QuestionsCategory: تعویذاتتعویزات اور دم درود
Imran Habib asked 2 years ago

آج کل بھوت[جنات] سے راقی [جھاڑ پھونک، تعویز،جادو] کراوئی جاتی ہے اور علماء دعویٰ کرتے ہیں کہ بعض تعویزات پر شرکیہ کلمے ہوتے ہیں جو اصل میں جنوں کو خوش کرنے کے لئے ہوتے ہیں اس لئے اعداد والی تعویزات نہ پہنے جائیں، اور وہ نمبر خفیہ طور پر قرآن کی آیت کی نفی والے ہوتے ہیں، بعض حروف یہودی کببالہ جادو جیسے حروف ہوتے ہیں اسلئے قرانی رقیہ کے علاوہ تعویز سے اجتناب کریں، جبکہ بڑے بڑے بزرگوں نے تعویزات کا معمول کیا ہے اور اسی اعداد اور حروف کے انداز میں، تو کیا ہم تعویزات کا رد کریں۔

1 Answers
Mufti Shahid Iqbal answered 2 years ago

جواب:
جائز مقاصد کے لیے اور جائزطریقے کے ساتھ اگر عملیات اور تعویزگنڈے کاکام کیاجائے تو جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں۔  اس کے علاوہ تمام صورتیں عملیات کی ناجائز ہیں ۔
وعن عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  قال:اذافرغ احدکم فی النوم فلیقل:اعوذ بکلمات اللہ التامات من غضبہ وعقابہ وشرعبادہ ومن ھمزات الشیاطین وان یحضرون فانھا لن تضرہ “وکان عبداللہ بن عمرو یعلمھا من بلغ من ولدہ ومن لم یبلغ منھم کتبھا فی صک ثم علقھا فی عنقہ۔
مشکوٰۃ  المصابیح ج1ص221 ،باب الدعوات فی الاوقات۔
ترجمہ:حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ‘جب تم میں سے کوئی ایک آدمی نیند سے بیدار ہو تو یہ کلمات پڑھ لیاکرے ،،اعوذ بکلمات اللہ التامات من غضبہ وعقابہ وزرعبادہ امن ہمزات الشیاطین وان یحضرون،، تواس کو ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچے گااور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اپنے بالغ بچوں کو یہ کلمات سکھاتے تھے اور نابالغ کے لیے یہ لکھ کر ان کے گلے میں لٹکادیتے تھے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اھل السنۃ والجماعۃ سرگودھا پاکستان
13فروری2019