سوال:

شیئر کی خریدو فروخت جائز ہے یا نہیں؟

عثمان خان

جواب:

سب سے پہلے کمپنی کے کاروبار کو دیکھا جائے گا کہ آیا وہ کمپنی کسی حرام کاروبار میں ملوث تو نہیں مثلاً سودی بینک ،انشونس کمپنی،یا شراب کی خریدو فروخت جیسے حرام کاروبار کرنے والی کمپنی ،اسکا حکم یہ ہے کہ اس قسم کے شیئرز خریدنا حرام ہے۔اگر اس طرح کے کاروبار میں وہ کمپنی ملوث نہ ہو بلکہ اسکا کاروبار شرع کے مطابق ہو تو پھر شیئرز خریدنے میں کوئی حرج نہیں ۔

فتاوی عثمانی ج3 ص177

مزید تفصیل کے لیے شیخ الا سلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی کتاب اسلام اور جدید معیشت و تجارت کا مطالعہ کیا جائے :

واللہ اعلم باالصواب۔

مولانا محمد مدثر عفی عنہ