Articles Urdu (275)
تعلیمی نظام پر توجہ دینے کی ضرورت
نعیم اللہ چترالی
تاریخ کے دریچوں میں جھانک کراگر قوموں کے عروج و زوال کی داستان کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ امر واضح ہوجاتاہے کہ جن قوموں نے اپنی تعلیمی معیار کو بلند کیا وہ کامیابی و کامرانی سے ہم کنار ہوئے اور ترقی کی معراج کو پہنچ گئے تعلیم جہاں ملک کے معاشی مسائل کے سدِ باب کا ذریعہ ہے وہاں معاشرتی خرابیوں اور اخلاقی بے راہ رویوں کی روک تھام کی بھی ضامن ہے آج ستاروں پر کمندیں ڈالنے والی اور طاقت کے بل بوتے پر دنیا کو اپنی مٹھی میں لینے کا ارادہ رکھنے والی مغربی قوم کی ترقی کا راز صرف اور صرف تعلیم ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ تعلیم کی اہمیت کے پیش نظر جتنی توجہ اس پر دینے کی ضرورت تھی ہم نے اس کو اتنا ہی نظر انداز کیا ۔اپنے تعلیمی ادروں کی اصلاح پر توجہ دی اور نہ ہی پورے ملک کے لیے یکساں اور معیاری نصاب تعلیم تشکیل دینے پر غور کیاملک کا تعلیم کے لیے مختص بجٹ ایک علمی فضا اور ماحول پید اکرنے کے لیے ناکافی ہے اور اس بجٹ کا بھی بڑا حصہ صحیح مصرف پر خرچ ہونے کے بجائے ان رہزنوں کی جھولی میں چلاجاتاہے جن کو ہم ملک کی تقدیر بدلنے کے لیے اپنے اوپر مسلط کر رکھا ہے اگر آج ہم اسلامی فلسفہ تعلیم کی بنیاد پر معیاری اور یکساں نظام تعلیم تشکیل دیں اور تعلیمی اداروں کی ترقی پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ ان اداروں میں پڑھنے والے طلبہ کی دینی وا خلاقی تربیت کا بھی خاص انتظام کریں جو کل ان اداروں سے پڑھ کر فارغ ہونے والی نوجوان نسل ملک کی ڈوبتی نائو کو بھنور سے نکالنے میں بھر پور کردار اداکرسکتی ہے۔
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر قوم کانصاب تعلیم اس کی تہذیب وثقافت اور اس کے مذہبی اقدار وروایات کو ملحوظ رکھ کر ہی ترتیب دینے سے وہ قوم اس سے پوری طرح مستفید ہوسکتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں شروع ہی سے اس امر کا خیال نہیں رکھا گیا کلمہ توحید کے نام پر بننے والے اس ملک میں اسلامی فلسفہ تعلیم کی بنیاد پر ایک یکساں اور معیاری نظام تعلیم تشکیل دینے کے بجائے لارڈ میکالے کانظام تعلیم کو ہمارے اوپر مسلط کرکے نہ صرف اس کی حوصلہ افزائی کی گئی بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اب تک اس کو جاری رکھا جا رہا ہے ۔اور اس میں بہتر تبدیلی کی سوچ رکھنے والوں کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں ۔ جس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارا نوجوان تعلیمی ادارے سے پڑھ کر فارغ ہونے کے بعد ملک کے خدمت کے جذبے سے سر شار ہونے کی بجائے کسی طریقے سے ملک کو لوٹنے کیلیے سرگرم عمل نظر آتاہے۔
پورے ملک میں سب کے لیے یکساں نظام تعلیم کے فقدان سے کئی مسائل پیدا ہوچکے ہیں معاشرے کا مال دار طبقہ اپنی دولت کے بل بوتے اپنی اولاد کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرسکتاہے لیکن خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے 40فیصد عوام کا اپنی اولاد کو اعلیٰ تعلیم یافتہ بنانے کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔جس سے غریب ؛ غربت کی چکی میں مسلسل پستا جارہاہے اور امیر روز بروز امیر تر ہوتاجا رہا ہے ۔ علاوہ ازیں معاشرے کے ذہین وفطین نوجوانوں کی کثیر تعداد سے ملک فائدہ نہیں اٹھاسکتا۔ کیونکہ یہ بات تاریخی شواہد سے ثابت ہے کہ امیروں کی بہ نسبت غریب لوگوں کے بچے زیادہ ذہین ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ چین میں ماوزے تُنگ کے انقلاب سے پہلے امیر لوگ غریبوں کی اولاد کو اپنے خرچے سے تعلیم دے کر بڑی بڑی پوسٹوں پر ان کی تقرری کراتے تھے اور ان کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے تھے ۔
چنانچہ ہمارے معاشرے میں ان نوجوانوں کی کمی نہیں جو اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل ہونے کے باوجود معاشرتی مسائل کی وجہ سے تعلیم سے محروم ہیں غریبوں کے بچے بچپن کی معصوم شوخیوں سے لطف اندوز ہونے سے پہلے ہوٹلوں میں کام کرنا شروع کرتے ہیں سٹرکوں پر ٹھیے لگا کر نان شبینہ کے لیے جتن کررہے ہوتے ہیں۔کسی بھی ملک کے تعلیمی ادارے وہ واحد تربیت گاہیں ہوا کرتے ہیں جہاں انسان اخلاق حسنہ سے آراستہ وپیراستہ ہوکر معاشرے کا ایک باعزت فرد بن جاتاہے لیکن ہمار ابچہ دھوکہ بازی، فراڈ اور جعل سازی کا پہلا سبق ہمارے تعلیمی اداروں سے ہی سیکھتاہے جس وقت وہ ممتحن کی گرفت سے اپنے آپ کو بچا کر نقل جیسی ہوشیاری میں کامیاب ہوتاہے تو اس وقت اس کے دل و دماغ میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ دھوکہ اور فراڈ ہی کامیابی کا واحد ذریعہ ہے جس کے بغیر کوئی انسان دنیا میں عزت سے نہیں جی سکتا۔
اگر آج ہم تعلیمی اداروں میں اپنے بچوں کی تربیت یہ سوچ کرکریں کہ کل کویہی بچے اس ملک کے سیاہ وسفید کے مالک ہوں گے اور یہی بچے کابینہ اور پارلیمنٹ کے رکن ہوں گے اور مختلف وزارتوں کے قلم دان سنبھال کر اہم ملکی امور کافیصلہ کریں گے تو ہمارا ملک کرپشن ،رشوت ،بدامنی، فساد اور دہشت گردی جیسے مسائل سے نجات پاکر حقیقی آزادی، خود مختار اورپرامن ریاست بن کر دنیا کے نقشے پر ابھر سکتاہے۔
یہاں پگڑیا ں اچھلتی ہیں
علامہ عبدالغفار ذہبی
قارئین ہم نے بدنام زمانہ مشہور دجال کذاب زبیر علی زئی مماتی رجسٹرڈ اہلحدیث غیرمقلد کے 100سو جھوٹ ٹھوس حوالہ جات سے پیش کیے توان کے باحوالہ صحیح جوابات دینے سے علی زئی خصوصاً اور ندیم ظہیر غیرمقلد عموما ًقاصر رہے ۔تقریبا ًچار سال کے بعد علی زئی اور ان کا ایک چیلہ جاہل بوتل فروش زبیر نامی غیرمقلد نے ان صحیح ویقینی حقیقی جھوٹوں کا جواب دینے کی ناکام کوشش کی ہے جو سچ کو جھوٹ قرار دینے کا عظیم شاہکار ہے۔
ہم قافلہ حق اورماہنامہ الحدیث کے قارئین سے التماس کرتے ہیں کہ وہ دونوں کا مکمل مضمون پڑھیں اور پھر فیصلہ فرمائیں !!!کیا ہمارے سچے اور ٹھوس حوالہ جات کا یہ جواب بن سکتاہے یا نہیں ؟؟؟ جیساکہ ہم نے حضرومیں بذریعہ اشتہار چیلنج دیاتھا اور خود تحریر لکھ کر دستخط بھی کر دیے تھے مگر علی زئی جیسے کذاب کو جرأت نہیں ہوئی کہ وہ چیلنج قبول کرکے انعام وصول کرتا۔ اس سے پہلے بھی ندیم ظہیر نے ’’کچھ‘‘ لکھا تھا ۔ الحمدللہ! ہم نے ان کا دندان شکن جواب دیاپھر اس کو آج تک جرأت نہیں ہوئی ہم اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اسی جاہل بوتل فروش زبیر غیرمقلد کے لگائے گئے جھوٹے الزام’’100جھوٹ ‘‘کاتحقیقی جواب پیش کرتے ہیں اوراس کی حقیقت دجل وتلبیس کا پردہ چاک کرتے ہیں اور فیصلہ قارئین کرام خود فرمائیںگے ۔وباللہ التوفیق
عبارت نمبر۱: زبیر بوتل فروش جاہل غیرمقلد نے لکھاکہ ’’عبدالغفار دیوبندی کے100 جھوٹ عبدالغفار دیوبندی نے اپنے قافلے(حق)میں…زبیر علی زئی (کے) سو (100) … جھوٹ اکاذیب کے نام سے پیش (کیے)ہمارے اس مضمون میں ان کا دندان شکن پیش خدمت ہے ۔ اعتراض نمبر1تا9عبدالغفار نے جھوٹے الزامات کی فہرست بنائی ہے اس میں ایک سے لے کر 9 تک صحیح بخاری میں متابعت کی بات دھرائی ہے۔ (الحدیث شمارہ نمبر80ص8)
تنبیہ: اولاً : ملاں علی زئی مماتی غیرمقلد رجسٹرڈ اہلحدیث نے لکھاکہ’’ صحیح بخاری میں راویوں کی دو طرح کی روایات ہیں۔
(۱) اصول میں (۲) شواہد و متعابعات میں
اس میں قسم اول کے راوی بلاشبہ ثقہ و حجت ہیں اور ان کی روایات صحیح ہیں بشرطیکہ ان میں شذوذ یا علت قادحہ نہ ہو۔ مگر قسم ثانی کی تمام روایات کو صحیح قراردیناغلط ہے۔
(نورالعینین ص182 ط 2002ء ؛ص176، 177 ئ2004 وغیرہ)
وثانیا ً: ملا ںعلی زئی مماتی غیرمقلد رجسٹرڈ اہلحدیث نے لکھاکہ[ علی بن الجعد اور صحیح بخاری ]
(۱) میرے علم کے مطابق اس کی صحیح بخاری میں فقط چودہ احادیث ہیں۔
(۲) مختصر یہ ہے کہ صحیح بخاری میں علی بن الجعد کی تمام روایات متابعات میں ہیں۔ پھر علی زئی نے ان چودہ احادیث کاتفصیلی نقشہ بیان کیا اور یوں لکھاکہ :
علی بن الجعد کی حدیث بخاری، ج1ص13ح53تابعہ غندر عندہ دیکھیے:
(امین اوکاڑوی کا تعاقب ؛ علی زئی ص66 )
تحقیقی جائزہ: اولاً: اہل علم وبصیرت سے گزارش ہے وہ ذرا غور فرمائیں۔علی زئی نے جو یوں لکھا کہ(تابعہ غندر عندہ)حالانکہ ’’تابع ‘‘فعل ’’ہ ‘‘ ضمیر منصوب متصل(راجع بسوائے علی بن الجعد)اس کا مفعول بہ اور غندر اسم ظاہر تابع فعل کا فاعل ہے۔ اگر علی زئی علوم قرآن وسنت وفقہ توکیا فقط نحو وصرف سے پورا واقف ہوتا تو نحوی ترکیب سے ہی تابعہ غندر کا معنی مطلب سمجھتا۔ اس یعنی علی بن الجعد کی غندر نے متابعت کی ہے اور پھر تابعہ غندر نہ لکھتا بلکہ تابعہ علی بن الجعد لکھتا۔
ثانیاً: ہم نے اس کا معنی و مطلب گرائمر عربی کے مطابق علی زئی کو سمجھایا مگر تاحال ان کا جواب نہیں آیا اورنہ قیامت تک اس کا جواب دے سکتاہے جس قوم کے خود ساختہ محدث ومحقق وذھبی دوراں کا علمی مقام یہ ہو پھر علی زئی ایند کمپنی کے ایک بوتل فروش بلکہ ایمان فروش زبیر غیرمقلد کی کیا حیثیت ومقام ہوگا؟ فیصلہ اب قارئین اہل علم وبصیرت کے ہاتھ میں اس علی زئی کے واضح ترین جھوٹ کو بلا دلیل سچ کہنا اور ہمارے سچ کو جھوٹ قرار دینا کسی عالم و اہل علم کاکام نہیں بلکہ ایک بوتل فروش جاہل زبیر غیر مقلد کا ہی کارنامہ ہوسکتاہے فتدبر۔ وللہ الحمد
عبارت نمبر۲: ملاں علی زئی مماتی غیرمقلد نے لکھا: (علی بن الجعد کی حدیث بخاری)
۲: علی بن الجعد ج21ح106۔ تابعہ غندر عند مسلم ج1ص7
(امین اوکاڑوی کا تعاقب؛ علی زئی ص 66)
تحقیقی جائزہ : میں اہل علم وقارئین کرام سے التماس کرتا ہوں جیساکہ اہل علم سے مخفی بھی نہیں ہے اس عربی عبارت کا ترجمہ بالکل واضح ہے کہ امام غندر نے امام علی بن الجعد کی متابعت کی ہے ۔یاد رہے اصولاً بخاری کی روایت اصالۃً ہے اور مسلم کی روایت متابعۃً ہے جب کہ علی زئی سے تصریح کر رکھی ہے کہ صحیح بخاری میں علی بن الجعد کی تمام روایات متعابعات میں ہے۔ لہذا یہ روز روشن کی طرح علی زئی کے جھوٹ کو سچ کہنا اور ہمارے سچ کو جھوٹ قراردینا ملکہ وکٹوریہ کی شیر خوارقوم میں سے کرائے کے کذاب ندیم ظہیر اور بوتل فروش جاہل زبیر کذاب کاہی کام ہوسکتاہے فیصلہ اہل علم وبصیرت اور قارئین کے ہاتھ میں ہے۔ وللہ الحمد
عبارت نمبر۳: ملاں علی زئی مماتی غیرمقلد نے لکھاہے کہ(علی بن الجعد کی حدیث بخاری) ج۱ ص157ح1179(پر موجود کے متعلق لکھا کہ ) تابعہ آدم عندہ(اسی علی بن الجعد کی آدم نے متعابعت کی ہے )
(تعاقب امین اوکاڑوی؛ علی زئی ص66)
تبصرہ: اہل علم وبصیرت توجہ فرمائیں کے اسی عربی عبارت کا ترجمہ کیا ہے یعنی اس علی بن الجعد کی آدم نے متابعت کی ہے اگر زبیر علی زئی دجال کذاب خبیث کو قرآن وسنت فقہ اور علم نحو وصرف کی بصیرت ہوتی تو ایسی جہالت کا ارتکاب نہ کرتا اور یہ جھوٹ نہ لکھتا کیونکہ اس نے تحقیق کے نام پر یوں تصریح کر رکھی ہے کہ ’’علی بن الجعد کی تمام روایت بخاری میں متابعۃًہیں۔‘‘ لہٰذاا س دوپہر کے سورج کی طرح چمکتا علی زئی کے اسی جھوٹ کو سچ کہنا آل وکٹوریہ میں علی زئی مماتی اور ندیم ظہیر اور ایک جاہل بلکہ اجہل بوتل فروش زبیر غیرمقلد کاہی کام ہے ۔قارئین ہمارے ٹھوس حوالہ جات اور سچ کو بلا دلیل جھوٹ کہنا ۔کیا اس کانام دندان شکن جواب ہے ؟؟؟فیصلہ اہل علم وبصیرت کے ہاتھ میں!!! وللہ الحمد
تنبیہ: ملاں علی زئی غیرمقلد رجسٹرڈ اہلحدیث نے امام علی بن الجعد کی باقی گیارہ روایت جو صحیح بخاری میں ہیں کے ساتھ یہ معاملہ کیاہے بلکہ تصریح کی ہے کہ وھذہ فی المتابعات کہ یہ سب کی سب تابعہ والی روایات متابعات میں ہیں جو تحقیقی لحاظ سے واضح ترین جھوٹ ہیں ان کامنہ کالا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اہل علم وبصیرت سے مخفی نہیں کہ تابعہ ضمیر کامرجع کون ہے؟؟؟
قافلہ حق میں ہمارے ٹھوس ثبوت و سچ کو آل وکٹوریہ کے یہ نام نہاد جاہل محقق جھوٹا ثابت کریں یہ اس کے بس میں نہیں ۔قارئین کرام سے گزارش ہے کہ سچ کو جھوٹ کہنا وہ بھی بلا دلیل۔ اسی کانام دندان شکن جواب ہے حقیقت میںیہ سچ شکن جواب ہے۔
عبارت نمبر4: زبیر بوتل فروش جاہل غیرمقلد نے لکھا کہ’’(اصالۃً ومتابعۃً)ان تمام الزامات کاجواب حافظ ندیم ظہیر…نے ماہنامہ الحدیث میں دے دیا اور بتایاکہ حافظ ابن حجر العسقلانی سے دائود بن عبدالرحمن العطار کے بارے میں لکھا ہے امام بخاری نے کتاب الصلوۃ میں بطور متابعت ایک حدیث کے سواان کی کوئی روایت بیان نہیں کی، ثابت ہواکہ عبدالغفارکایہ خود ساختہ فلسفہ باطل ہے کہ پہلے اصالۃً روایت ہی ہوتی ہے پھر متابعۃً (الحدیث شمارہ 80ص8)
تبصرہ: اولااہل علم وبصیرت توجہ فرمائیں جس طرح امام بخاری سے من طریق دائود بن عبدالرحمن العطار عن عمرو الحدیث تخریج کی ہے بخاری ج 1ص 100پھر یہی حدیث من طریق سفیان بن عیینہ عن عمرو الحدیث بخاری ج1ص25پر بھی حدیث ذکر کی ہے اور ان دونوں مقامات پر امام بخاری سے کوئی اصالۃً ومتابعۃً کی تصریح نہیں فرمائی جبکہ حافظ ابن حجر نے صدیوںبعد بلا سند وبلادلیل امام دائود کومتابعت میں قید کر دیا ہے اور بلاشبہ بات عند الغیرمقلدین حجت نہیں وثانیا امام بخاری کا اپنا اسلوب صحیح بخاری میں یوں ہے کہ جوراوی اصالۃً ہے وہ متابعۃ بھی ہے دیکھئے(بخاری ج1ص۸۲۸وج2 ص1100)مگر علی زئی کا یہ کہنابخاری میں راویوں کی روایات دو طرح کی ہے :
نمبر1: اصول نمبر2: شواہد ومتابعات میں
لہٰذا ہمارے اس سچ کو جو جبل احدکی مانند ہے آل وکٹوریہ علی زئی ،ندیم ظہیر وبوتل فروش جاہل زبیر کے بس میں نہیں کہ وہ اس کو رد کر سکیںکیا اسی کانام’’ اصولی جواب‘‘ ہے اور وہ بھی دندان شکن۔ فیصلہ اہل انصاف قارئین کریں گے وللہ الحمد۔



Islamic Articles (Urdu)