سوال:

جناب عالی میں مالدیپ میں کام کرتا ہوں جو اس کمپنی کا مالک ہے وہ بہت امیر آدمی ہے وہ بینک سے سود پر رقم لیتا ہے اور سود پر رقم دیتا نہیں صرف رقم لیتا ہے مجھے اس کے پاس کام کرتے ہوے آٹھ سال ہو گے پھر نمبر دو وہ زنا بھی کرتا ہے بہت دفعہ اس کو منع بھی کیا لیکن وہ نہیں مانتا جس کی وجہ سے کاروبار بھی زیادہ نہیں چلتا لیکن وہ نہیں سمجھتا اب آپ بتائیں کہ میرا یہاں کام کرنا ٹھیک ہے یا نہیں میری روزی حلال ہے ہا نہیں میں کام برابر کرتا ہوں آپ مجھے قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں کہ جو میں کماتا ہوں وہ درست ہے یا نہیں؟ شکریہ

ملک طیب شاہد

الجواب حامدا مصلیا

ایک آدمی سود پر رقم لےکر اس سے کاروبار کرتا ہے، اس کا سود پر رقم لینا حرام اور ناجائز ہے کیونکہ شریعت نے اس سے منع کیا ہے۔

لیکن اس مال سے کاروبار کرنا جائز ہے۔

باقی جہاں تک اس کے زنا کرنے کا تعلق ہے تو اس گناہ کا تعلق اس کے ذاتی فعل سے ہے اس کی جزاء و سزا وہ خود آخرت میں بھگتے گا اس کا گناہ کسی پر نہیں ہو گا ۔

آپ جو اس کے پاس ملازمت کرتے ہیں اور تنخواہ لیتے ہیں آپ کا ملازمت کرنا اور تنخواہ لینا جائز ہے۔

مجیب:مولانا محمد اختر حنفی