QuestionsCategory: صحابہ واہل بیتصحابہ و اہل بیت سے متعلق کچھ سوال
Salma asked 2 years ago

I am sunni muslim Alhamdulillah. I have a few questions that my shia friends always asks and they want answers for that. I would be grateful if my questions are answered.

1) Why did Abu bakr(RA) dint give the bagh-e-fidak to Fatima(RA)?
2) Proof that Umar(RA) did not burn the house of Fatima(RA)?
3) Khilafah was given to Ali(RA) at the moment of ghadeer?
4) why did muawiyah(RA) gave khilafah to his son?
5) why did Ayesha(RA) fight against Ali(RA) in jung-e-jamal?

میں سنی مسلمان ہوں، میرے کچھ دوست شیعہ ہیں، ان کی طرف سے کیے گئے کچھ سوالات کے جوابات درکار ہیں۔

  1. حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے باغِ فدک حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کیوں نہیں دیا؟
  2. اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا گھر نہیں جلایا؟
  3. کیا غدیر کے موقع پر خلافت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دے دی گئی تھی؟
  4. حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خلافت اپنے بیٹے کو کیوں دی؟
  5. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جنگ جمل میں حضرت علی کے خلاف کیوں لڑائی کی؟
2 Answers
Mufti Shahid Iqbal answered 1 year ago

جواب:
1۔باغ فدک حضرت فاطمۃالزہرا رضی اللہ عنہا کا حق ہےہی نہیں تھا اس لیےحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نہیں دیا اور دلیل کے طور پر   نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارک ارشاد فرمایا ہے ،،لا نورث ماترکنا صدقۃ ،،
                                                                                                                                                                                                                        مشکوٰۃ المصابیح ج2 ص       550
 ۲۔اگر باغ فدک  حضرت فاطمۃ رضی اللہ عنہا کا حق ہی  تھا تو خلیفہ چہارم سیدنا  علی رضی اللہ عنہ نےاپنے دورخلافت  میں واپس کیوں نہ واپس  لیا  ۔
۳۔شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ ،،منہاج السنۃ ،،میں فرماتے ہیں کہ ،،لانورث ماترکنا،،والی روایت تو حضرت ابوبکر،حضرت عمر ،حضرت عثمان،حضرت علی ،حضرت طلحۃ ،حضرت زبیر ،حضرت سعد،حضرت عبدالرحمان بن عوف،حضرت عباس اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم اجمعین سے صحاح ستہ میں ثابت ہیں۔
                                                                                                                                                                                                                    منہاج السنۃ ج2 ص224۔
اس  بات سے یہ واضح ہو گیا کہ ،،لانورث ماترکنا،، والی روایت کو پہلے سے معلوم تھی۔پھر سوال یہ ہے کہ وراثت کا سوال کیوں کیا؟
جواب:   ۱ ۔بھول گے تھے ۲۔اس روایت کو منقولی چیزوں پر محمول کیا تھا۔
2:
۱۔جن عبارات کا سہارا لیا جاتا ہے ان عبارات میں کہیں بھی نہیں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گھر جلایا تھا بلکہ صرف دھمکی ملتی ہے ۔
۲۔اس واقعہ کوسب سے پہلے نقل کرنے والا پانچویں صدی کا آدمی سلمان بن قیس ہے اور بغیر سندکے نقل کیا ہے  جبکہ اس سے پہلے پانچ صدمیو ں میں کسی نے نقل نہیں کیا ۔
۳۔یہ واقعہ اہل السنۃ والجماعۃ کی مشہور کتب صحاح ستہ میں بھی نہیں ہے اور نہ ہی اہل تشیع کی چار مشہور کتب میں ہے۔
۴۔یہ واقعہ سندا بھی درست نہیں ہے ۔

۱۔غدیر خم کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلافت نہیں دی گئی بلکہ حضرت علی سےدوستی کا اعلان کیا تھا۔
۲۔اگر غدیر خم کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلافت دی گئی ہوتی تو حضور کی مرض وفات میں نماز حضرت علی رضی اللہ عنہ پڑھاتے کیونکہ حضورعلیہ السلام کے بعد خلیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہونا تھا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نمازپڑھتے نہ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں ۔ 

حضرت  معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے یزید کو خلافت کا اہل سمجھتے تھے اور حضرت امیر معاویہ کے سامنے یزید کا فسق واضح بھی نہیں تھاجو کہ بعد میں واضح ہواتھا۔
۲۔حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ میں پہلے بھی جنگ کی نوبت آئی تھی اگر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ یزید کے علاوہ کسی اور کو خلافت دیتے تو بنو امیہ اور قریش کے آپس میں اختلاف پھرسے ہو جا نا تھا اور کسی ایک آدمی پر متفق نہ ہو سکتے اور مسلمانوں کا شیرازہ بکھر جاتااس لیے یزید کو خلافت دی تھی۔
5۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مابین جو جنگ  جمل کی نوبت آئی تھی یہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کی وجہ سے تھی اور یہ رائے کا اختلاف تھا جو بعد میں جنگ کی صورت اختیار کر گی نہ کہ ذاتی عداوت کی وجہ سےوگرنہ جنگ کے اختتام پے جو حضرت عائشہ کو باعزت طریقے خیمے میں لے جا نا اور پھروہاں سے باعزت طریقے  گھر واپس پہچاناکم از کم   یہ نہ ہوتا۔
واللہ الموفق
دارالافتاء 
مرکز اھل السنۃ والجماعۃ سرگودھاپاکستان
19مارچ2019

Mufti Shahid Iqbal answered 1 year ago

جواب:
1۔باغ فدک حضرت فاطمۃالزہرا رضی اللہ عنہا کا حق ہےہی نہیں تھا اس لیےحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نہیں دیا اور دلیل کے طور پر   نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارک ارشاد فرمایا ہے ،،لا نورث ماترکنا صدقۃ ،،
                                                                                                                                                                                                                        مشکوٰۃ المصابیح ج2 ص       550
 ۲۔اگر باغ فدک  حضرت فاطمۃ رضی اللہ عنہا کا حق ہی  تھا تو خلیفہ چہارم سیدنا  علی رضی اللہ عنہ نےاپنے دورخلافت  میں واپس کیوں نہ واپس  لیا  ۔
۳۔شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ ،،منہاج السنۃ ،،میں فرماتے ہیں کہ ،،لانورث ماترکنا،،والی روایت تو حضرت ابوبکر،حضرت عمر ،حضرت عثمان،حضرت علی ،حضرت طلحۃ ،حضرت زبیر ،حضرت سعد،حضرت عبدالرحمان بن عوف،حضرت عباس اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم اجمعین سے صحاح ستہ میں ثابت ہیں۔
                                                                                                                                                                                                                    منہاج السنۃ ج2 ص224۔
اس  بات سے یہ واضح ہو گیا کہ ،،لانورث ماترکنا،، والی روایت کو پہلے سے معلوم تھی۔پھر سوال یہ ہے کہ وراثت کا سوال کیوں کیا؟
جواب:   ۱ ۔بھول گے تھے ۲۔اس روایت کو منقولی چیزوں پر محمول کیا تھا۔
2:
۱۔جن عبارات کا سہارا لیا جاتا ہے ان عبارات میں کہیں بھی نہیں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گھر جلایا تھا بلکہ صرف دھمکی ملتی ہے ۔
۲۔اس واقعہ کوسب سے پہلے نقل کرنے والا پانچویں صدی کا آدمی سلمان بن قیس ہے اور بغیر سندکے نقل کیا ہے  جبکہ اس سے پہلے پانچ صدمیو ں میں کسی نے نقل نہیں کیا ۔
۳۔یہ واقعہ اہل السنۃ والجماعۃ کی مشہور کتب صحاح ستہ میں بھی نہیں ہے اور نہ ہی اہل تشیع کی چار مشہور کتب میں ہے۔
۴۔یہ واقعہ سندا بھی درست نہیں ہے ۔

۱۔غدیر خم کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلافت نہیں دی گئی بلکہ حضرت علی سےدوستی کا اعلان کیا تھا۔
۲۔اگر غدیر خم کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلافت دی گئی ہوتی تو حضور کی مرض وفات میں نماز حضرت علی رضی اللہ عنہ پڑھاتے کیونکہ حضورعلیہ السلام کے بعد خلیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہونا تھا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نمازپڑھتے نہ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں ۔ 

حضرت  معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے یزید کو خلافت کا اہل سمجھتے تھے اور حضرت امیر معاویہ کے سامنے یزید کا فسق واضح بھی نہیں تھاجو کہ بعد میں واضح ہواتھا۔
۲۔حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ میں پہلے بھی جنگ کی نوبت آئی تھی اگر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ یزید کے علاوہ کسی اور کو خلافت دیتے تو بنو امیہ اور قریش کے آپس میں اختلاف پھرسے ہو جا نا تھا اور کسی ایک آدمی پر متفق نہ ہو سکتے اور مسلمانوں کا شیرازہ بکھر جاتااس لیے یزید کو خلافت دی تھی۔
5۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مابین جو جنگ  جمل کی نوبت آئی تھی یہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کی وجہ سے تھی اور یہ رائے کا اختلاف تھا جو بعد میں جنگ کی صورت اختیار کر گی نہ کہ ذاتی عداوت کی وجہ سےوگرنہ جنگ کے اختتام پے جو حضرت عائشہ کو باعزت طریقے خیمے میں لے جا نا اور پھروہاں سے باعزت طریقے  گھر واپس پہچاناکم از کم   یہ نہ ہوتا۔
واللہ الموفق
دارالافتاء 
مرکز اھل السنۃ والجماعۃ سرگودھاپاکستان
19مارچ2019