Muhammad Qasim asked 8 months ago

استخارہ کے بارے میں کچھ معلومات مطلوب ہیں

اور احادیث سے ثابت ہے کہ نہیں اور کن معامعلات میں کرنے چاہئیں

اس کا طریقہ بھی بتا دیں اور کس دن کرنے چاہئے

خواب آنا اس میں خرج تو نہیں اگر خواب دیکھے پھر کس کو خواب بتائے کہ نہیں

کس طرح کرنا چاہیے

1 Answers
Mufti Kefayat-Ullah answered 8 months ago

جواب
واضح رہے کہ استخارہ  اللہ تعالی سے خیر اور بھلائی طلب کرنے کا نام ہے  اور اس کے ذریعے اللہ تعالی اس شخص کے لئے جو بہتر ہو اس کی طرف دل کا اطمنان یا اسباب مہیا فردیتے ہیں،  اور اس کا ثبوت احادیث مبارکہ سے ملتا ہے۔
لہذا جب کسی کام کی طرف اسباب یا دل کا اطمنان ہو جائے وہ کام کر لینا چاہئے  اس میں خواب دیکھنا ضروری  نہیں ہے اورخواب ہر آدمی کو نہ بتائے بلکہ جو اس کی تعبیر سے واقف ہو اس کو بتائے۔
استخارہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ مکروہ وقت  کے علاوہ  کسی وقت دو رکعت نفل استخارہ کی نیت سے پڑھیں سلام پھیر کر نماز کے بعد استخارہ کی مسنون دعا مانگیں استخارہ کی مسنون دعا:
” اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ أَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ ، وَ أَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَ أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ ، فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَ لاَ أَقْدِرُ، وَ تَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ ، وَ أَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ اَللّٰهُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ خَیْرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَ مَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ وَ عَاجِلِهٖ وَ اٰجِلِهٖ ، فَاقْدِرْهُ لِیْ ، وَ یَسِّرْهُ لِیْ ، ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْهِ وَ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ شَرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ وَ عَاجِلِهٖ وَ اٰجِلِهٖ ، فَاصْرِفْهُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْهُ ، وَاقْدِرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ اَرْضِنِیْ بِهٖ ۔”
نوٹ:     استخارہ کی دعاکرتے وقت جب”هذا الامر “پر پہنچےتو اس جگہ اپنی حاجت کا تذکرہ کرے مثلاً اگر سفر سے متعلق ہو “هذا السفر” کہیں اسی طرح اگر نکاح کا مسئلہ  ہو”هذا النکاح”کہے  لیکن اگر  عام فرد ہو اور عربی نہ جانتا ہو  تو “هذا الأمر”ہی کہہ دعا کو مکمل کریں اور دل میں اپنے معاملہ کا خیال لائیں ۔
واللہ اعلم بالصواب
دار الافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا پاکستان
27ستمبر 2020ء