Questionsکیا قبر میں نبی سے بھی سوال ہوتا ہے
Mufti Pirzada Akhound asked 2 months ago

السلام علیکم

حضرت میں انڈیا ممبی سے احمد علی ہوں۔ مجھ سے ایک آدمی نے پوچھا کہ اگر اللہ کے نبی بشر تھے تو کیا قبر میں جانے کے بعد ان کا بھی حساب منکر نکیر نے کیا تھا؟

1 Answers
Mufti Pirzada Akhound answered 2 months ago

الجواب باسم ملھم الصواب
انبیاء کرام علیہم السلام کا بشر ہونا قرآن و سنت سے ثابت ہے:
آیات قرآنیہ:
1: اَکَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًااَنْ اَوْحَیْنَااِلٰی رَجُلٍ مِّنْھُمْ. (یونس:2)
ترجمہ: کیالوگوں کویہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ ہم نے انہی میں سے ایک مرد کے پاس وحی بھیجی۔
2: وَمَااَرْسَلْنَامِنْ قَبْلِکَ اِلَّارِجَالًا نُّوْحِیْ ٓاِلَیْھِمْ مِّنْ اَہْلِ الْقُرَیٰ. (یوسف:109)
ترجمہ: آپ سے پہلے ہم نے جتنے(پیغمبر)بھیجے وہ مردہی تھے کہ جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے(اوروہ)بستیوں کے رہنے والے تھے۔
3: قَالَ سُبْحَانَ رَبِّیْ ھَلْ کُنْتُ اِلَّابَشَرًارَّسُوْلاً. (بنی اسرائیل:93)
ترجمہ: دیجئے سبحان اللہ!میں توآدمی ہوں بھیجاہوا۔
4: قَالَ لَوْکَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰئِکَۃٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَاعَلَیْھِمْ مِّنَ السَّمَآئِ مَلَکًارَّسُوْلًا. (بنی اسرائیل:95)
ترجمہ: دیجئے کہ زمین میں اگر فرشتے مطمئن ہوکرچلتے توہم آسمان سے فرشتے کورسول بناکربھیجتے۔
5: قُلْ اِنَّمَااَنَابَشَرٌمِّثْلُکُمْ یُوْحٰی اِلَیَّ اَنَّمَااِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ. (کہف:110)
ترجمہ: دیجئے کہ میں تمہاری طرح بشرہوں‘ میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے۔
6: وَمَااَرْسَلْنَاقَبْلَکَ اِلَّارِجَالًا نُّوْحِیْ ٓاِلَیْھِمْ. (انبیاء:7)
ترجمہ: نہیں بھیجے ہم نے آپ سے پہلے مگر مرد ہی جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔
احادیثِ مبارکہ:
1: حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ حضوراکرم ﷺ نے فرمایا:
اِنَّمَااَنَابَشَرٌ‘اَنْسٰی کَمَاتَنْسَوْنَ‘ فَذَکِّرُوْنِیْ اِذَانَسِیْتُ. (صحیح بخاری ج1ص58)
ترجمہ:بے شک میں بشرہوں‘ بھول جاتاہوں جیسے تم بھول جاتے ہو۔پس مجھے یاددلاؤجب میں بھول جاؤں۔
2: ام المومنین حضرت سلمہؓ فرماتی ہیں کہ حضوراکرم ﷺ نے اپنے حجرہ مبارک کے دروازے پرجھگڑے کی آواز سنی‘ توآپ ﷺباہرتشریف لے گئے اورفرمایا:
اِنَّمَااَنَابَشَرٌ‘ وَاِنَّہٗ یَاْتِیْنِیَ الْخَصَمُ ‘فَلَعَلَّ بَعْضُکُمْ اَنْ یَّکُوْنَ اَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ‘ فَاَحْسَبُ اَنَّہٗ صَادِقٌ‘ فَاَقْضِیْ لَہٗ بِذٰلِکَ ‘فَمَنْ قَضَیْتُ لَہٗ بِحَقَّ مُسْلِمٍ فَاِنَّمَاہِیَ قِطْعَۃٌ مِّنَ النَّارِفَلْیَاْخُذْھَااَوِلْیَتْرُکْھَا. (صحیح بخاری ج2ص1065کتاب الاحکام)
ترجمہ: بے شک میں بشرہوں اورمیرے پاس مقدمات بھی آتے ہیں۔ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی چرب لسانی کی وجہ سے بات کواس اندازسے پیش کرے کہ میں اسے سچاسمجھ کراس کے حق میں فیصلہ کروں اوروہ اس کامستحق نہ ہو۔خوب یادرکھو! اگراس طرح میں نے فیصلہ کیاتب بھی وہ چیزحلال نہیں ہوگی۔لینے والے کی مرضی اسے لے کراپنے لیے جہنم کاایندھن بنائے یامستحق کے حوالے کرے۔
3: آپﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا:
اَللّٰھُمَّ اِنَّمَااَنَابَشَرٌفَاَیُّ الْمُسْلِمِیْنَ لَعَنْتُہُ اَوْسَبَبْتُہُ فَاجْعَلْہُ لَہٗ زَکٰوۃً وَاَجْرًا. (صحیح مسلم ج2ص323)
ترجمہ:اے اللہ !بے شک میں ایک انسان ہوں ۔جس مسلمان کوناملائم بات کہوں‘ برا بھلا کہوں ‘تواس کے لیے اسے باعث ِپاکیزگی واجربنادے۔
4: حضرت ابوبکرہؓ روایت فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی ﷺ نے نماز پڑھانی شروع کی۔ابھی تکبیرہی کہی تھی کہ آپﷺ نے اشارہ فرمایاکہ اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔پھرگھرتشریف لے گئے اورواپس تشریف لائے توآپ ﷺکے سرسے پانی ٹپک رہاتھا۔آپﷺ نے نمازپڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے توفرمایا:
اِنَّمَااَنَابَشَرٌوَاِنِّیْ کُنْتُ جُنُبًا. (ابوداؤدج1ص43)
ترجمہ:بے شک میں بشرہواورمیں جنبی تھا۔
5: حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضورﷺ سے جوسنتا‘لکھ لیا کرتا‘ تو قریش نے مجھے روکااورکہاکہ تو ہرچیز لکھ لیتاہے جوسنتاہے۔
وَرَسُوْلُ اللّٰہِ بَشَرٌیَتَکَلَّمُ فِی الْغَضَبِ وَالرَّضَآئِ. (ابوداؤد ج2ص568)
ترجمہ: اللہﷺ توبشرہیں ۔غصہ اوررضاء کی حالت میں کلام کرتے ہیں۔
نیز ان صاحب کو یہ عبارتیں بھی دکھائیے جو ان کے اپنے علماء نے لکھی ہیں۔ ان کے متعلق بھی وہ صاحب ”فتویٰ صادر“ فرما دے کہ لوگ پھر کس زمرے میں آتے ہیں؟ چنانچہ بریلوی مسلک کے مشائخ وعلماء نے یوں بھی لکھا ہے :
1: جو شخص انبیاء ورسل کی بشریت کا انکار کرتا ہے وہ ان کے [یعنی احمد رضا خان صاحب اور سید محمد نعیم الدین صاحب کے] نزدیک دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔
(جمال کرم ج1ص737، انوار رضا ص148، انوار کنزالایمان ص851۔)
2: اشرف جلالی صاحب لکھتے ہیں:
بشریت ہمارے نزدیک قطعی عقیدہ ہے اور اس کا انکار کفر ہے ۔ (نورانیت مصطفیٰ سے انکار کیوں؟ ص9)
3: مفتی صدیق ہزاروی صاحب لکھتے ہیں:
انبیاء کرام بشر تھے اور ان کے بشر ہونے کا انکار کفر ہے ۔ (عقائد وعبادات ص12)
4: مولوی نعیم اللہ خان قادری بریلوی لکھتے ہیں:
بشریت ایک قطعی عقیدہ ہے، اس کا انکار کفر ہے اور آپ کی نورانیت کا عقیدہ رکھنا ایک ظنی عقیدہ ہے۔
(سرورِ کونین کی نورونیت و بشریت: ج1 ص381)
5: یہی مولوی نعیم اللہ خان قادری بریلوی مزید لکھتے ہیں:
بشریت انبیاء کے منکر کافر ہیں کیونکہ بشریت انبیاء علیہم السلام ایک قطعی عقیدہ ہے۔
(سرورِ کونین کی نورونیت و بشریت: ج1 ص381)
ان دلائل اور خود بریلوی حضرات کی تصریحات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ انبیاء و رسل علیہم السلام بشر اور انسان تھے۔
رہا اس بریلوی کا شبہ تو اس کا جواب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبر میں سوال وجواب نہ ہونا اس وجہ سے نہیں کہ آپ بشر نہ تھے بلکہ اس کی وجوہات اور ہیں۔ بطور فائدہ پیش کی جاتی ہیں:
1: انبیاء علیہم السلام کا منصب یہ ہے کہ وہ امت کے سامنے دین حق کو پیش کریں، اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، اپنی رسالت اور دین اسلام کی حقانیت کا پرچار کریں۔ گویا نبی کے ذمہ یہ تین چیزیں اپنی امت (غیر نبی) کو پہنچانا ہے۔ نبی جب یہ چیزیں قوت اور دلیل سے دوسروں تک پہنچانے کا ذمہ دار بنتا ہےتو اس کا ان چیزوں پر اپنا اعتقاد لازمی ہے۔ قبر میں اگر نبی سے بھی یہی سوال کیے جائیں جو غیر نبی سے ہوں گے تو یہ اس بات کی دلیل ہو گی کہ- معاذ اللہ- نبی کا خود ان چیزوں پر ایمان نہیں۔ گویا خود مرسل کا امور رسالت پر ایمان جانچا جا رہا ہے اور یہ عقل کے خلاف ہے۔
2: تین سوالات میں سے دوسرا سوال خود نبی کے متعلق ہے جو دلیل ہے کہ ان سوالات کا تعلق اس شخص سے ہو گا جو نبی نہ ہو ورنہ توقف الشئی علی نفسہ لازم آئے گی کہ نبی اپنی نجات کے لیے اپنے نبی ہونے کا اقرار کر رہا ہے جبکہ وہ یہ اقرار خود بلکہ دوسروں تک سے کروا چکا ہے۔
ان وجوہ کی بنا پر انبیاء سے سوالات نہیں ہوں گے۔
واللہ الموفق
ابو محمد شبیر احمد حنفی
23- ستمبر 2018ء