QuestionsCategory: متفرق سوالاتقرآن مجید کے نزول کی کیفیت
Mufti Muhammad Bilal asked 9 months ago

عرض یہ ہے کہ کیا مکمل قرآن کا نزول صرف اور  صرف اس کیفیت کے ساتھ ہوا  ہے جس میں صرف آواز سنائی پڑتی تھی اور کوئی فرشتہ نہ اصلی شکل میں نہ ہی متمثل ہو کر نظر آتا تھا؟

1 Answers
Mufti Muhammad Bilal answered 9 months ago

جواب
واضح رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پرنزول  وحی  کے مختلف طریقے تھے احادیث میں ان کا ذکر ملتا ہے ملاحظہ فرمائیں :
1: رویائے صالحہ (سچے خواب)                  2 :القاء فی القلب(دل میں پھونکنا یا خیال ڈالنا)          
 3:صلصلۃ الجرس (گھنٹی کی آواز کی طرح وحی کا اترنا)    4:فرشتے کا آدمی کی صورت میں آنا
 5: فرشتے کا اپنی اصلی صورت میں دکھائی دینا               6:فرشتے کی وساطت کے بغیر وحی کا نزول 7: براہ راست ہم کلام ہونا            8: بغیر حجاب کے مشاہدہ اور ہم کلام ہونا
پہلی صورت:            اول ما بدی به رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم من الوحی الرويا الصالحه فی النوم فکان لا يریٰ رويا إلا جاء ت مثل فلق الصبح.
صحیح بخاری ۔کتاب بدء الوحی، رقم الحدیث: 2
ترجمہ:      رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا آغاز سچی خوابوں سے ہوا جو خواب حضور صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دیکھتے اس کی تعبیر صبح کے اجالے کی مانند سامنے آ جاتی۔
دوسری صورت:       إن جبرئيل عليه السلام ألقیٰ فی روعی أن احداً منکم لن يخرج من الدنيا حتٰی يستکمل رزقه فاتقوا اﷲ ايها الناس واجملوا فی الطلب فإن إستبطا أحد منکم رزقه فلا يطلبه بمعصية اﷲ فان اﷲ لا ينال فضله بمعصية
المستدرک علی الصحيحين۔ رقم: 2136
ترجمہ:      حضرت جبرائیل علیہ السلام  نے میرے دل میں ایک بات ڈال دی کہ کوئی شخص اس وقت تک نہیں مر سکتا جب تک وہ اپنا رزق مکمل نہ کرے اس لئے اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور طلب رزق میں خوبصورت طریقے اختیار کرو ان کے ملنے میں اگر دیر ہو جائے تو اس کو خدا کی نافرمانی سے مت طلب کرو کیونکہ جو چیز اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ اس کی اطاعت سے ہی مل سکتی ہے۔
تیسری صورت:        حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ  نے عرض کیا یارسول اللہ آپ کی طرف وحی کیسی آتی ہے حضور صلی اللہ علیہ  وسلم نے فرمایا:
احيانا ياتينی فی مثل صلصلة الجرس و هو أشده علی
صحیح بخاری۔ کتاب بدأ لوحی،رقم الحدیث: 2
ترجمہ:      کبھی کبھی وحی میرے پاس گھنٹی کی آوازکی مانند آتی اور وہ میری طبیعت پر بڑی گراں ہوتی ہے۔
چوتھی صورت:        حضور صلی اللہ علیہ  وسلم نے اسی روایت میں ایک اور صورت کو ذکر کیا   فرمایا۔
واحيانا لی الملک رجلاً فيکلمنی فأعی ما يقول
صحیح بخاری۔ کتاب بدء الوحی، رقم الحدیث: 2
ترجمہ:      بعض اوقات فرشتہ میرے لئے آدمی کی شکل میں متمثل ہو جاتا وہ مجھ سے گفتگو کرتا ایسے کہ جو وہ کہے میں یاد کر لیتا ہوں۔‘‘
پانچویں صورت :       أن محمدًا صلی الله عليه وآله وسلم رأی جبريل له ستمائة جناح
صحیح بخاری۔ کتاب التفسير، باب قولہ فأوحی الی عبده ما اوحی ،رقم: 4576
حضور صلی اللہ علیہ  وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام  کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے ۔
چھٹی صورت:           بعض اوقات اللہ تعالی فرشتوں کی واسطہ کے بغیر اپنے خاص بندوں پر القاء کرتا ہے۔                                   أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ                                                         شوری: 51
ترجمہ:      یا پردے کے پیچھے سے (مخاطب ہوتا ہے)
ساتویں صورت:       ایک صورت یہ ہے کہ اللہ تعالی اپنے کاص بندے سے براہ راست کالم کرتا ہے  جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے معراج کے موقع پر بلا واسطہ مکالمہ فرمایا۔
آٹھویں صورت :      وحی کی آخری صورت یہ ہے کہ بلا حجاب مشاہدہ و خطاب سے سرفراز فرمائے   جیسے شب معتاج کے موقع پر ہوا
صحیح بخاری کی ایک روایت میں نزول وحی کی چندمختلف صورتوں کو جمع کیا گیا ہے
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَاأَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ فَيُفْصَمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ مَا قَالَ وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا۔
 (صحیح بخاری۔باب بدءالوحی، رقم الحدیث:2)
ترجمہ:      حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ آپ پر وحی کس طرح آتی ہے؟ توآپ صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا کہ کبھی تو مجھے گھنٹی کی سی آواز سنائی دیتی ہے اور وحی کی یہ صورت میرے لیے سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے پھر جب یہ سلسلہ ختم ہوجاتا ہے تو جو کچھ اس آواز نے کہا ہوتا ہے مجھے یاد ہوچکا ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ میرے سامنے ایک مرد کی صورت میں آجاتا ہے، پھر مجھ سے بات کرتا ہے، جو کچھ وہ کہتا ہے میں اس کو یاد کرلیتا ہوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں : میں نے سخت سردی کے دن میں آپ پر وحی نازل ہوتے دیکھی ہے (ایسی سردی میں بھی)جب وحی کاسلسلہ ختم ہوجاتا تو آپ کی پیشانی مبارک پسینہ سے شرابور ہوچکی ہوتی تھی۔
 واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء مرکز اھل السنہ والجماعہ سرگودھا پاکستان23
20-ستمبر2020ء