QuestionsCategory: متفرق سوالاتزائد انگلی کٹوانے کا حکم
Mufti Shabbir Ahmad Staff asked 2 weeks ago

میرا 20 دن کا بیٹا ہے جس کی ایک زائد انگلی انگوٹھے کے نیچے ہے جس کے اوپر نیچے ہونے سے، مثال کے طور پر اگر کپڑوں میں اڑ جائے تو اس کو تکلیف ہوتی ہے۔ اس کو آپریشن کے ذریعے  کٹوانے کے بارے میں کیا حکم ہے؟  جزاک اللہ خیراً

سائل:  محمد علی،  ابو ظہبی

1 Answers
Mufti Shabbir Ahmad Staff answered 2 weeks ago

اس زائد انگلی کو کٹوانے کی گنجائش ہے۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

إذَا أَرَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَقْطَعَ إصْبَعًا زَائِدَةً أَوْ شَيْئًا آخَرَ قَالَ نُصَيْرٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالٰى: إنْ كَانَ الْغَالِبُ عَلٰى مَنْ قَطَعَ مِثْلَ ذٰلِكَ الْهَلَاكَ فَإِنَّهُ لَا يَفْعَلُ وَإِنْ كَانَ الْغَالِبُ هُوَ النَّجَاةُ فَهُوَ فِيْ سَعَةٍ مِّنْ ذٰلِكَ.

(فتاویٰ عالمگیری: ج5 ص360 کتاب الکراہیۃ. أَلْبَابُ الْحَادِي وَالْعِشْرُونَ فِيمَا يَسَعُ من جِرَاحَاتِ بَنِي آدَمَ)

ترجمہ: اگر کوئی شخص زائد انگلی یا زائد عضو کاٹنا چاہے تو شیخ نصیر (بن یحییٰ متوفیٰ 268ھ) رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دیکھا جائے گا کہ  اس قسم کی چیزیں کاٹنے سے انسان اکثر طور پر ہلاک ہو جاتا ہو  تو پھر یہ چیزیں نہیں کاٹیں گے اور اگر اکثر طور انسان بچ جاتا ہو تو یہ چیزیں کاٹنے کی گنجائش ہو گی۔
واللہ اعلم بالصواب
محمد الیاس گھمن