QuestionsCategory: متفرق سوالاتمیراث کے متعلق متفرق سوالات
Md Asrarul Haque asked 8 months ago

بخدمت مفتیان کرام وعلماء شرع متین

درج ذیل چند سوالوں کا تشفی بخش جواب مطلوب ہے

(1) ماں باپ کے ترکہ میں بیٹا اور بیٹی کو حصہ کس کس مال میں ملے گا (گھر کے کچھ افراد کہتے ہیں کہ بیٹی کو (باس کی زمین) بسنے والی زمین میں حصہ نہیں ہوتا ہے کیا ان کا کہنا صحیح ہے؟

(2) ماں کے نام پر ایک زمین تھی (ماں حیات میں ہیں) جس کو بیچ کر چار بھائیوں نے اپنے نام سے چند کٹھ زمین لیا ہے بہن (٣بہن ہیں) میں سے کسی کا بھی نام نہیں دیا گیا ہے بہن کو صرف زبانی یہ امید دلائی کہ ہم تم لوگوں کو اس بیچی گئی زمین کا شیئر دیں گے تو پوچھنا یہ ہے کہ شیئر کا مدار کیا ہوگا آیا بیچی ہوئی زمین میں سے حاصل شدہ رقم یا اس رقم سے خریدی کی زمین کی موجودہ قیمت ؟

(3) والد صاحب کے انتقال کے بعد دو لڑکے اور ایک لڑکی بے شادی شدہ رہ گئی

(الف) کچھ سالوں کے بعد بھائیوں نے اس بہن کی شادی کرائی جسے جھیز میں سامان کافی دیا گیا اور جہیز کے علاوہ میں تقریباً دو لاکھ کھانے وغیرہ میں خرچ کیا گیا یہ کہہ کر کہ آخری بہن ہے دل کھول کر شادی کریں گے

لیکن کچھ دنوں کے بعد بھائیوں کی طرف سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بہن کی شادی میں جو خرچ ہوا ہے وہ یا تو اس بہن کو والد صاحب کے مال میں ملنے والے حصے میں سے کٹیں گے یا پھر سبھی حصہ دار میں سے کٹیں گے تو کیا یہ صحیح ہے ؟

(ب) جو دو لڑکے اور بے شادی شدہ ہیں تو گھر کے کچھ افراد کا کہنا یہ ہوا کہ ان دونوں کی شادی ترکہ کے مال میں سے کی جائے گی تو کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟

(4) مکان میں کچھ کام کرنا ہو جیسے دروازے لگانا پینٹ کرنا تو بھائیوں کا کہنا یہ ہوا کہ اس کا خرچ بھی سبھی بھائی اور بہن پر تقسیم ہوگا جبکہ سبھی بہن شادی شدہ ہیں

(5) والد صاحب کا کونسا قرض قرض مانا جائے گا

کیوں کہ بھائیوں کا کہنا یہ ہوا کہ والد صاحب کے علاج میں 6 یا 7 لاکھ روپے قرض لیے گئے ہیں تو یہ پیسے کس کے قرض ہوں گے اور ادائیگی کا ذمے دار کون ہوگا

مذکورہ بالا سوالات کے جوابات جلد مطلوب ہے

1 Answers
Mufti Kefayat-Ullah answered 7 months ago

جواب
واضح رہے کہ وارث کے مرنے کے بعد جو مال مرحوم  چھوڑے اس سے سب سے پہلے کفن دفن کا خرچ اور قرض ہوتو قرض کی ادائیگی کی جائے پھر جو مال بچے اس تمام مال کو  موجودہ ورثاء میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائےان میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کی کوئی قید نہیں  ، اور وارث کی زندگی میں اگر اس وارث نے خود کسی کو کچھ مال ھبہ کیا ہو اور اس نے اس پر قبضہ کر لیاہو تو وہ آدمی اس  مال کا مالک بن جائے گا۔
 لہذا والد نے جو کچھ باقی چھوڑا اس میں سے  کفن دفن کا خرچ اور قرض ہوتو قرض کی ادائیگی کے بعد بہن، بھائیوں میں سے ہر فریق کا حق اپنے حصہ کے اعتبار سے   ہوگا کوئی چیز کسی کے لئے خاص نہیں ہے البتہ بیٹے کو بیٹی سے ڈبل حصہ ملے گا، اور جو زمین والدہ کے نام تھی اور والدہ نے ان کو یہ زمین نہیں دی بلکہ انہوں نے خود اپنے نام کروائی ہے تو اس میں بھی ورثاء اپنے اپنے حصے کے اعتبار سے شریک ہوں گےلیکن اگر ماں نے خود ان کے نام کروائی اور انہوں نے اس پر قبضہ بھی کرلیا   تو اس یہ  زمین  وراثت  میں تقسیم نہیں کی جائے گی۔
جہیز اور شادی کااور گھر کی رنگ روغن کا خرچہ یہ وراثت کے مال سے ادا نہیں کیا جائے بلکہ یہ خرچہ انہیں پر ہو گا جنہوں نے یہ خرچہ کیا  ہے۔
البتہ وہ  قرض جو والد کی بیماری  کی حالت میں  اٹھایاگیا  ہے وہ   قرض والد کی وراثت سے ادا کیا جائے گا۔
واللہ اعلم بالصواب
دار الافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا پاکستان
5اکتوبر  2020ء