QuestionsCategory: معاشرتی معاملاتساس بہو کے حقوق
BADERUDDIN AHMED asked 8 months ago

kiya saas ko ye haq hasil hai ke bahu per hukumat kare. baraye karam mudallal jawab enayat farmaye

كيا ساس كو يہ حق حاصل ہے كہ وه بہو پر حكومت كرے برائے مہربانی مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

 

Question Tags:
1 Answers
Mufti Pirzada Akhound answered 7 months ago

الجواب حامداً ومصلیاً
بیوی شوہر کے ماتحت ہوتی ہے اور بیوی پر صرف شوہر کی اطاعت شرعاً لازم ہے، بیوی پر ساس سسر کی اطاعت لازم وضروری نہیں، ان کی اطاعت نہ کرنے پر گناہ نہ ہوگا۔ البتہ بیوی کا یہ اخلاقی فریضہ ہے کہ وہ شوہر کے والدین (اپنے ساس سسر) کو اپنے والدین کے مثل سمجھے اور ان کی تعظیم وتکریم میں کوئی کسر نہ چھوڑے،اور ایک ساتھ رہنے میں  عورت کو زمانے کے حالات کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے  ۔ اور کوشش یہی کرنی چاہیے کہ گھر میں انتشار وتفریق کی نوبت نہ آئے، بہت سی چیزیں شرعاً لازم وضروری نہیں ہیں؛ لیکن ان کا کرنا بہرحال ثواب سے خالی نہیں ایسی چیزوں میں عورت کو کچھ تساہل سے کام لینا چاہیے تاکہ گھر کا نظام برقرار رہے، نیز ساس سسر اور شوہر کو بھی چاہیے کہ وہ ہرایک کی خدمت کرنے پر آپ کو مجبور نہ کریں، شوہر کو یہ حق نہیں کہ وہ بیوی کو اپنے والدین یا بھائی بہنوں کے کام پر مجبور کرے۔اور اگر میاں بیوی ایک دوسرے کے والدین کا ادب واحترام کریں تو دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کا عزت واحترام بڑھتا ہے۔ زندگی کو جنت بنانے کا بہترین طریقہ ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو اپنے والدین کی طرح سمجھیں، کوئی فرق نہ کریں تو ہزاروں مسائل جو آجکل کافی گھروں میں چل رہے ہیں حل ہو سکتے ہیں۔ گھروں میں لڑائی جھگڑوں کی زیادہ وجوہات جو ہماری پاس آتی ہیں، وہ یہی ہیں کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے والدین کو اپنے والدین کی طرح نہیں سمجھتے ہیں، جس کی بنا پر ایک دوسرے میں نفرتیں جنم لیتی ہیں اور یہ معاملات بڑھتے بڑھتے بعض اوقات میاں بیوی میں علیحدگی کا سبب بن جاتے ہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتا٫ مرکز اہل السنت والجماعت
سرگودھا پاکستان
5فروری 2019