QuestionsCategory: نکاح و طلاق“میں آپ کا شوہر نہیں ہوں” کہنے کا حکم
زید علی asked 6 months ago

میں نے اپنی بیوی سے کسی بات  پر  دو مرتبہ یہ کہا کہ ”میں آپ کا شوہر نہیں“ اس وقت ہلکا سا غصہ تھا اور ذہن  میں طلاق کی نیت  بھی نہیں تھی۔ ابھی رخصتی نہیں ہوئی، صرف نکاح  ہوا ہے ۔ اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے

1 Answers
Mufti Shabbir Ahmad Staff answered 6 months ago

جواب:
”میں آپ کا شوہر نہیں“ یہ کنایہ الفاظ ہیں۔ اگر واقعتاً آپ کی نیت طلاق کی نہیں تھی تو طلاق واقع نہیں ہوئی۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے؛
وَلَوْ قَالَ لِامْرَأَتِهٖ: لَسْتِ لِيْ بِامْرَأَةٍ أَوْ قَالَ لَهَا:  مَا أَنَا بِزَوْجِكِ……  وَإِنْ قَالَ: نَوَيْتُ الطَّلَاقَ يَقَعُ الطَّلَاقُ.
(فتاویٰ عالمگیری: ج1 ص411 کتاب الطلاق. الفصل الخامس فی الکنایات)
ترجمہ:  اگر خاوند نے اپنی بیوی کو کہا: ”تو میری بیوی نہیں ہے“ یا یہ کہا: ”میں تیرا خاوند نہیں ہوں“۔ اگر خاوند  کی نیت ان الفاظ سے طلاق کی ہو تو طلاق واقع ہو جائے گی (ورنہ نہیں)
 واللہ اعلم الصواب
دار الافتاء مرکز اھل السنۃ الجماعۃ سرگودھا
23- نومبر 2019ء