سوال:

برائے کرم مسافر کی نماز اور روزوں کے بارے میں ضروری مسائل بتا دیں ۔

کیا مسافر پر روزہ رکھنا ضروری ہے یا افطار بھی کر سکتا ہے۔

محمد ذیشان

جواب:

شریعت مطرہ میں سفرشرعی کے دوران نماز کو قصر کرنے کو واجب قرار دیا گیا ہے، اس پر عمل کرنا ضروری ہے،

اگر نہیں کرے گا تو گنہگار ہو گا۔ ہرخلاف روزوں کے کہ ان کے متعلق شریعت نے اختیار دیا ہے، اگر مشقت کا اندیشہ

نہ ہو تو سفر میں بھی روزہ رکھنے کو افضل قرار دیا ہے۔

حوالہ فتاویٰ عبادالرحمان ج3ص174، از مفتی عبدالرحمان مداخیل

(۲) شریعت مطرہ میں اگر شرعی دینی یا دنیاوی کاموں کے لیے سفر کرتا ہے تو اس کو روزہ میں رخصت ہے لیکن افضل ہے،

روزہ رکھنا اگر مشقت نہ ہو تو ضرور روزہ رکھے۔

آپ کے مسائل اور ان کا حل ج4ص546

(۳) دوران سفر اگرچہ روزہ چھوڑنا جائز ہے مگر آج کل چونکہ سفر آرام دہ ہو چکا ہے اور وہ مشقتیں نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی

اس وجہ سے بغیر ضرورت شدیدہ کے روزہ نہیں چھوڑنا چائیے۔ اس لئے اگر آپ روزہ رکھ لیں تو بہت اچھی بات ہے اور اگر روزہ چھوڑ

دیا جائے اور بعد میں قضا بھی کر لے تو اس سے اگرچہ فرض ذمہ سے ساقط ہو جائے گا اور گناہ بھی نہیں ہو گا لیکن وہ برکات جو رمضان میں

روزہ رکھنے کی ہیں وہ بعد میں نہں مل سکتی۔

(۴) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں کبھی روزہ رکھا ہے اور کبھی افطار کیا ہے اور مسافر کے لیے دونوں طریقے جائز ہیں اور اگر

غیر معمولی مشقت کا اندیشہ نہ ہو تو روزہ رکھنا افضل ہے،

“لقولہ تعالیٰ: وان تصومواخیرلکم”

صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں بھی ہے کہ سفر کی حالت میں بعض صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزے رکھتے تھے اور بعض افطار فرماتے تھے۔

حوالہ فتاویٰ عثمانی ج2ص173 مفتی تقی عثمانی صاحب

سفر میں روزہ چھوڑنا جائز ہے لیکن اگر غیر معمولی مشقت کا اندیشہ نہ ہو تو روزہ رکھنا افضل ہے۔

حوالہ فتاویٰ عثمانی ج2ص174

(۵) ایک شخص سعودی عرب سے روزے رکھتے ہوئے آیا اور یہاں پر بھی روزے رکھ رہا ہے اور پاکستان کے لحاظ سے اس کے دو

روزے زائد بنتے ہوں ایسی حالت میں کیا حکم ہے : پاکستان پہنچ کر جب تک رمضان باقی ہے اس وقت تک روزہ اس پر فرض ہے۔

(۶) اسی طرح ایک اور مسلئہ ہے ایک شخص پاکستان سے روزہ رکھتے ہوئے سعودی عرب گیا اس کے دو روزے سعودی لحاظ سے کم

بنتے ہوں ایسی صورت میں جب رمضان ختم ہو جائے تو سعودی عرب میں اسکے اٹھائیس روزے ہوئے تو باقی دو روزوں کی قضا ء کرے گا۔

حوالہ فتاویٰ عثمانی ج2ص177 مفتی تقی عثمانی

مفتی محمد یوسف