AhnafMedia

Aqeeda Hayatun Nabi SAW k Dalail

Rate this item
(73 votes)

عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دلائل

 

:دلیل نمبر 1

قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ : وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ بَلْ اَحْیَآئٌ وَّ لٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ ۔

(البقرہ 154)

ترجمہ : جو اللہ کے رستے میں قتل کردیا جائے اسے مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہے اور تم اس کا شعور نہیں رکھتے ۔

تفسیر : حکیم الامت ، مجدد الملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’ یہی حیات ہے جس میں حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام شہداء سے بھی زیادہ امتیاز اور قوت رکھتے ہیں،حتی کہ بعد موت ظاہری کے سلامت جسد کے ساتھ ایک اثر اس حیات کا اس عالم کے احکام میں یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مثل ازواج احیاء کے ان کی ازواج سے کسی کو نکاح جائز نہیں ہوتا اور ان کا مال میراث میں تقسیم نہیں ہوتا۔ پس اس حیات میں سب سے قوی تر انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام ہیں پھر شہداء پھر معمولی مرد ے ۔‘‘

(تفسیر بیان القران؛ مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ ج1 ص 78)

دلیل نمبر 2 :

قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ:وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰی الْکِتٰبَ فَلَا تَکُنْ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْ لِّقَآئِہٖ… الآیہ

(السجدہ 23)

ترجمہ : حقیقت یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب عطا کی تھی لہذا (اے پیغمبر ! ) آپ ان سے ملنے کے بارے میں شک میں نہ رہو ۔

تفسیر: امام جلال الدین عبد الرحمن بن ابی بکر السیوطی رحمہ اللہ لکھتے ہیں

’’عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَاَیْتُ لَیْلَۃَ اُسْرِیَ بِیْ مُوْسٰی بْنَ عِمْرَانَ…وَرَاَیْتُ عِیْسٰی بْنَ مَرْیَمَ…وَرَاَیْتُ مَالِکاً خَازِنَ جَھَنَّمَ وَالدَّجَّالَ فِیْ اٰیَاتِ اَرَاھُنَّ اللّٰہُ اِیَّاہٗ قَالَ فَلَا تَکُنْ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْ لِّقَآئِہٖ، فَکَانَ قَتَادَۃُ یُفَسِّرُھَا اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ لَقِیَ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامِ ۔

(تفسیر الدر المنثور؛امام سیوطی ج 5 ص 343)

ترجمہ : ’’ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے معراج کی رات موسیٰ بن عمر ان اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو دیکھا اور جہنم کے داروغہ مالک اور دجال کو دیکھا چند نشانیوں میں جو اللہ نے انہیں دکھائیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا فَلَا تَکُنْ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْ لِّقَآئِہٖ آپ موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات کے بارے میں شک میں نہ رہیں۔‘‘ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ اس کی تفسیر یہ فرماتے تھے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کی ہے ۔ ‘‘

حضرات انبیاء علیہم السلام کے اجسام مبارکہ محفوظ ہیں:

دلیل نمبر 3 :

رَوَی الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ اَبِیْ الْاَشْعَثِ الصَّنْعَانِیْ عَنْ اَوْسِ بْنِ اَوْسٍ قَالَ؛ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَاکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَائِ۔

(مصنف ابن ابی شیبۃ ج 2 ص398 ، سنن نسائی ج1 ص 203، 204 )

ترجمہ: حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہما ، فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے زمین پر حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے اجساد حرام کر دیے ہیں ۔‘‘ (زمین ان کو نہیں کھاتی )

:حضرات انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں

:دلیل نمبر 4

قَالَ الْاِمَامُ اَبُوْ یَعْلٰی اَحْمَدُ بْنُ عَلِی الْمُوْصِلِیِّ حَدَّثَنَا اَبُوْ الْجَھْمِ الْاَرْزَقُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْییٰ بْنُ اَبِیْ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِیْدٍ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ ثَابِتِ الْبَنَانِیِّ عَنْ اَنْسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ؛ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَ لْاَنْبِیَآئُ اَحْیَائٌ فِیْ قُبُوْرِھِمْ یُصَلُّوْنَ ۔

(مسند ابی یعلی الموصلی ص 658 حدیث نمبر 3425)

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نمازیں پڑھتے ہیں ۔‘‘

:حضرات انبیاء علیہم السلام کو رزق دیا جاتا ہے

:دلیل نمبر 5

رَوَی الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیْدِ بْنِ مَاجَۃَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَوَادِ الْمِصْرِیٍ ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ وَھْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ ھَلَالٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَیْمَنَ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نَسِیٍّ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ قَالَ ؛ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَنَبِیُّ اللّٰہِ حَیٌّ یُرْزَقُ۔

(سنن ابن ماجۃ ج 1 ص 118)

ترجمہ: حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ کا نبی زندہ ہوتا ہے اور اسے رزق دیا جاتا ہے۔‘‘

:حضرات انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں نمازیں پڑھتے ہیں

:دلیل نمبر 6

رَوَی الْاِمَامُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا ھَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ وَ شَیْبَانُ بْنُ فَرُوْخٍ قَالَا نَا حَمَّادُ بْنُ سَلْمَۃَ عَنْ ثَابِتِ الْبَنَانِیِّ وَ سُلَیْمَانِ التَّیْمِیِّ عَنْ اَنْسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اَتَیْتُ (وَ فِیْ رِوَایِۃِ ھَدَّابٍ) مَرَرْتُ عَلٰی مُوْسٰی لَیْلَۃَ اُسْرِیَ بِیْ عِنْدَ الْکَثِیْبِ الْاَحْمَرِ وَھُوَ قَائِمٌ یُّصَلِّیْ فِیْ قَبْرِہٖ۔

(صحیح مسلم ج 2 ص 268)

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ معراج کی رات میرا گذرحضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر پرہوا جو سرخ ٹیلے کے قریب ہے میں نے ان کو دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہے ہیں ۔‘‘

:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوتحفۂ درود پہنچایا جاتا ہے

:دلیل نمبر 7

رَوَی الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْدَاوٗدَ حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ قَرَأْتُ عَلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ اَخْبَرَنِیْ اِبْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ عَنْ سَعِیْدِ الْمَقْبَرِیْ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ؛ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلُّوْا عَلَیَّ فَاِنَّ صَلٰوتَکُمْ تَبْلُغُنِیْ حَیْثُ کُنْتُمْ

(سنن ابی داؤد ج 1 ص 295 )

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’مجھ پر درود بھیجو کیونکہ تم جہاں بھی ہو، تمہارا درود میرے پاس پہنچایا جاتاہے ۔‘‘

:قبراطہر کے پاس پڑھا جانے والا صلوٰۃ و سلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود سنتے ہیں

:دلیل نمبر 8

قَالَ الْحَافِظُ اَبُو الشَّیْخِ الْاَصْبَھَانِیْ فِیْ کِتَابِ الصَّلَاۃِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَحْمَدِ الْاَعْرَجَ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الصَّبَاحِ حَدَّثَنَا اَبُوْ مُعَاوَیَۃَ حَدَّثَنَا الْاَ عْمَشُ عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ ؛قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ عِنْدَ قَبْرِیْ سَمِعْتُہٗ وَمَنْ صَلّٰی عَلَیَّ مِنْ بَعِیْدٍ اُعْلِمْتُہٗ ۔

(جلاء الافہام ؛ابن قیم ص 19 وفی نسخۃ ص 25 حدیث نمبر 25)

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جس نے میری قبر کے پاس درود پڑھا تو میں اسے خود سنتا ہوںاور جس نے مجھ پر دُور سے درود پڑھا تو وہ (بواسطہ فرشتوں کے ) مجھے بتلا دیا جاتا ہے ۔‘‘

:قبر اطہر سے سلام کا جواب بھی عنایت ہوتا ہے

:دلیل نمبر 9

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْدَاوٗدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ نَا اَلْمُقْرِیُّ نَا حَیْوَۃُ عَنْ اَبِیْ صَخْرَۃَ حُمَیْدِ بْنِ زَیَّادٍ عَنْ یَزِیْدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَسِیْطٍ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ اَحَدٍ یُسَلِّمُ عَلَیَّ اِلَّا رَدَّ اللّٰہُ عَلَیَّ رُوْحِیْ حَتّٰی اَرُدَّعَلَیْہِ السَّلَامَ۔

(سنن ابی داؤد ج 1 ص 294 )

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جوشخص مجھ پر سلام بھیجتاہے تو اللہ تعالی میری روح کو میری طرف متوجہ کر دیتے ہیں یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔‘‘

:دُور سے پڑھا جانے والا صلوٰۃ و سلام فرشتے پہنچاتے ہیں :

:دلیل نمبر 10

رَوَی الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَاوَکِیْعٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ ؛ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ لِلّٰہِ مَلَآ ئِکَۃً سَیَّاحِیْنَ فِی الْاَرْضِ یُبَلِّغُوْنِیْ عَنْ اُمَّتِیْ اَلسَّلاَمَ ۔

(مصنف ابن ابی شیبۃ ج 2 ص 399 )

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اللہ تعالی کی طرف سے کچھ فرشتے مقرر ہیں جو زمین میں چکر لگاتے ہیں اور میری امت کا سلام مجھ کو پہنچاتے ہیں۔‘‘

:حیاۃ الانبیاء علیہم السلام اجماعی عقیدہ ہے

(1) قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ السَّخَاوِیُّ الشَّافِعِیُّ:وَنَحْنُ نُؤْمِنُ وَنُصَدِّقُ بِاَنَّہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَیٌّ یُرْزَقُ فِیْ قَبْرِہٖ وَاَنَّ جَسَدَہُ الشَّرِیْفَ لَا تَاکُلُہُ الْاَرْضُ، وَالْاِجْمَاعُ عَلٰی ھٰذَا۔

(القول البدیع ،علامہ سخاوی ص 172)

ترجمہ : علامہ سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ ہم یقین رکھتے ہیں اور تصدیق کرتے ہیں کہ نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر میں زندہ ہیں ، آپ کو رزق دیا جاتا ہیں اور آپ کے جسد شریف کو زمین نے نہیں کھایا اور اس پر اجماع ہے ۔‘‘

(2) قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ اِبْنُ حَجَرٍ اَلْھَیْثَمِیْ:فَنَحْنُ نُؤْمِنُ وَنُصَدِّقُ بِاَنَّہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَیٌّ یُرْزَقُ وَاَنَّ جَسَدَہُ الشَّرِیْفَ لَا تَاکُلُہُ الْاَرْضُ، وَالْاِجْمَاعُ عَلٰی ھٰذَا۔

(الدرالمنضود فی الصلوۃ علی صاحب المقام المحمود ، ابن حجر ہیثمی ص 95)

ترجمہ: علامہ ابن حجر ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ ہم یقین رکھتے ہیں اور تصدیق کرتے ہیں کہ بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں ، رزق دیے جاتے ہیں اور آپ کے جسد شریف کو زمین نہیں کھاتی اور اسی پر اجماع ہے ۔‘‘

(3) شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :’’بباید حیات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام متفق علیہ است و ہیچ کس را دروے خلاف نیست ۔‘‘

(اشعّۃ اللمعات ج 1 ص 574)

ترجمہ: ’’انبیاء علیہم السلام کی حیات متفق علیہ ہے، اس میں کسی کو اختلاف نہیں ۔

(4) علامہ نواب محمد قطب الدین خان دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’چنانچہ یہ مسئلہ بالکل صاف اور واضح ہے اور اس میں کسی اختلاف کی گنجائش نہیں کہ انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور انہیں صرف حیات معنوی روحانی حاصل نہیں ہے بلکہ حقیقی جسمانی حیات حاصل ہے ۔‘‘

(مظاہر حق از نواب محمد قطب الدین دہلوی ج1 ص 865 )

(5) قاسم العلوم والخیرات حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی نور اللہ مرقدہ (بانی دارالعلوم دیوبند) کے متعلق شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ’’حضرت نانوتوی رحمہ اللہ نے ایک بہت ضخیم کتاب تحریر فرمائی ہے جو کہ مشہور بین العالم ہے اس میں کس زور و شور سے حیات نبوی کا اثبات کیا ہے اور مذہب اہل السنت والجماعت اور فضائل نبوت میں کس درجہ اور قوت کے دلائل درج فرمائے ہیں۔ ‘‘

(رجوم المدنیین ص 48)

اس سے معلوم ہوا کہ تمام اہل السنت والجماعت کا یہی عقیدہ ہے ۔

(6) قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’مگر انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے سماع میں کسی کو خلاف نہیں۔‘‘

(فتاویٰ رشیدیہ ص 123)

نوٹ: سماع حیات کے بغیر نہیں ہوتا ، معلوم ہوا کہ حیات میں بھی کسی کو اختلاف نہیں ہے

(7) محدث جلیل مولانا خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ’’اس بات کو خوب یاد کرلینا ضروری ہے کہ عقیدہ سب کا ہے کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اپنی قبور میں زندہ ہیں۔‘‘

(براہین قاطعہ ص 203)

(8) حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی دیو بندی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:’’تمام اہل السنت والجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام وفات کے بعد اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز اور عبادت میں مشغول ہیں۔ ‘‘

(سیرۃ المصطفیٰ ج 3 ص 249)

(9) شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا دیوبندی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:’’انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اپنی قبور میں زندہ ہیں اور بحوالہ علامہ سخاوی کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں اپنی قبر شریف میں اور آپ کے بدن اطہر کو زمین نہیں کھا سکتی اور اس پر اجماع ہے ۔‘‘

(فضائل درود شریف ص 19)

(10) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ لکھتے ہیں:’’ عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اجماع ہے ۔ یہ عقیدہ اہل السنت کا بنیادی عقیدہ ہے ۔‘‘

(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج 10 ص512,511)

:منکرین حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم

(1) قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ بَدْرُ الدِّیْنِ مَحْمُوْدُ بْنُ اَحْمَدَ اَلْعَیْنِیْ: مَنْ اَنْکَرَ الْحَیَاۃَ فِی الْقَبْرِ وَھُمُ الْمُعْتَزِلَۃُ وَمَنْ نَحَا نَحْوَھُمْ ، وَاَجَابَ اَہْلُ السُّنَّۃِ عَنْ ذٰلِکَ ۔

(عمدۃ القاری ،علامہ عینی ج 11 ص 703)

ترجمہ: حضرت علامہ بدر الدین عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’جن لوگوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی زندگی کا انکار کیا ہے وہ معتزلہ اور ان کے ہم عقیدہ لوگ ہیں۔ اہل السنت والجماعت نے ان کے (وساوس )کے جوابات دیے ہیں۔“

(2) حضرت مولانا محمد یو سف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ لکھتے ہیں:’’الغرض میرا اور میرے اکابر کا عقیدہ یہ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنے روضہ مطہرہ میں حیات جسمانی کے ساتھ حیات ہیں یہ حیات برزخی ہے مگر حیات دینوی سے قوی تر ہے جو لوگ اس مسئلہ کا انکار کرتے ہیں ان کا اکابر علماء اور اساطین امت کی تصریحات کے مطابق علماء دیوبند سے تعلق نہیں ہے اور میں ان کو اہل حق میں سے نہیں سمجھتا اور وہ میرے اکابر کے نزدیک گمراہ ہیں۔‘‘

(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج10 ص 514)

(3) جو شخص عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا منکر ہے (تفصیل اوپر گزر چکی ہے ) وہ بدعتی ہے۔ 1

دارالافتاء والارشاد ناظم آباد کراچی، مفتی محمد مدظلہ ، مفتی ابو لبابہ شاہ منصور 2

خیر المدارس ملتان، مفتی عبد الستار رحمہ اللہ 3.

دارالافتاء والارشاد لاہور ،مفتی حمید اللہ جان مدظلہ 4.

دارالافتاء باب العلوم کہروڑ پکا، مفتی ظفر اقبال مدظلہ 5.

جامعہ دارالعلوم ربانیہ ،مفتی شیر محمدمدظلہ، حافظ نذیر احمد مدظلہ،ابو احمد عبد الشکور

جو شخص عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا منکر ہو وہ بدعتی اور اہل السنۃ والجماعۃ سے خارج ہے ۔

1 السید مفتی مہدی حسن ، مفتی دارالعلوم دیوبند

2 مولانا جمیل احمد تھانوی، جامعہ اشرفیہ نیلا گنبد لاہور

3 مولانا محمد ضیاء الحق ،مدرسہ جامعہ اشرفیہ لاہور

4 مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ ، محمود الحسن طیب،نصرت العلوم گوجرانوالہ

5 مفتی منظور احمد، مفتی جامعہ قاسم العلوم ملتان

6 مفتی ظہور احمد، جامعہ رشیدیہ ساہیوال

حکم : منکرین حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی اور ناجائز ہے

1 سید مفتی مہدی حسن، مفتی دارالعلوم دیوبند

2 مولانا جمیل احمد تھانوی، جامعہ اشرفیہ نیلا گنبد لاہور

3 مفتی محمد و مفتی ابو البابہ شاہ منصور، دارالافتاء والارشاد ناظم آباد کراچی

4 مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ ، محمود الحسن طیب،نصرت العلوم گوجرانوالہ

5 دارالافتاء والارشاد لاہور، مفتی حمید اللہ جان

6 مفتی حامد حسن، مفتی دارالعلوم عید گاہ کبیر والا

7 مفتی منظور احمد ، مفتی قاسم العلوم ملتان

8 مولانا محمد ضیاء الحق ، مدرسہ جامعہ اشرفیہ لاہور

9 مفتی ظہور احمد، جامعہ رشیدیہ ساہیوال

10 مفتی محمد اصغر، جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد

11 مفتی شیر محمد، مفتی جامعہ ربانیہ ٹوبہ ٹیک سنگھ

12 مفتی ظفر اقبال ، مفتی جامعہ اسلامیہ باب العلوم کہروڑ پکا

13 حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ منکر حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز نہیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کا تعلق روا نہیں۔“

(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج 10 ص 514)

نوٹ : نقل بمطابق اصل ہے ، ان کے علاوہ اور بھی بہت سے فتاویٰ جات اس پر موجود ہیں ، درج ذیل پتہ پر رابطہ کرکے منگوا سکتے ہیں۔

Read 7598 times

DARULIFTA

Visit: DARUL IFTA

Islahun Nisa

Visit: Islahun Nisa

Latest Items

Contact us

Markaz Ahlus Sunnah Wal Jama'h, 87 SB, Lahore Road, Sargodha.

  • Cell: +(92) 
You are here: Home Masail aor Dalail Aqeeda Hayatun Nabi SAW k Dalail

By: Cogent Devs - A Design & Development Company