QuestionsCategory: ذکر اذکارصلوۃ الحاجۃ سے متعلق
Molana Abid Jamshaid Staff asked 10 months ago

صلاۃالحاجۃ کی بہت ساری مطلب مختلف دعائیں پاک ہیں اب اگر صلاۃ الحاجتہ کی نماز ادا کرنی ہو تو کیا وہ دعا تصور کرکے نماز ادا کرے ۔۔۔ اور کیا بہت ساری جائز حاجات لے کر ایک ساتھ صلاۃ الحاجۃ ادا کر سکتے ہیں؟

1 Answers
Mufti Mahtab Hussain Staff answered 9 months ago

جواب :
دعا کو ذہن میں رکھ کر نماز ادا کرنا ضروری نہیں بلکہ حاجت کی نیت سے دو رکعت نماز نفل کی نیت کر کے دو رکعت نماز ادا کی جائے اس کے بعد ان دعاوں میں سے جو دعا بھی یاد ہو اس کے ذریعہ سے اپنی حاجت مانگنی چاہیے، کئی مقاصد کیلئے ایک مرتبہ صلوٰۃ الحاجۃ پڑھنا درست ہے اسی طرح  جن مقاصد کیلئے پڑھی جا رہی ہے ان مقاصد کو ذہن میں رکھ کر خشوع و خضوع سے نماز و دعا مانگی جائے۔
ثم انہ ان جمع بین عبادات الوسائل فی النیۃ صح کما لو اغتسل لجنابت و عید و جمعۃ اجتمعت ونال ثواب الکل۔
حاشیہ الطحطاوی  صفحہ  216  قدیمی کتب خانہ
ترجمہ: ایک نیت کے ساتھ کی نفلی عبادات کو اکٹھا کرنا جائز ہے جیسا کہ غسل جنابت  عید اور جمعہ کے لیے ایک غسل کرنا تو ایک غسل سے سب کا پورا پورا ثواب مل جاے گا۔
اور مختلف دعاوں  میں سے ایک دعا یہ ہے۔
لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ الْحَلِيْمُ الْکَرِيْمُ، سُبْحَانَ اﷲِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ، الْحَمْدُ للہِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، اَللَّهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِکَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِکَ وَالْغَنِيْمَةَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ وَالسَّلَامَةَ مِنْ کُلِّ إِثْمٍ، أَسْأَلُکَ أَنْ لَا تَدَعَ لِیْ ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ وَلَا حَاجَةً هِیَ لَکَ رِضًا إِلَّا قَضَيْتَهَا لِی.
ابن ماجه، السنن، کتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء فی صلاةِ الحاجة، 2 : 171، 172، رقم : 1384
“اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ برد بار بزرگ ہے بڑے عرش کا مالک، اے اللہ تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، (اے اللہ!) میں تجھ سے تیری رحمت کے ذریعے بخشش کے اسباب، نیکی کی آسانی اور ہر گناہ سے سلامتی چاہتا ہوں، میرے تمام گناہ بخش دے میرے جملہ غم ختم کر دے اور میری ہر وہ حاجت جو تیری رضا مندی کے مطابق ہو میرے لیے  پوری فرما”
واللہ اعلم بالصواب
دار الافتاء مرکز اھل السنۃ والجماعۃ
سرگودھا، پاکستان
تاریخ۔۔13/11/2018