QuestionsCategory: صحابہ واہل بیتسماع موتی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہھم اجمعین
عطاء اللہ asked 1 year ago

برائے کرم ان صحابہ کے نام، کتاب، باب اور حدیث نمبر جو صحابہ سماع الموتی فی القبر کے قائل تھے اور عذاب قبر کا واقعہ جو اماں عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے اس بارے میں اگاہ فرمائیں۔

1 Answers
Mufti Shahid Iqbal answered 11 months ago

 
جواب:
                                                                             وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین جو عام سماع الموتی فی القبر  کے قائل تھے ان کے نام درج ذیل ہیں ۔
۱۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ۲۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ۳۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ۴۔حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ۵۔حضرت ابوطلحۃ رضی اللہ عنہ ۶۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ      
صحیح البخاری ج2ص556،باب قتل ابی جھل،حدیث نمبر3976۔صحیح مسلم ج2ص387،باب عرض مقعدالمیت من الجنۃوالنارعلیہ واثبات عذاب القبر والتعوذ منہ،حدیث نمبر7222۔
2۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عذاب قبر کے با رے میں مروی حدیث صحیح مسلم میں موجود ہے۔
عن عائشۃ قالت دخلت علی عجوذ ان من عجذ یھودالمدینۃ فقالتا:ان اھل القبور یعذبون فی قبورھم ،قالت فکذبتھما ،ولم ان عجوذین من عجوذ یھودا لمدینۃ دخلتا علی،فزعمتا ان اھل القبور یعذبون فی قبورھم،فقال صدقتاانھم یعذبون عذابا تسمعہ البھائم
صحیح مسلم ج1،ص21ً7 ،باب استحباب التعوذ من عذاب القبروعذاب جھنم۔۔۔
ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے پاس یہود مدینہ کی دوبوڑھی عورتیں آئیں  اور انہوں نے کہا کہ قبر والوں کو عذاب دیا جاتا ہے میں نے ان کی بات کی تصدیق کرنا اچھا نہ سمجھااور ان کو جھٹلادیا۔پس جب وہ چلی گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کی  کہ یا رسول اللہ “یہود مدینہ کی دوبوڑھی عورتیں میرے پاس آئیں تھیں ۔ان کاگمان یہ تھا کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے[کیا واقعتا عذاب دیا جاتا ہے ]تو آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ وہ سچ کہتی ہیں۔کہ بیشک قبر والوں کو قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے جسے جانور وغیرہ بھی سنتے ہیں۔
اس روایت میں آپ علیہ السلام کا ان عورتوں کی بات کی تصدیق کرنا اور اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا سکوت اختیار کرنا  اس بات کی واضح دلیل ہے کی اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عذاب قبر کی قائل تھیں اور اس زمین والی قبر میں عذاب کی قائل تھیں۔
واللہ الموفق
دارالافتاء 
مرکزاھل السنۃوالجماعۃ سرگودھاپاکستان
3ستمبر2019