QuestionsCategory: صحابہ واہل بیتحضور پاک علیہ السلام کا عورتوں سے پردہ
عبید asked 7 months ago

سوالات:

1: کیا نبی علیہ السلام کا عورتوں سے پردہ تھا؟

 

2:  اگر پردہ تھا تو وہ صحابیات کیسے کہلائیں؟ کیونکہ صحابی اسے کہتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ددیکھے، یہ خواتین تو پردے میں تھیں، نہ انہوں نے آپ علیہ السلام کو دیکھا اور نہ آپ علیہ السلام نے ان کو تو یہ صحابیات کیسے کہلائیں؟

رہنمائی فرمائیں

1 Answers
Mufti Shabbir Ahmad Staff answered 7 months ago

جوابات:
1: جی ہاں صحابیات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پردہ کیا کرتی تھیں۔ دلیل یہ حدیث مبارک ہے:
عَنْ عَائِشَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَوْمَتِ امْرَأَةٌ مِنْ وَرَآءِ سِتْرٍ بِيَدِهَا كِتَابٌ إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَبَضَ النَّبِىُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَقَالَ: “مَا أَدْرِىْ أَ يَدُ رَجُلٍ أَمْ يَدُ امْرَأَةٍ؟”، قَالَتْ: بَلِ امْرَأَةٌ! قَالَ: “لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً لَغَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ” يَعْنِىْ بِالْحِنَّاءِ․
( سنن ابی داؤد:ج2 ص220 کتاب الترجل. باب فی الخضاب للنساء)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت کے ہاتھ میں ایک پرچہ تھا، اس نے پرچہ دینے کے لیے پردہ کے پیچھے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہاتھ بڑھایا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ روک لیا اور فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں کہ مرد کا ہاتھ ہےیا عورت کا؟ اس عورت نے کہا کہ ”یہ عورت کاہاتھ ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’اگر توعورت ہوتی تو اپنے ناخنوں کو رنگ لگا لیتی!“ (یعنی مہندی لگا لیتی)
اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ صحابیات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پردہ کرتی تھیں ،اسی لیے توایک عورت نے پردہ کے پیچھے سے پرچہ دینے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ اگر بے پردہ سامنے آتیں توپردہ کی کیا ضرورت تھی؟!
2: صحابی کی تعریف سمجھ لی جائے تو یہ اشکال ختم ہو جائے گا۔ حافظ ابو الفضل شہاب الدین احمد بن علی ابن حجر عسقلانی الشافعی (ت852ھ) نے صحابی کی تعریف یہ کی ہے:
وهو مَن لَقِيَ النبيَّ صلى اللهُ عليه وسلّم مؤمناً به، ومات على الإسلام.
(نزھۃ النظر شرح نخبۃ الفکر لاحمد بن علی بن حجر العسقلانی متوفیٰ 852ھ: ص133)
ترجمہ: صحابی اس شخص کو کہتے ہیں جو حالت ایمان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور حالت اسلام ہی پر فوت ہو جائے۔
واضح رہے کہ یہاں صحابی کی تعریف میں لفظ ”لقاء“ ہے جس سے مراد عمومی معنی یعنی “ملاقات” ہے، اس کے لیے آنکھوں سے دیکھنا، بات کرنا اور سننا لازمی نہیں۔ لہذا اگر کوئی شخص کسی اجتماع یا کسی محفل میں آ جائے تو وہ بھی ”لقاء“ میں شامل ہو کر صحابی کہلائے گا۔ مؤمن خواتین اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پردہ کیا کرتی تھیں لیکن چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل میں حاضر ہو جاتیں تھیں اس لیے صحابیات کہلائیں گی۔
واللہ اعلم بالصواب
دار الافتاء،
مرکز اھل السنۃ والجماعۃ، سرگودھا، پاکستان
11 ربیع الاول 1440ھ
20 نومبر 2018ء