QuestionsCategory: معاشرتی معاملاتچوری کے ثبوت کے لیے سراغ رساں کتوں کی رہنمائی کا حکم
Abdulrehman imdadi asked 9 months ago

سوال:

(۱): ہمارے گاؤں میں ساٹھ ستر   ہزار روپے کی چوری ہو گئی تو ہم نے کتا منگوا لیا۔ کتا چور کے گھر میں گھس گیا اور جس شخص نے چوری کی تھی  اس کی چارپائی پہ جا کے لیٹ گیا۔  تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

(۲): اور دوسری بات کہ چور نے واقعی چوری کی تھی لیکن وہ چور کہتا ہے کہ میں نہیں مانتا اور چور قسم کھانے کے لئے تیار ہے۔ ایسی جھوٹی قسم کھانے  کے لیے کفارہ ہو گا یا نہیں؟

(۳): اور آگے سے اگر دیکھا جائے تو چور قسم کھا کر دس ہزار روپے سے دس مسکینوں کو کھانا کھلا کر ستر ہزار روپے واپس کرنے سے جان چھڑا لیتا ہے۔ اس کے بارے میں وضاحت عنایت فرمائیں، عین نوازش ہو گی۔

سائل: عبدالرحمٰن امدادی

Question Tags:
1 Answers
Mufti Shabbir Ahmad Staff answered 9 months ago

جواب:
[1]:         جرم دو طریقوں سے ثابت ہو سکتا ہے:
1: مجرم خود اقرار جرم کرے
2: گواہ اس کے جرم کی گواہی دیں
محض سراغ رساں کتوں کے سراغ یا رہنمائی کی بنیاد پر کسی فرد  کو مجرم قرار دینا جائز نہیں کیونکہ کتوں کے سراغ کی حیثیت نہ گواہی کی ہے اور نہ ہی قطعی ثبوت کی۔ زیادہ سے زیادہ ان کی حیثیت ایک قرینہ اور ابتدائی معاونت کی ہے کہ اس کی بنیاد پر تحقیق و تفتیش کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے لیکن  جب تک مجرم خود اقرار نہ کرے یا گواہوں کی گواہی موجود نہ ہو کسی شخص کو محض ایسے سراغ کی بنیاد پر چور قرار دینا جائز نہیں۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
اَلسَّرِقَةُ إنَّمَا تَظْهَرُ بِأَحَدِ الْأَمْرَيْنِ إمَّا بِالْبَيِّنَةِ أو بِالْإِقْرَارِ ․
(فتاویٰ عالمگیری: ج2 ص171 کتاب الحدود الباب الأول فی بيان السرقۃ وما تظهر بہ)
ترجمہ: چوری کا ثبوت دو چیزوں کے ذریعے ہو سکتا ہے؛ گواہوں کے ذریعے یا مجرم کے اقرار کے ذریعے۔
[2، 3]:   جب کتوں کے سراغ کے ذریعے چوری ثابت ہی نہیں ہوتی تو یہ کہنا کہ ”چور نے واقعی چوری کی تھی“ کیسے درست ہو سکتا ہے؟! نیز جب وہ چوری کا اقرار نہیں کرتا اور نہ ہی گواہ موجود ہیں تو اس شخص کا قسم کھانا درست ہے۔ باقی اگر وہ شخص واقعتاً چور ہے تو آخرت میں اس کا مواخذہ ضرور ہو گا۔
واللہ اعلم بالصواب
دار الافتاء
مرکز اھل السنۃ والجماعۃ سرگودھا، پاکستان
2-  ربیع الثانی 1440ھ
10-  دسمبر 2018ء