QuestionsCategory: بدعات ورسوماتآیت کریمہ کا ورد کرنا
Dr Abdus Salam Ausim asked 2 years ago

کیا فرماتے ہیں علماء دین مفتیان عظام اس بارے میں کہ آیتِ کریمہ “لاالٰہ الا آنت…. ” کا ورد ایک جماعت کی شکل میں پڑھنا اور اس پر برکت کی امید رکھنا اور اس کو پھر مصیبتوں اور پریشانیوں سے نجات کا زریعہ سمجھنا کیسا ہے؟ دراصل بات یہ ہے کہ ایک گھر والوں نے اس اجتماعی عمل کو شروع کیا کہ مصیبت سے نجات کی آیت ہے اجتماعی شکل میں پڑھیں گے تو اور بھی زیادہ ثواب اور فائدہ ہوگا چنانچہ سب ملکر پچاس ساٹھ ہزار پڑھ لیتے ہیں اور اس کے بعد کچھ دیر  اللہ رسول کا بیان کرتے ہیں پھر اس کے وسیلے سے دعا کرکے ختم کردیتے ہیں ایسا ہر ماہ میں دو مرتبہ کرتے ہیں تاکہ عورتوں اور بچوں میں کچھ دین کی معلومات بھی حاصل ہوجائے۔

اس پر کسی بھائی نے یہ اعتراض کیا کہ دین کا اجتماع  رکھ کر دین کی بات کو بولنا تو بالکل درست ہے مگر آیت کریمہ کا اجتماعی عمل کرنا صحیح نہیں اور یہ بات کہیں سے بھی ثابت نہیں اور حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رح نے ایسے رواجوں کو بدعت کہا تو اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا واقعی آیت کریمہ کا اجتماعی ورد کرنا بدعت ہے؟

آپ سے ادباً گزارش ہے کہ براہ مہربانی اس کی تفصیل سے وضاحت کیجئے اللہ جل شانہ آپ کو اس کا اجر عطا فرمائگا۔

فقط و السلام

سیاہ کار

ڈاکٹر عبد السلام عاصم

ضلع مشرقی گوداوری

ریاست آندھرا پردیش

جنوبی ہند

1 Answers
Mufti Muhammad Riaz Staff answered 2 years ago

گھر والوں کا مل کر کسی پریشانی یا مصیبت کے وقت آیت کریمہ [لا الہ الّا انت۔۔۔۔۔۔۔] پڑھنا اور بعد ازاں بیان و دعا کرنا جائز ہے۔ بس یہ خیال رہے کہ اسے ضروری نہ سمجھا جائے اور اس میں شرکت نہ کرنے والوں کو برا بھلا بھی نہ کہا جائے۔ شرکاء کے ذہن میں یہ بات رہے کہ یہ کوئی لازمی چیز نہیں البتہ اسلاف کے مجربات میں سے ہے۔ 
حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے مروجہ رواجوں کو بدعت کہا ہے جن کا ثبوت شریعت میں نہیں اور ان کو دین سمجھ کر کیا جاتا ہے اور آیت کریمہ کا ورد کرنا یہ رواج نہیں بلکہ مصیبت کے وقت اس کا ذکر حضرت یونس علیہ السلام کو اللہ جل شانہ نے سکھایا اور اس کے ذریعہ سے انہیں مصیبت سے نجات بھی دی ہے اور ہماری شریعت میں اس سے منع بھی نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس پر کوئی نکیر فرمائی گئی ہے بلکہ مصیبت کے وقت اس کا کثرت سے تلاوت کرنا مصیبت سے نجات کا باعث ہے اور قاعدہ ہے کہ سابقہ شریعت کے وہ افعال جن کو قرآن و حدیث میں بیان کیا جائے اور ہماری شریعت ان کے منسوخ ہونے کی تصریح نہ کرے وہ بھی ہماری شریعت بن جاتی ہے اس لیے آیت کریمہ کے ورد کو بدعت نہیں کہا جائے گا۔
واللہ تعالی اعلم
دار الافتاء
مرکز اھل السنۃ والجماعۃ
سرگودھا، پاکستان
12 ربیع الاوّل 1440ھ بمطابق 21 نومبر 2018