QuestionsCategory: معاشرتی معاملاتبامر مجبوری عورت کی نوکری اور طلاق کا مطالبہ کرنا
UMER FAROOQ asked 8 months ago

مفتی صاحب! ایک خاتون ہانگ کانگ میں رہتی ہے۔ وہاں کی نیشنیلٹی حاصل کرنے کے لیے خاوند نے اس خاتون کا نام اور ولدیت بدلی ہوئی ہے. اس کے علاؤہ وہ لوگ وہاں کی گورنمنٹ سے بھی اس خاتون کے ذہنی مریضہ ہونے کا جھوٹ بول کے اس کے نام پہ وظیفہ لیتے ہیں۔ خاوند اپنی کمائی سے زکوٰۃ بھی نہیں دیتا۔ اور ہر جائز ناجائز طریقے سے پیسہ کماتا ہے۔اس سب سے وہ خاتون بہت پریشان ہے اور ذہنی اذیت کا شکار ہے۔ کچھ دن پہلے وہ پاکستان آئی تھی اور اس نے اپنے بھائیوں سے اپنا معاملہ بیان کیا اور علیحدگی کا مطالبہ کیا۔ لیکن اس کے بھائیوں نے اس کا ساتھ نہیں دیا اور اس کو زبردستی واپس بھیج دیا ہے۔ اب وہ خاتون وہاں خود کام کر کے پیسے کمانا چاہتی ہے تاکہ وہ حرام سے بچ جائے اور اپنی حلال کمائی پہ گزر بسر کر سکے۔ اسے ایک ہوٹل میں کام مل رہا ہے جہاں اس نے برتن دھونے ہوں گے۔ لیکن وہ برتن حرام گوشت اور شراب سے آلودہ ہوتے ہیں۔

براہ کرم اس سارے معاملے کو مد نظر رکھ کے درج ذیل سوالوں کے جواب شرعی نقطہ نظر سے عنایت فرمائیں:

1. اس خاتون کا شوہر سے علیحدگی کا مطالبہ کرنا کیسا ہے؟

2. کیا وہ خاتون اپنے شوہر کا حرام ذریعے سے کمایا ہوا پیسہ استعمال کرے تو اس کا گناہ اس پہ ہو گا یا بس شوہر اس کا ذمہ دار ہے؟

3. اگر وہ عورت باہر کام کرے اور اپنے شوہر کے پیسے اور اشیاء استعمال نہ کرے، بس اس کے گھر میں رہے اور اس کی دنیوی ضروریات کا خیال رکھے تو یہ کیسا ہے؟

4. اگر وہ عورت ہوٹل کے حرام اشیاء سے آلودہ برتن دھو کے پیسے کماتی ہے تو کیا یہ اس کے لیے حلال کمائی ہوگی؟

برائے مہربانی جلد جواب ارسال فرمائیے۔