AhnafMedia

جماعت المسلمین کے عقائد کا تحقیقی جائزہ

Rate this item
(2 votes)

جماعت المسلمین کے عقائد کا تحقیقی جائزہ

٭مولانا محمد رضو ان عزیز

علما ء اور مشا ئخ کے فتنو ں ،قیا سا ت ،اجتہا دات اورآرا ء کو شریعت کا در جہ دینا شرک ہے، شریعت سا زصر ف اللہ تعالیٰ ہے لہذا حلا ل حرام کا فیصلہ صر ف وہی کر سکتا ہے۔ (۱)

 

(۱)تو حید المسلمین ص 273مصنفہ مسعو د BSC (

 

مسعو د احمدBSCکی تیا ر کر دہ توحیدمیں اللہ کے ماسواء حلا ل وحرام کا اختیا ر کسی کونہیںہے ؛ حالا نکہ یہ ان کی انتہا ء در جے کی گمراہی اور فرمانِ رسول ﷺ کی صر یح مخالفت ہے۔ علماء ومشائخ کے فتاویٰ، قیا سات اوراجتہا دات کو شریعت میں کیا مر تبہ حاصل ہے اس پر بعد میں گفتگو کر تے ہیں؛فی الحال اس با ت کی وضا حت ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے حلا ل وحرام کا اختیا ر کسی اور کوبھی دیا ہے یا نہیں ۔حضرت مقدام بن ابو بکرؓ فر ماتے ہیں:

 

’’ان رسول ﷺقال یوشک الر جل متکئاً علی اریکتہ یحدث بحدیث من حدیثی فیقول بیننا وبینکم کتا ب اللہ عزوجل فما وجد نا فیہ من حلال استحللناہ فما وجدنا فیہ من حرام حرمنا ہ الا وان ما حرم رسول اللہ مثل ما حرم اللہ۔‘‘ (۲)

 

)ابن ما جہ؛ با ب تعظیم حدیث رسول ﷺ ص۳رقم الحدیث ص۱۲

 

 

نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ’’ اللہ کے رسول کا حرام کر دہ بھی ایسے ہی حرام ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیز ۔‘‘

 

مسعود احمد کے جہا لت کی وادی تیہ میں آوارہ گردی کے دن ابھی ختم نہیں ہو ئے کہ نام نہا د خانہ ساز تو حید سے رسول ﷺ کا حلا ل وحرا م کرنے کا منصب بھی چھن گیا ،ایک طر ف فر مان رسول ہے اور دوسری طر ف جما عت المسلمین کے ا س پیشوا کی توحید ہے ۔

 

رہا مسئلہ یہ کہ علماء کے فتا ویٰ اور اجتہا دا ت کو شریعت میں کیا مقام حاصل ہے؟؟ تو پہلے اجتہا د فتوی اورآراء کی وضا حت ہو جا ئے تاکہ مطلو ب کے سمجھنے میںآسا نی ہے ۔

 

اجتہاد : اس خا ص قوت استنبا ط کا نام ہے جس کے ذریعے آدمی قرآن وحدیث کے خفیہ ودقیق احکام ومعانی اوررموزو علل کو انشر اح صدر کے ساتھ حا صل کر لیتا ہے کہ عام لوگو ں کی یہا ں تک رسا ئی ممکن نہیں ہو تی ۔اللہ تعالیٰ قرآن پا ک میں فر ماتے ہیں:

 

’’وَإِذَا جَاء ہُمْ أَمْرٌ مِّنَ الأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُواْ بِہِ وَلَورُدُّوہُ إِلَی الرَّسُولِ وَإِلٰی أُوْلِیْ الأَمْرِ مِنْہُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنبِطُونَہُ مِنْہُم‘‘

 

اس آیت مبا رکہ کی تفسیر میں:

 

’’وفی ہذاالٓا یۃ دلا لۃ علی وجو ب القول با لقیا س واجتہا د الرا ی فی الاحکا م الحوادث۔‘‘(۱)

 

(۱)احکام القرآن ۲۔۲۶۲ یعنی اس آیت مبا رکہ میں نئے پیش آمدہ مسا ئل پرمجتہد کی طر ف سے کیے جانے والے اجتہا د قیا س اور رائے کو ما ننے کا حکم دیا گیا آپ ﷺ نے خود مجتہد ین کو حو صلہ افزائی ہے۔ (جو پیش آمدہ غیر منصوص اجتہا دی مسا ئل میں اجتہادفر ما تے ہیں )

 

جب حضرت معا ذ بن جبل ؓکو نبی ﷺ نے یمن کی طرف قاضی بنا کر بھیجا تو پہلے بطور امتحان کے پو چھا: اے معا ذکس چیز کے مطا بق فیصلہ کر و گے؟ حضرت معا ذ ؓنے عرض کیا کتا ب اللہ کے مطابق۔ آپ ﷺ نے پو چھا اگر مسئلہ کتا ب اللہ میںنہ ملے تو پھر؟ عرض کیا رسول ﷺکی سنت کو دیکھ کر فیصلہ کر وں گا ۔آپ ﷺنے فرمایا اگر مسئلہ نہ کتا ب اللہ میں ملے نہ سنت رسول ﷺ میں تو کس طر ح فیصلہ کر و گے؟ عرض کیا ’’اجتہدبالرای‘‘ میں اپنی ر ائے سے اجتہا د کر وں گا۔اس پر آپ ﷺ نے مسر و رہو کر فرمایا ’’الحمد للہ الذی وفق رسول رسول اللہ بمایرضیٰ بہ رسولہ ‘‘اللہ کا شکر ہے جس نے میرے قاصد کی رائے کو اس موافق کر دیا جس سے اللہ کا رسول راضی ہے۔(۲)

 

(۲) ابو دائو د رقم الحدیث۳۵۹۲،تر مذی رقم الحدیث ۱۳۲۷

 

 

یعنی غیر منصوص اجتہا دی مسئلے میں اجتہا د کر نا اللہ کے رسول کو را ضی کرنے کا ذریعہ ہے اور جب مجتہد اجتہا د کرے گا تو عامی آدمی اس پر عمل کرے گا ،جن میںخو د اجتہا د کر نے کی صلا حیت نہیں ہے اور شر یعت نے ہر ایک کو منصب اجتہا د پر بیٹھنے کی اجا زت نہیں دی بلکہ اس کی کچھ شر ائط ہیں ۔

 

’’اما شرطہ فانہ یحوی علم الکتا ب بمعا نیہ وعلم السنۃ بطر قھا ومتونھا ووجو ہ معا نیھا وان یعر ف وجوہ القیا س۔‘‘(۱)

 

(۱)کنز الو صول الیٰ معر فۃ الا صول ص۲۷۸

 

مجتہد کے لیے شر ط یہ ہے کہ اسے کتا ب اللہ کے علو م پر ،معا نی پر دستر س حا صل ہو سنت اور علم حدیث کے مختلف طر ق اور متون اور ان کے معانی کی وجو ہا ت اور قیا س کرنے کی وجہ سے بھی واقف ہو ۔

 

جس میں مذکورہ صلا حیت ہو گی وہ تو اجتہا د کی اہلیت رکھتا ہے مگر جس بیچا رے کا مبلغ علم ہی صرف چند اردوکتب کی ورق گر دا نی وہ فتوی بازی کرے تو اسے زیب نہیںدیتا۔ لہذا اجتہا دات کا منکر، پیش آنے والے جدید مسا ئل میں امت مسلمہ کو یہ با ور کرانا چاہتا ہے کہ اسلا م نے ان کا کوئی حال پیش نہیں کیا ۔

 

منا سب معلوم ہوتا ہے کہ مجتہد بننے کی تما م شر ائط کو بیان کر دیا جا ئے تاکہ اگر کسی اور کے دما غ میںشو ق اجتہا د سما یا ہو ا ہے تو وہ آئینہ دیکھ کر تقابل کر لے کہ آیا میں ا س عظیم منصب کا اہل ہو ں؟اگر نہیں اہل تو پھر فر ما ن پیغمبر کے مطا بق ’’اہل‘‘ لو گوں سے جھگڑنا چھوڑ دے۔

 

شرائط اجتہا د کو اولاًہم دو قسموں میں تقسیم کر یں گے :

 

1:وہ شرائط جو وہبی ہیں،کسبی نہیں ۔انہیں شر ائط عا مہ کہتے ہیں۔

2

 

:وہ شرائط جو کسب سے متعلق ہیں ان امور میں محنت کر نے والے کو منصب اجتہاد تک پہنچا دیتی ہیں ۔

 

(۱)شر وط عامہ یہ تین ہیں: 1:اسلام 2:بلو غ 3:عقل

 

اور شروط اھلیت یعنی کسبی یہ دو قسم پر ہیں:

1

 

:بنیا دی شروط 2:شروط تکمیلیہ

 

بنیادی شروط: معرفۃ الکتا ب؛معر فۃ السنۃ؛معر فۃاللغۃ؛معر فۃ مواضع الا جما ع

 

شروط تکمیلیہ :’’معرفۃ البر اء ۃ الا صلیۃ؛معر فۃ مقاصد الشر یعہ ؛معر فۃ القواعد الکلیہ ؛معرفۃ مواضع الخلاف ؛العلم با لعر ف الجا ری فی البلاد؛معر فۃ المنطق عدالۃ المجتہد وصلا حہ ؛حسن الطر یقہ وسلا مۃ المسلک ؛الورع والعفر؛رصا نۃ الفکر وجود ۃ الملا حظہ ؛الا فتقار الی اللہ والتو جہ الیہ با لدعا ؛ثقتہ بنفسہ وشہا دۃ الناس لہ با لا ہلیہ ؛موافقۃ عملہ مقتضی قولہ۔‘‘(۱)

 

(۱)ارشا د الفحول ص۲۴۹بحوالہ الاجتہا د و التقلیدفی الاسلام یہ ہیں وہ شرا ئط جن کا عمو ماً ایک مجتہد میںپا یا جا نا ضروری ہے ۔جب اتنے سخت معیا ر کی کسو ٹی پر پورا اتر کر کوئی مجتہد مسئلہ بتا ئے گا تو وہ اس کا اپنا گھڑا ہوا دین ہر گز نہ ہو گا بلکہ وہ کتا ب وسنت یا اجما ع امت سے ثابت شدہ ہی ہو گا ،اس کو شر ک قرار دینا مسعود ا حمد BSCکے علمی کھوکھلے پن کا منہ بولتا ثبو ت ہے ۔

 

دوسری چیز جس کو مسعودی مذہب نے شر ک قرار دیا وہ فتویٰ ہے۔

 

آئیے !اب ذرا ملا حظہ کریں کہ فتویٰ اورمفتی کیا ہے؟

 

1:مفتی : وہ ہے جو اللہ کے حکم کو دلیل کے ساتھ پہچان کر خبر دے اور بعض نے کہا کہ مفتی وہ جو اللہ کی طرف اسکے حکم کی خبر دینے والا ہو یا مفتی وہ ہے جوپیش اور مسائل کی دلیل کے ساتھ شر عا ً پہنچاننے پر قادر ہو (۲)

 

(۲)صفۃالفتوی والمستفتی ص۴بحوالہ الا جتہا د والتقلید فی الا سلا م ص۴۶

 

2

 

:فتوی: جو مفتی سوال کا جو اب دیتا ہے یا احکام میں سے کسی چیز کا حکم بیان کرے وہ فتوی ہے۔ اگرچہ سوال خا ص نہ ہو مگر جو اب فتو ی کہلائے گا اور فتویٰ کا منصب اجتہا دکامنصب ہے اس لیے اکثر اصولی حضرات کہتے ہیں کہ مفتی مجتہد کو کہتے ہیں اور مستفتی اسے کہتے جو مجتہد نہ ہو ۔

 

معلو م ہوا کہ مفتی کا منصب ،عوام النا س کو اللہ تعالیٰ کے احکا مات کی خبر دینا ہے اپنی طرف سے دین سا زی کرنا نہیں ہے اور دین کے احکامات بتلا نا اگر شر ک ہے جیسا کہ مسعود کا نامسعود گمان ہے تو منصب افتا ء اجتہا د پر بیٹھ کر چودہ صدیو ں سے امت کی راہنما ئی کرنے والے بیک لغزش قلم مسعو د شرک قرار پائے ۔

Read 2154 times

DARULIFTA

Visit: DARUL IFTA

Islahun Nisa

Visit: Islahun Nisa

Latest Items

Contact us

Markaz Ahlus Sunnah Wal Jama'h, 87 SB, Lahore Road, Sargodha.

  • Cell: +(92) 
You are here: Home Islamic Articles (Urdu) جماعت المسلمین کے عقائد کا تحقیقی جائزہ

By: Cogent Devs - A Design & Development Company