QuestionsCategory: نکاح و طلاقمیاں بیوی میں نفرت عروج پر ہو تو مصالحت کیسے کی جائے؟
Jamshed Akbar Afridi asked 7 months ago

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ،
ایک شادی کو 10 سال ہوچکے ہیں اور میاں اور بیوی کے درمیان محبت کا رشتہ قائم ہونا تو دور کی بات ہے، دونوں ایک دوسرے سے بے حد نفرت کرتے ہیں۔ رشتہ داروں اور دوستوں نے اس عرصے میں بہت کوششیں کیں لیکن ان کا ازدواجی رشتہ خوشگوار نہ ہو سکا، انکے 3 بچے بھی ہیں، نہ شوہر مزید اپنی بیوی کے ساتھ رہنا چاہتا ہے اور نہ ہی اسکی بیوی اسکے ساتھ مزید رہنا چاہتی ہے، دونوں طلاق کے ذریعے ایک دوسرے سے الگ ہونا چاھتے ہیں لیکن ان کو اپنے بچوں کا اور طلاق کے بعد پیش آنے والے نتائج کا خیال آجاتا ہے، خاوند ڈرتا ہے کہ بچوں کو خود سے دور کر سکتا ہے نہ ان کی ماں سے اور بیوی ڈرتی ہے کہ اگر طلاق ہوئی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کا شوہر دوسری شادی کر لے اور بچے اسی کے پاس رہ جائیں۔
تو اگر “مصلحتا” وہ خاوند اور بیوی آپس میں ایک دوسرے سے اس طرح مصالحت کر لیں کہ شوہر بیوی کو طلاق نہ دے بلکہ اپنے ہی نکاح میں رکھے تاکہ بیوی کے لئے شوہر کے گھر رہنا جائز رہے، اور بیوی اپنی رضامندی سے شوہر کو اپنا حق زوجیت معاف کر دے، اور شوہر اپنی بیوی کو اسکی ذات کے لئے اور اسکے بچوں کے لئے بدستور خرچہ دیتا رہے، اور اگر بالفرض شوہر دوسری شادی کر بھی لے تو بیوی اپنی باری کا مطالبہ نہ کرے کیونکہ اپنا حق زوجیت وہ پہلے ہی معاف کر چکی ہوگی۔
تو کیا ایسی مصالحت باہمی رضامندی سے جائز ہوگی۔؟
اور اگر جائز نہیں ہے، تو آپ اس کا کیا حل تجویز فرماتے ہیں؟
جزاکم اللہ خیرا.

1 Answers
Mufti Kefayat-Ullah answered 6 months ago

جواب:
دونوں کی رضا مندی سے ایسی مصالحت کرنا درست ہے اور بہتر بھی یہی ہے کہ طلاق دینے کے بجائے ایسی صلح کر لینی چاہئے تا کہ دونوں اپنی اپنی جگہ خوش رہیں ، لیکن عورت کو یہ حق حاصل رہے گا کہ وہ عورت دوبارہ اپنی باری کا مطالبہ کر سکتی ہے۔فقط واللہ اعلم بالصواب