروری تصور کرتا ہوں کہ آج کل غیر مقلدیت زدہ بعض ٹی وی چینلز پر دینی پروگرام کے درپردہ ایک بات یہ بھی مشہور کی جا رہی ہے کہ مرد اور عورت کی طریقہ ادائیگی نماز میں کوئی فرق نہیں!!جیسے مرد حضرات نماز کے ارکان ادا کرتے ہیں ایسے ہی عورتیں نماز ادا کریں حالانکہ اہل السنت والجماعت کا موقف یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ میں احکام خداوندی کے مخاطب مرد و عورت دونوں ہیں۔ نماز، روزہ، حج، زکوۃ کے احکام جس طرح مردوں لئے ہیں عورتیں بھی اس سے مستثنیٰ نہیں لیکن عورت کی نسوانیت اور پردہ کا خیال ہر مقام پر رکھا گیا ہے ان عبادات کی ادائیگی میں عورت کے لئے وہ پہلو اختیار کیا گیا ہے جس میں مکمل پردہ حاصل ہو احادیث شریفہ کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ عورت اورمرد کا نماز ادا کرنے کے طریقے میں فرق ہے ۔ وہ کیا فرق ہے؟ آئیے احادیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں!!!
عن وائل بن حجر قال جئت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔ ۔فقال لی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا وائل بن حجر: اذا صلیت فاجعل یدیک حذو اذنیک والمراۃ تجعل یدیھا حذاء ثدیھا۔
ترجمہ : حضرت وائل بن حجررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے وائل بن حجر ! جب تم نماز پڑھو تو اپنے کانوں کے برابر ہاتھ اٹھائو اور عورت اپنے ہاتھوں کو چھاتی کے برابر اٹھائے ۔
عن یزید بن حبیب ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرعلی امراتین تصلیان فقال اذا سجدتما فضما بعض اللحم الی الارض فان المراۃ لیست فی ذلک کالرجل۔
ترجمہ : حضرت یزید بن حبیب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو عورتوں کے قریب سے گزرے جو نماز پڑھ رہی تھیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم سجدہ کرو تو جسم کا کچھ حصہ زمین سے ملا لیا کرو کیونکہ عورت کا حکم اس میں مرد کی طرح نہیں ہے ۔‘‘
عن عبد اللہ بن عمرقال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذا جلست المراۃ فی الصلٰوۃ وضعت فخذھا علی فخذھا الاخریٰ فاذا سجدت الصقت بطنھا فی فخذھا کاسترما یکون لھا فان اللہ ینظر الیھا ویقول : یا ملا ئکتی اشھد کم انی قد غفرت لھا۔
حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب عورت نماز میں بیٹھے تو اپنی ایک ران دوسری ران پر رکھے اور جب سجدہ کرے تو اپنا پیٹ اپنی رانوں کے ساتھ ملا لے جو اس کے لئے زیادہ پردے کی حالت ہے ۔اللہ تعالی اس کی طرف دیکھتے ہیں اور فرماتے ہیں: اے میرے ملائکہ ! گواہ بن جائو میں نے اس عورت کو بخش دیا۔
5: عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لا تقبل صلوۃ الحائض الابخمار۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بالغہ عورت کی نماز اوڑھنی کے بغیر قبول نہیں ہوتی ۔
امام ابوحنیفہ اور اعتراضات کا جائزہ
محمد الیاس گھمن
روز ازل سے یہ بات چلی آرہی ہے کہ ہرعظیم المرتبت شخصیت کے مخالفین بھی ہوتے ہیں اور متبعین بھی۔ متبعین اس شخصیت پر اعتماد کرتے ہیں اور ان کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں، جب کہ مخالفین کا وطیرہ چلاآرہاہے کہ وہ اس شخصیت کی بے جامخالفت میں جھوٹ ،اتہام اور زبان درازی کرتے ہیں یہی کچھ سید الفقہاء والمحدثین امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت کے ساتھ بھی ہواآپ کے متبعین نے جہاں آپ کی مدون کردہ فقہ کو درس وتدریس سے کونے کونے تک پہنچایا وہاں اس (فقہ )کو عملا نافذکر کے معاشرہ میں امن، سکون، انصاف اور عدل کی بہاریں لٹا دیں ، دوسری طرف مخالفین جو سوائے اپنانامہ اعمال سیاہ کرنے کے اور کچھ بھی نہ کرسکے ۔
آج کے دور میں مخالفین کی روحانی نسل پھرسے امام اعظم ابو حنیفہ کی شخصیت پر کیچڑ اچھالنے اور ان کی بے داغ زندگی کو (العیاذ باللہ) داغدار ثابت کرنے کے لیے چند شبہات کو ہوا دینے کا منفی پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے ۔ہم ان شاء اللہ انتہائی مثبت انداز میں امام صاحب کے مناقب بھی بیان کریں گے اور آپ کی ذات پر کیے جانے والے اعتراضات کا دفاع بھی اس سلسلے میں اتحاد اہل السنت والجماعت پنڈی کے زیر اہتمام مورخہ19 جون کو اسلام آباد میں ایک عظیم الشان سیمینار کا انعقاد ہو رہا ہے اس کے اغراض ومقاصد میں جامع بات یہی ہے کہ فقہ اور فقہاء کی اہمیت کو بیان کرکے معاشرے میں مروج اور موجود ایسے تمام رسوم ورواج کو بالکل جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے جن سے علمی فتنے اور عملی فسادات رونما ہورہے ہیں ہم مثبت انداز میں سیاست اور عسکریت سے بالکل الگ تھلگ اپنی علمی کاوشوں میں شب وروز مصروف ہیں ہاں ! البتہ اگر دین کے نام پر علمی اور اعتقادی فتنے دین ہی کو نقصان دینے کا سوچیں گے تو ہم اپنے اکابر کے نقش قدم پر ان کا بھرپور علمی انداز سے جواب پہلے بھی دیتے تھے ،اب بھی دے رہے ہیں اورآئندہ بھی دیتے رہیں گے ۔ باقی رہا ضد اور تعصب …سیدھی سی بات ہے ہمارے پاس اس لاعلاج مرض کا کوئی دوا نہیں
قارئین ذی وقار ! حرماں نصیب لوگوں نے امام صاحب کی شخصیت پرویسے تو کئی ’’لام کاف‘‘کہے ہیں اور اتہامات لگائے اور پھیلائے ہیں لیکن ان میں چند ایک کو مخالفین بہت مضبوط سمجھتے ہیں ذیل میں اللہ کی توفیق سے ان شبہات کا جائزہ لیتے ہیں۔
خطیب بغدادی کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے امام عبداللہ بن مبارک کے قو ل کو پیش کیا جاتا ہے کہ انہوں نے فرمایا : کان ابوحنیفۃ یتیماً فی الحدیث
کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ حدیث میں ’’یتیم ‘‘تھے ۔ محمد یوسف جے پوری نے بھی اسی بات کو ’’ قیام اللیل‘‘ کے حوالے سے نقل کیاہے۔
یتیما فی الحدیثکا کلمہ تنقیص اور جرح کے لیے نہیں بلکہ کلمہ مدح ہے کیونکہ محاورہ میں ’’یتیم ‘‘کے معنی یکتا، منفرد اور بے مثل کے بھی آتے ہیں۔ملاحظہ ہوں !!!
’’کل شیٔ مفرد یعنی نظیرہ فہو یتیم یقال درۃ یتیمۃ۔‘‘
ہر وہ اکیلی چیز جس کی مثال کمیاب ہو ’’یتیم ‘‘ہے جیسے کہاجاتاہے درۃ یتیمۃ (نایاب موتی)
باقی امام عبداللہ بن مبارک تو امام ابو حنیفہ کے ایسے مداح ہیں کہ ان کی زبان مبارک سے امام صاحب کے بارے میں ہمیشہ مدح اور منقبت ہی صادر ہوئی ہے ۔مثلا وہ خود فرماتے ہیں کہ
’’افقہ الناس ابوحنیفۃ مارایت فی الفقہ مثلہ‘‘
لوگوں میں سب سے بڑے فقیہ ابوحنیفہ ہیں، میں نے فقہ میں ان کی مثل کسی کو نہیں دیکھا۔
یہی امام عبدا اللہ بن مبارک یہ بھی فرماتے ہیں کہ
’’ لولا ان اللہ تعالیٰ اغاثنی بابی حنیفۃ وسیفان کنت کسائر الناس۔‘‘
’’اگر اللہ تعالیٰ امام ابوحنیفہ اور امام سفیان کے ذریعہ میری مدد نہ کرتا تو میں عام لوگوں کی طرح ہوتا۔‘‘
امام ابو حنیفہ کی مزید مدح کرتے ہوئے امام عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں :
’’ان کان الاثر قدعرف واحتیج الی الرایٔ ؛ فرای مالک وسفیان وابی حنیفۃ وابوحنیفہ احسنھم وادقھم فطنۃ واغوصھم علی الفقہ وھوافقہ الثلا ثۃ۔‘‘
’’اگر اثر(حدیث )میں فقہ کی ضرورت پیش آئے تو اس میں امام مالک امام سفیان اور امام ابوحنیفہ کی رائے معتبر ہوگی۔ امام ابوحنیفہ ان سب میں عمدہ اوردقیق سمجھ کے مالک ہیں فقہ کی باریکیوں میں گہری نظر رکھنے والے اور تینوں میں بڑے فقیہ ہیں۔‘‘
بلکہ امام ابو حنیفہ پر ناز کرتے ہوئے عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں کہ
’’ھاتوا فی العلماء مثل ابی حنیفۃ والا فد عونا ولا تعذبونا ‘‘
’’علماء میں امام ابوحنیفہ کی مثل لائو ورنہ ہمیں معاف رکھو اور کوفت نہ دو۔‘‘
ان کے علاوہ کئی اقوال امام صاحب کی منقبت وشان میںامام عبداللہ بن مبارک میں مختلف کتب میں پائے جاتے ہیں۔ لہذا یتیما فی الحدیث سے جرح سمجھنا امام ابوبکر خطیب بغدادی کی غلطی ہے جسے مؤلف ’’حقیقۃ الفقہ‘‘ نے محض عناد کی وجہ پیش کیاہے ۔
اس کے علاوہ حافظ ابوالحسن احمد بن ایبک ابن الدمیاطی ؒم۷۴۹ھ کو قول نقل کر دیاجائے جو اس امر میں کافی ہے ،فرماتے ہیں:
’’ہذا بالمدح اشبہ منہ بالذم فان الناس قد قالوا درۃ یتیمۃ اذاکانت معدودۃالمثل وھذا اللفظ متداول للمدح لا نعلم احدا قال بخلاف ۔ وقیل؛ یتیم دھرہ وفرید عصرہ وانما فھم الخطیب قصر عن ادراک مالایجھلہ عوام الناس۔‘‘
یتیما فی الحدیث کالفظ مدح کے زیادہ مشابہ ہے نہ کہ ذم کے کیونکہ عام طور پر جب کسی چیز کی مثالیں کم ملتی ہو تو لوگ ’’د رۃ یتیمۃ ‘‘ کا لفظ بولتے رہتے ہیں اور یہ لفظ عام طورپر رائج ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ کسی نے اس میں اختلاف کیاہو جیسا کہ یتیم دھراور فرید عصر وغیرہ الفاظ بولے جاتے ہیں خطیب بغدادی کی فہم اس بات کو سمجھنے سے قاصر رہی جس سے عوام بھی بے خبرنہیں۔
اس کے بعد قارئین ہم ایک مشہور اعتراض کی طرف آتے ہیں جو آج کل ہرایرے غیرے کی تحریر اور تقریر میں سننے اور پڑھنے کو ملتا ہے کہ ’’تاریخ ابن خلدون میں ہے کہ فابو حنیفۃ یقال بلغت روایۃ الی سبعۃ عشر حدیثاًامام ابوحنیفہ کی نسبت کہاگیا ہے کہ ان کو سترہ حدیثیں پہونچی ہیں۔‘‘(
اس کا جواب بہت واضح ہے کہ علامہ عبدالرحمن بن محمد ابن خلدون م۸۰۸ھ نے کسی مجہول شخص کا قول نقل کیاہے اہل علم جانتے ہیں کہ خود لفظ ’’یقال‘‘ سے تعبیر کرنے میں اس کے ضعف اورباطل ہونے کی طرف اشارہ بھی کر دیا۔ بلکہ علامہ ابن خلدون نے اس کایوںرد فرمایا ہے کہ
’’ وقد تقول بعض المبغضین المتعسفین الی ان منھم من کان قلیل البضاعۃ فی الحدیث فلھذا قلت روایتہ ولا سبیل الی ھذا المعتقد فی کبار الائمۃ لان الشریعۃ انما توخذ من الکتاب والسنۃ ۔
’’ بغض سے بھرے اور تعصب میں ڈوبے لوگوں نے بعض ائمہ کرام پر یہ الزام لگایاہے کہ ان کے پاس حدیث کا سرمایہ بہت کم تھا اسی وجہ سے ان کی روایتیں بہت کم ہیں۔کبار ائمہ کی شان میں اس قسم کی بدگمانی رکھنے کی کوئی معقول وجہ نہیں کیونکہ شریعت قرآن وحدیث سے لی جاتی ہے۔‘‘
اس صراحت سے معلوم ہواکہ سترہ حدیثیں روایت کرنے کا الزام وغیرہ محض متعصبین کا تعصب ہے ، ائمہ حضرات کے دامن اس جیسے الزام سے پاک ہیں ۔مناسب معلوم ہوتاہے کہ صحیح راویات واسانید سے مروی خبار وآثار بیان کردیے جائیں جن سے امام صاحب کی حدیث میں وسعت اطلاع ،وفورعلم اورجلالت شان معلوم ہو۔چنانچہ
۱: امام ابوعبداللہ الصیمری اور امام موفق بن احمدمکی نے اپنی سند سے امام حسن بن صالح سے روایت کیاہے:’’امام ابوحنیفہ ناسخ منسوخ احادیث کے پہچان میں بہت ماہر تھے۔ حدیث جب نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے اصحاب سے ثابت ہو تو اس پر عمل کرتے تھے اور اہل کوفہ(جو اس وقت حدیث کا مرکز تھا)کی احادیث کے عارف تھے، حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے آخری فعل کے حافظ تھے۔(۳)
۲: امام موفق مکی سند صحیح کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ امام ابویوسف فرماتے ہیں:’’ (امام ابو حنیفہ کے قول کی تقویت میں)کبھی مجھے دواحادیث ملتی اور کبھی تین میں انہیں امام صاحب کے پاس لاتا تو آپ بعض کو قبول کرتے بعض کو نہیں اور فرماتے کہ یہ حدیث صحیح نہیں یا معروف نہیں، تو میں عرض کرتا حضرت آپ کو کیسے پتا چلا ؟ تو فرماتے کہ میں اہل کوفہ کے علم کوجانتاہوں۔‘‘(
۳: امام یحییٰ بن نصر بن حاجب فرماتے ہیں:’’میں امام ابوحنیفہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان کا گھر کتابوں سے بھرا ہوا تھا میں نے عرض کی یہ کیاہیں؟ فرمایا:
’’ یہ ساری احادیث ہیں، میں ان سے وہ بیان کرتا ہوں جس سے عوام کو نفع ہو۔‘‘
۴: امام حافظ اسماعیل العجلونی الشافعی م۱۱۶۲ ھ فرماتے ہیں:’’(ابوحنیفہ)فہو رضی اللہ عنہ حافظ حجۃ فقیہ ۔
قارئین آپ اندازہ فرمائیں کہ اس قول میں امام صاحب کو حافظ اور حجت کہاگیاحافظ ایک لاکھ احادیث کی سند ومتن اور احوال رواۃ کے جاننے والے کو کہتے ہیں اور حجۃ تین لاکھ حدیثوں کے حافظ کو کہتے ہیں۔
۵: امام محمد بن سماع فرماتے ہیںکہ’’ امام ابوحنیفہ نے اپنی تمام تصانیف میں ستر ہزار سے کچھ اوپر احادیث ذکر کی ہیں اوراپنی کتاب الآثار چالیس ہزار احادیث سے انتخاب کرکے لکھی ہے۔‘‘
امام اعظم پر قلت حدیث کا الزام غلط محض ہے آپ کثیر الحدیث تھے اور اصطلاح محدثین میں حافظ وحجت تھے۔رحمۃ اللہ علیہ رحمۃ واسعۃ ۔ ہم ان شاء اللہ امام اعظم کی تعلیمات کو اپنائیں گے بھی اور اس کے خلاف ہونے والے گھنائونے پروپیگنڈے کا علمی سد باب بھی کریں گے اور ہم اس کے لیے پرعزم ہیں کہ وطن عزیز میں فقہ حنفی کو نافذ کیا جائے اگر ہمیں اس کے لیے اپنی جان جوکھوں میں ڈالنی پڑی تو ہم اس کو اپنے لیے سعادت سمجھیں گے ۔اللہ تعالی ہم سب کو اپنی پناہ میں رکھے اور روز قیامت اپنے امام ابو حنیفہ کی معیت اور صحابہ کرام کی پیروی میں بہشت کے ان اعلی درجات میں جگہ عطا فرمائے جہاں ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمسائیگی کا شرف نصیب ہو… آمین
قربانی کے ایام؟؟
مولانا محمد عاطف معاویہ
اللہ تعالی نے انسان کو روح اور جسم کا مجموعہ بنایا ہے اور ان دونوں کی خوراک کا بھی انتظام فرمایا ہے ،جسم کی خوراک غذا وغیرہ ہوتی ہے اور روح کی خوراک عبادت ۔
انسان کو چاہیے کہ جسم اور روح دونوں کو مکمل اور خالص خوراک دے تاکہ صحت اور ایمان دونوں محفوظ وتندرست رہیں لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو روح کی خوراک یعنی عبادت میں کمی کو پسند کرتے ہیں اور جسم کی خوراک کھانے میں زیادتی کو۔ ایسا ہی کچھ حال اس زمانہ کے نام نہاد اہل حدیث حقیقتاً غیر مقلدین کا ہے جب عبادت کی باری آتی ہے
تو تہجداور تراویح کو ایک نماز کہہ کر آٹھ رکعتیں پڑھتے ہیں ۔
وتر ایک رکعت پڑھتے ہیں اور اس کو حضورﷺ کا اکثریت والا عمل کہتے ہیں ۔
اگر کوئی جان بوجھ کر نماز چھوڑدے تو کہتے ہیں اس کی قضاء کی ضرورت نہیں صرف توبہ استغفار کافی ہے
فٹبال کھیلنے کے لئے ظہر اور عصر دونوں نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنے کا فتویٰ دیتے ہیں ۔
اور جب کھانے کی بات آتی ہے تو اس میں اضافہ اور زیادتی کو پسند کرتے ہیں اس کی ایک مثال ’’قربانی کے ایام ‘‘ہیں ۔کہ یہ لوگ تین دن کی بجائے چار دن قربانی کرنے کے قائل ہیں۔
بہت سارے غیرمقلدین چوتھے دن بڑے فخر سے قربانی کرتے ہیں تاکہ ایک دن مزید گوشت مل جائے۔
تین دن قربانی کے دلائل:
1: عن سلمۃ بن الاکوع رضی اللہ عنہ قال قال النبی ﷺ من ضحٰی منکم فلایصبحن بعد ثالثۃ وبقی فی بیتہ منہ شیئی۔
یعنی جو شخص قربانی کرے تو تین دن کے بعد گھر میں گوشت نہ رکھے ۔
اور آپ ﷺنے یہ حکم 10ذی الحجہ کو فرمایا تھا
ملاحظہ ہو کہ اگر قربانی کے چار دن ہوتے تو آپ ﷺ چوتھے دن کے بعد گوشت رکھنے سے منع فرماتے ۔
نوٹ: تین دن کے بعد گھر میں گوشت رکھنے سے منع والا حکم بعد میں منسوخ ہوگیا تھا
2: عن نافع ان عبداللہ بن عمر قال الاضحی یومان بعد یوم الاضحی ۔
یعنی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عید والے دن کے دو دن بعد تک قربانی ہے۔
3: حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرمان ہے ۔
4: عن انس رضی اللہ عنہ قال الاضحی یوم النحر ویومان بعدہ ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قربانی ۱۰ ذوالحجہ اور دو دن اس کے بعد ہے۔
5: قال ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ الاضحی ثلاثۃ ایام۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قربانی کے ایام تین دن ہیں ۔
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ قربانی کے ایام تین ہی ہیں۔
غیرمقلدین حضرت جبیر رضی اللہ عنہ کی روایت سے استدلال کرتے ہیں جس میں کہ تمام ایام تشریق ذبح کے ہیں۔
جواب 1 : اس روایت کا جواب مشہور غیر مقلد احادیث کی توڑ پھوڑ یعنی صحیح کو ضعیف اور ضعیف کو صحیح بنانے کے ماہر زبیر علی زئی نے یوں دیا ہے کہ ’’یہ حدیث مرسل یعنی منقطع ہے اس کے راوی سلیمان بن موسیٰ نے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔‘‘
دوسری جگہ زبیر علی زئی لکھتا ہے کہ ’’ایام تشریق میں ذبح والی روایت اپنی تمام سندوں کے ساتھ ضعیف ہے لہذا اسے صحیح یاحسن قرار دینا غلط ہے۔‘‘
(2)اگر اس روایت سے تیرہ ذوالحجہ قربانی کا دن ثابت ہوتا ہے تو نو(9)ذوالحجہ کیوں ثابت نہیں ہوتا؟کیونکہ نو یں کا دن بھی ایام تشریق میں داخل ہے۔لہذا قربانی کے ایام پانچ ہونے چاہئیں ؟ آپ نو کو ایام قربانی میں داخل کیوں نہیں کرتے ؟
اہل السنۃ والجماعۃ احناف کے دلائل کو مضبوط دیکھتے ہوئے زبیر علی زئی بھی احناف کے مسلک کی تائید پر مجبور ہوگیا اور لکھا کہ ’’سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہی قول ہے کہ قربانی کے تین دن ہیں، ہماری تحقیق میں یہی راجح ہے۔‘‘
لہذا غیرمقلدین کو چاہیے کہ13ذوالحجہ کو ایام قربانی میں شامل نہ کریں اور جو آدمی 13کو قربانی کرے اس کے متعلق مولوی ابو البرکات غیرمقلد لکھتا ہے ،’’جو آدمی جان بوجھ کر چوتھے دن قربانی کرتا ہے اس آدمی کا عمل نبی ﷺ کے عمل کے خلاف ہے ۔‘‘
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو نبی اکرم ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ائمہ کرام اور سلف صالحین رحمہم اللہ کے طریقے کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطافرمائے۔(آمین بجاہ النبی الکریم )
صدائے ہوش
محمد زبیر ، کمالیہ
قربانی واجب نہیں … بھینس کی قربانی جائز نہیں…گھوڑے کی قربانی جائز ہے…مرغی کی بھی قربانی دی جا سکتی ہے…ایام التشریق قربانی کے دن ہیں…بکری پورے گھر کی طرف سے کافی ہے…گائے میں سات ،اونٹ میں دس آدمی شرکت کر سکتے ہیں…
حافظ محمد سعید صاحب بے تکان بولے جا رہے تھے اور پاس بیٹھے پرنسپل بھائی امیر حمزہ صاحب ان کی تائید میں ایک من کا سر ہلا رہے تھے۔
گفتگو ابھی جاری تھی ۔اتنے میں قاری مراد صاحب بھی تشریف لے آئے۔مجلس میں بیٹھے محمد شفیق صاحب نے قاری صاحب کو صورتحال سے آگاہ کیا اور بولے اب گفتگو فرمائیں۔
آپ لوگوں کا کام ہی اہل سنت والجماعت سے اختلاف کرنا ہے ۔امت مسلمہ کو توڑنے کا جیسے آپ نے ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔حالانکہ سورۃ الکوثر کی آیت نمبر۲ ’’فصل لربک وانحر‘‘ میں وانحر سے قربانی کا وجوب ثابت ہو رہا ہے اور بھینس کی قربانی کے جواز پر علامہ ابن تیمیہ(۱) اور ابن حزم ظاہری (۲) جیسے حضرات نے بھی فتوی دیا ہے اور ابو داود شریف میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی مرفوعاً روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ پھر گھوڑے اور مرغ کی قربانی کو جائز سمجھتے ہو تو عمل کیوں نہیں کرتے؟
ایام التشریق میں ۹ ذی الحجہ بھی ہے لیکن آج تک کسی نے بھی اس دن قربانی نہیں کی۔
باقی رہی بات کہ بکر ی پورے گھر کی طرف سے کافی ہے اس پر کوئی دلیل……
قاری مراد صاحب نے میٹھے لہجے میں بات ختم کرنا چاہی مگر حافظ سعیدصاحب درمیان میں بول پڑے اس پر دلائل موجود ہیں۔
مولانا علی محمد سعیدی نے فتاوی علماء حدیث کی جلد ۱۳ صفحہ ۱۱۲ پر موطا امام محمد کے حوالے سے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی روایت ذکر کی ہے۔
’’کنا نضحی بالشاۃ الواحدۃ یذبحھا الرجل عنہ وعن اہل بیتہ ثم تباہی الناس بعد ذلک‘‘
آدمی اپنی اور گھر والوں کی طرف سے بکری بکرے کی قربانی دیا کرتا تھا ،بعد میں فخر و مباہات کا سلسلہ جاری ہو گیا تو ایک ایک کی طرف سے دینے لگے۔اور یہی روایت جامع الترمذی میں بھی موجود ہے۔
قاری مراد صاحب اطمینان و سکون سے بیٹھے سنتے رہے۔
مزید سنیے ! ابن ماجہ شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھے قربانی کے ذبح کرتے ، ایک اپنی اور گھر والوں کی طرف سے اور ایک امت مسلمہ کی طرف سے۔
مدیر حافظ زبیر علی صاحب بڑے خوش ہو رہے تھے کہ دلائل کے انبار لگ گئے مگر ان کے چہرے سے ملال بھی ظاہر تھا کہ اس طرح تو چرمہائے قربانی میں کمی آئے گی۔بھائی امیر حمزہ صاحب نے پریشانی بھانپ کر زبیر علی صاحب کے کان میں سرگوشی کی جناب فکر کی ضرورت نہیں۔تین چار مرتبہ غائبانہ نماز جنازہ پڑھا کر سالانہ اخراجات مکمل کر لیں گے۔
اتنے میں قاری مراد صاحب متوجہ ہوئے اور فرمایا ۔میں تو آپ کو عقل کا ہمسایہ سمجھتا تھا مگر لگتا ہے عقل کا سایہ بھی آپ سے کوسوں دور ہے۔ آپ نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ کی روایت دلیل میں پیش کی ، ان کے متعلق تمہارے امام قاضی شوکانی نیل الاوطار ،ج:۵ ، ص:۱۲۵ پر فرماتے ہیں کہ’’والحدیثان یدلان علی انہ یجوز للرجل ان یضحی عنہ وعن اتباعہ و یشرکھم معہ فی الثواب‘‘ یعنی قربانی ایک آدمی کی طرف سے ہوتی اور ثواب میں دوسروں کو شریک کر لیتا ہے اور حاشیہ ابن ماجہ ص۲۲۶ پر لکھا ہے:’’تاویل الحدیث الباب انہ صلی اللہ علیہ وسلم اراد ان اشتراک جمیع امتہ فی الثواب تفضلا منہ علی امتہ ‘‘
حضور ﷺ نے از راہ شفقت اپنی امت کو قربانی کے ثواب میں شریک کرنے کے ارادے سے ایسا فرمایا۔
اگر یہی قاعدہ ہے کہ بکری اہل خانہ کی طرف سے کافی ہے تو پھر گائے خاندان کی طرف سے ، گھوڑا پورے محلے کی طرف سے ،اونٹ دیہات کی طرف سے کافی ہونا چاہئیے۔ محمد شفیق صاحب قاعدہ بیان کر کے خاموش ہو گئے اور پھر تمہارے نزدیک قول صحابی ؓ و فعل صحابی ؓ حجت شرعیہ نہیں۔ حضرت ابوایوب انصاریؓ والی روایت میں، حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے عطا ء بن یسار کو جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا۔اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل نقل فرما رہے ہیں۔
گویا یہ قول صحابی ہونے کی وجہ سے حجت شرعیہ نہیں ۔اور اس پر چند حوالے بھی سن لیں۔
زیر اکہ قول صحابی حجت نیست (قول صحابی حجت نہیں) (فتاوی نذیریہ ، ج:۱ ،ص: ۳۴۰) وفعل الصحابی لا یصلح للحجۃ (فعل صحابی حجت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا) (التاج المکلل ص: ۲۰۷) صحابہ کی درایت معتبر نہیں۔ (شمع محمدی ص: ۱۹) اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً ابن ماجہ ص۲۲۶ پر جو روایت موجود ہے ’’ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال من کان لہ سعتہ ولم یضح فلم یقربن مصلنا‘‘ یعنی جو صاحب نصاب ہو کر قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے اور دوسری روایت حضرت مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً ابن ماجہ میں موجود ہے۔ ’’قال کنا وقوفاعند النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعرفۃ فقال یایھا الناس ! ان علی کل اہل بیت فی عام اضحیۃ و عتیرۃ۔‘‘ کہ ہم صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وقوف عرفات میں تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھر والوں میں سے ہر ایک شخص پر ہر سال قربانی اور عتیرہ واجب ہے۔
(نوٹ: عتیرہ اس بکری کو کہتے ہیں جو ماہ رجب کے اول عشرہ میں ذبح کی جاتی ہے ، یہ حکم منسوخ ہو چکا) اس سے ہر صاحب نصاب پر قربانی کے وجوب کا ثبوت ہو رہا ہے۔
حافظ سعید صاحب ! جب بکری پورے گھر کی طرف سے کافی ہے تو پھر گائے میں سات اور اونٹ میں دس کی شراکت کیسے؟اس پر کوئی دلیل۔
دلیل تو کیا جناب اس شراکت پر دلائل موجود ہیں۔ حافظ صاحب گھبراہٹ سے نکلنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولے۔
تو سنئیے جناب ! ترمذی شریف ، باب ما جاء فی الاشتراک فی الاضحیۃ میںسیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے ’’کنا مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی سفر فحضر الاضحی فاشترکنا فی البقرۃ سبعۃ وفی البعیر عشرۃ‘‘یعنی ہم کسی سفرمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ،قربانی کا دن آ گیا، ہم گائے میں سات اور اونٹ میں دس آدمی شریک ہوئے۔
اور سید نذیر حسین دہلوی نے فتاوی نذیریہ میں اسی کے مطابق فتوی دیا ہے۔ حافظ سعید صاحب اتنی بات کہہ کر خاموش ہو گئے۔تو قاری مراد صاحب گویا ہوئے کہ جناب عالی! ترمذی شریف کے اسی باب میں حدیث جابر بھی تو ہے ’’قال نحرنا مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام الحدیبیۃ البدنۃ عن سبعۃ والبقرۃ عن سبعۃ‘‘ کہ ہم نے حدیبیہ والے سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کی ۔ اونٹ میں بھی سات شریک ہوئے اور گائے میں بھی اور پھر امام ترمذی حدیث ابن عباس کے بعد فرماتے ہیں ،ھذاحدیث حسن غریب۔حدیث جابر کے بعد فرماتے ہیں ، ھذا حدیث حسن صحیح والعمل علی ھذا اھل العلم من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم وغیرہم۔کہ حدیث جابر صحیح ہے اور معمول بہا ہے ۔صحابہ کرام و تابعین عظام کا بھی یہی عمل رہا ہے۔
حاشیہ ترمذی شریف صفحہ ۲۷۶پر لکھا ہے کہ دس شرکا والی حدیث منسوخ ہے اور پھر صحیح مسلم کی ج: ۱،ص: ۴۲۴ پر ،اعلاء السنن کی ج: ۱۷،ص: ۲۰۴ پر بھی اسی مضمون کی احادیث موجود ہیں۔کہ گائے اور اونٹ میں سات آدمی ہی شریک ہو سکتے ہیں اور باقی رہا سید نذیر حسین دہلوی کا فتویٰ تو،سید نذیر حسین دہلوی فتاویٰ نذیریہ ج:۱ ، ص: ۳۴۰ پر فرماتے ہیں ’’حاصل آنکہ فتوی ابن عباس و ابن زبیر ہرگز قابل احتجاج نیست۔‘‘فتوی ابن عباس و ابن زبیر ہرگز دلیل بننے کے قابل نہیں۔
ایک جگہ روایت ابن عباس کو دلیل بنا کر فتوی دے رہے ہیں تو دوسری جگہ فتوی ابن عباس کو قابل دلیل ہی نہیں سمجھتے ۔ یہ فتاویٰ ہیں یا چوں چوں کا مربہ۔
ان دلائل سے واضح اور صریح اونٹ میں سات کی شراکت جائز ہو رہی ہے نہ کہ دس کی۔ قاری مراد صاحب نے بڑے دلنشین انداز میں جوابات عرض کئے اور ساتھ ہی اپنے دلائل بھی پیش کئے۔مگر حافظ سعید صاحب چونکہ کافی ہٹ دھرم واقع ہوئے تھے اتنے دلائل کے باوجود اپنی غیر مقلدانہ ضد پر اڑے رہے۔قاری مرادصاحب جان گئے کہ پہلے کی طرح اب بھی ان کو سمجھانا چیونٹی کے پائوں میں رسہ ڈال کر کھینچنے والی بات ہے۔



Islamic Articles (Urdu)