QuestionsCategory: صحابہ واہل بیتصحابیات رضوان اللہ علیھن کا حضور علیہ السلام سے پردہ
عبید asked 2 months ago

کیا صحابیات رضی اللہ عنھن کا حضور علیہ السلام سے پردہ تھا؟

یا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اس حکم  کے سے مستثنی تھے؟

برائے کرم تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔

جزاکم اللہ خیرا

1 Answers
Mufti Shabbir Ahmad Staff answered 2 months ago

جواب:
صحابیات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پردہ کیا کرتی تھیں۔ دلیل یہ حدیث مبارک ہے:
عَنْ عَائِشَةَ  رَضِىَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَوْمَتِ امْرَأَةٌ مِنْ وَرَآءِ سِتْرٍ بِيَدِهَا كِتَابٌ إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَبَضَ النَّبِىُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَقَالَ: “مَا أَدْرِىْ أَ يَدُ رَجُلٍ أَمْ يَدُ امْرَأَةٍ؟”، قَالَتْ:  بَلِ امْرَأَةٌ!  قَالَ: “لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً لَغَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ” يَعْنِىْ بِالْحِنَّاءِ․
( سنن ابی داؤد:ج2 ص220 کتاب الترجل. باب فی الخضاب للنساء)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں کہ ایک عورت کے ہاتھ میں ایک پرچہ تھا، اس نے پرچہ دینے کے لیے پردہ کے پیچھے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہاتھ بڑھایا توآپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ روک لیا اور فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں کہ مرد کا ہاتھ ہےیا عورت کا؟ اس عورت نے کہا کہ ”یہ عورت کاہاتھ ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’اگر توعورت ہوتی تو اپنے ناخنوں کو رنگ لگا لیتی!“ (یعنی مہندی لگا لیتی)
اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ صحابیات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  سے پردہ کرتی تھیں ،اسی لیے توایک عورت نے پردہ کے پیچھے سے پرچہ دینے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ اگر بے پردہ سامنے آتیں توپردہ کی کیا ضرورت تھی؟!
 
واللہ اعلم بالصواب
دار الافتاء،
مرکز اھل السنۃ والجماعۃ، سرگودھا، پاکستان
12-  ربیع الاول 1440ھ
21-  نومبر 2018ء