QuestionsCategory: طہارتغسل کا حکم
ارشد asked 6 months ago

السلام علیکم مفتی صاحب!

مجھے احتلام یا  ہمبستری کے بعد بعض اوقات تین تین چار چار گھنٹے تک مذی آتی رہتی ہے۔ میں غسل کرتا ہوں تو پھر بھی مذی جاری رہتی ہے۔ اسی طرح جب میں  غسل کرنے سے پہلے وضو کرتا ہوں تو اس کے بعد بھی چیک کرنے پر مذی کا اثر محسوس ہوتا ہے۔

کیا اس صورت میں میرا غسل ہو جاتا ہے یا نہیں؟ جبکہ میرا وضو بھی قائم نہیں ہوتا۔

1 Answers
Mufti Kefayat-Ullah answered 6 months ago

جواب:
واضح رہے کہ   مذی نکلنے سے غسل واجب نہیں ہوتا بلکہ صرف وضو ہوتا ہے۔
لھذا غسل کرنے کےبعد  مذی آنے سے غسل نہیں ٹوٹے گا  پہلا غسل کافی ہے ، صرف وضو کرلیا جائے۔
بخاری ومسلم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
کُنْتُ رَجُلًا مَذَّائً وَکُنْتُ أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ لِمَکَانِ ابْنَتِهِ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: يَغْسِلُ ذَکَرَهُ وَيَتَوَضَّأُ.
بخاري، الصحيح، 1: 105، رقم: 266
ترجمہ:
مجھے مذی بہت آتی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے براہ راست اس کا حکم معلوم کرنے سے مجھے شرم آتی تھی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں۔ اس لیے میں نے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مذی کا حکم معلوم کریں۔ جب حضرت مقداد نے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کر لو۔فقط واللہ اعلم بالصواب