سوال:

مفتی صاحب کچھ مسائل کا جواب پوچھنا ہے۔

1۔ کیا روزے کے دوران اپنی بیوی کے پستان ،سینہ،چھاتی چوم سکتے ہیں ؟

2۔کیا اپنی بیوی کے ساتھ روزے کی حالت میں بوس و کنار کر سکتے ہیں؟

3۔ روزے کی حالت میں اپنی بیوی کے عضوِ خاص میں انگلی داخل کر سکتے ہیں ؟

برائے مہربانی ان سوالات کے تسلی بخش جوابات دےدیں۔اگر تفصیل سے ہو تو زیادہ بہتر ہو گا ۔

ذیشان خان

جواب:

حدیث مبارک میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

1927 – حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ

صحیح البخاری:ص309 بَابُ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ فَرْجُهَا

ترجمہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ بھی دے لیتے تھے اور ہمبستری بھی فرما لیتے تھے(یعنی بغیر جماع انزال کے )اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت پر سب سےزیادہ کنٹرول کر سکنے والے تھے۔

اس سے معلوم ہوا کہ اپنے اوپر کنٹرول کر سکے تو جماع اور انزال سے بچتے ہوئے میاں بیوی کے آپس میں ایک دوسرے سے ملنے اور بوسہ وغیرہ دینے میں کوئ حرج نہیں ہے۔چناچہ امام محمد بن حسن الشیبانی رحمۃ اللہ علیہ (م 189ھ) فرماتے ہیں:

لا نری بذالک باسا اذا ملک الرجل نفسہ عن غیر ذالک ای الانزال ۔

کتاب الا ثار ص294 تحت رقم 285

ترجمہ:ہمارے نزدیک بیوی کو بوسہ وغیرہ دینے میں کوئ حرج نہیں بشر طیکہ آدمی اپنے اوپر کنٹرول کر کے انزال و جماع سے اپنے آپ کو بچاسکے۔

باقی جہاں تک بیوی کی شرمگاہ میں انگلی ڈالنے کا معاملہ ہے تواگر خشک انگلی ڈالی تو روزہ نہ ٹوٹے گالھذا گنہگار بھی نہ ہوگااور اگر فرج داخل کے اندرتر انگلی داخل کی یا خشک انگلی داخل کر کے نکالی اور پھر داخل کر دی تو ان دونوں صورتوں میں بیوی کا روزہ ٹوٹ جائے گاجس کی قضا اس پر لازم ہوگی نہ کہ کفارہ ۔چناچہ در مختار میں ہے

ادخل اصبعہ الیابستہ فیہ لم یفطر ولو مبتلتہ فسد۔

الدرالمختارمع رد المختار ج 3 ص424 باب ما یفسد الصوم ہا لا یفسدہ

ترجمہ:خشک انگلی کو دبر یا فرج میں داخل کیا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا اور اگر تر تھی تو روزہ ٹوٹ جائےگا۔

نیز چونکہ بیوی کے روزہ ٹوٹنے کا سبب بنا ہے اسلئے گنہگار بھی ہوگااور اگر بیوی نے بھی برضاء و خوشی انگلی داخل کروائ اور روزہ ٹوٹ گیا تو وہ بھی گنہگار ہوگی لھذا دونوں پر تو بہ واستغفار بھی لازم ہے کیونکہ حدیث مبارک میں ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا واقعہ آتا ہےجنھوں نے دورانِ روزہ بیوی سے جماع کرلیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارہ ادا کرنے کا بھی کہااور قضاء روزہ رکھنے کا کہا اور فرمایا استغفراللہ ،اللہ تعالی سے بخشش بھی طلب کر ۔

سنن ابی داؤدص348 باب کفارہ من اتی اھلہ فی رمضان طبع دار السلام ریاض

اس ساری تفصیل سے معلوم ہوا کہ روزے کی حالت میں بیوی سے بوس و کنار درست ہے تاھم انگلی ڈالنے کی مختلف صورتیں ہیں جن میں سے بعض میں روزہ ٹوٹتا ہےاور بعض میں نہیں اور پھر جن میں ٹوٹتابھی ہے ان میں صرف قضاءاور اسغفار لازم ہوتا ہے کفارہ نہیں ۔ واللہ اعلم۔

مولانا عبدالغفار حنفی