QuestionsCategory: متفرق سوالاتمملوکہ زمین سے شہد اتارنا اور اس کی فروخت کا حکم
رئیس خان asked 8 months ago

عرض یہ ہے کہ میرا شہد کا کارباور ہے اور ہمارے پاس جو اکثر لوگ شہد لاتے ہیں جس کو دیسی شہد یا جنگلی شہد بھی کہا جاتا ہے تو جو اس شہد کے کاٹنے والے ہوتے ہیں وہ اکثر اس زمین اور درختوں کے مالک سے پوچھے بغیر وہ شہد اتار لیتے ہیں, مطلب مالک زمین سے پوچھے بغیر یعنی اگر اس کے مالک کو پتہ چل جائے تو وہ یہ شہد  کسی صورت ان کو نہ دے۔  تواس صورت میں اس شہد کا کیا حکم ہے؟ ہم دوکانداروں یا عام عوام کو اس صورت میں  ان سے یہ شہد خریدنا چاہیے یا نہیں؟ ان سے پوچھنا ہو گا کہ اپنا ہے یا کیسی اور کی زمین کا؟

1 Answers
Mufti Muhammad Bilal answered 8 months ago

واضح رہے کہ اگر کسی کی زمیں میں کوئی  چیز  ہو  تو  ایسی  صورت میں زمین کا مالک ہی اس کا مالک ہو گا اس کی اجازت کے بغیر اس کا استعمال کرنا درست نہیں لہذا صورت مذکورہ میں جس شخص کی زمین کے درخت  پر  شہد  کی  مکھیوں کا چھتہ بنا ہوا ہے  وہ زمین چونکہ  اس شخص  کی  ملکیت  ہے لہذا   اس  زمین میں لگے ہوئے درخت پر شہد  کی مکھیوں کے چھتے کے شہد حاصل  کرنے  کا حق اس مالک زمین کو ہی ہے  ۔ اس مالک زمین کی اجازت کے بغیر  اس چھتہ سے شہد نکالنا جائز نہیں اور اس طرح  اگر یہ  معلوم ہو کہ اس شخص نے شہد کسی مملوکہ زمین سے اس کے مالک کی اجازت کے بغیر اتارا ہے تو ایسی صورت میں چوری شدہ شہد خریدنا اوراس کا استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں ہے ۔ اور اگرخریدنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ شہد چوری کا ہے تو یہ سودا ختم کرے۔
” عن شرحبيل مولى الأنصار , عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: “من اشترى سرقةً وهو يعلم أنها سرقة فقد أشرك في عارها وإثمها”
السنن الكبرى للبيہقي ۔ج5ص 548،کتاب البیوع، باب كراهيۃ مبايعۃ من أكثر مالہ من الربا أو ثمن المحرم
ترجمہ:      حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور  صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جس نے چوری کا مال خریدا اور اس کو معلوم ہے کہ یہ مال چوری کا ہے تو خریدنے والا شخص اس کے عار دلانے میں اور چوری کے گناہ میں شامل ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اھل السنہ والجماعہ سرگودھا پاکستان
05۔صفر 1442
23۔ستمبر 2020