QuestionsCategory: نکاح و طلاقتین بار طلاق دینے سے طلاق کا حکم
MUHAMMAD Adil asked 2 months ago

تین طلاق

السلام علیکم

میرا تعلق پاکستان خیبر پختونخواہ سے اور میں روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک میں ہوتا ہوں شادی کے دو ماہ بعد چھٹی پوری ہونے پر بیوی کی رضامندی کے ساتھ واپس پردیس آ گیا اور شادی کے بعد ہم 2 ماہ یا اس سے کم عرصہ ایک ساتھ رہے جو کہ عام نارمل وقت گزارہ ہنسی خوشی کے ساتھ اس دوران اللہ نے ہمیں نعمت یا رحمت کی امید بھی دلائی جو کہ بہت خوشی کی بات تھی اور ایک مطمئن ازدواجی زندگی کی شروعات تھی مجھے پردیس آئے دوسرا دن تھا مجھے بیوی نے ذہنی اذیت دینا شروع کر دی کبھی ساتھ لے جانے کی ڈیمانڈ کبھی میرے یعنی شوہر کے بغیر دل نہ لگنے کے بہانے لڑائی جھگڑا اور رونا دھونا اور کبھی بے وجہ ضرورت سے زیادہ رقم کی ڈیمانڈ مجھ سے ایک ہفتہ کی اجازت لی میکے رہنے کی اور  اڑھائی ہفتے گزارنے کے بعد گھر گئی اور صرف دو دن گھر رہی اور بنا بتائے کسی سے اجازت لئے بنا ساس سسر شوہر کے گھر سے قیمتی زیور جو کہ میری طرف کا تھا لے کر بھاگ گئی اور بھاگنے کی وجہ ایک دن پہلے اسکی شادی کے پہلے کی زندگی کے بارے میں ایسی گفتگو سنی گئی جو کی کوئی بھی شوہر غیرت مند مسلمان ہر گز قبول نہ کرے اور بات گھر کے کسی فرد نے سنی جو حقیقی رشتہ تھا شوہر کی طرف سے بھائی بہن کوئی بھی اور اس نے اصلاح کے لئے کچھ پابندیاں عائد کیں جو کہ شرعا درست تھیں اس پہ عمل کر کے وہ اپنی عزت اور رشتہ دونوں بچا سکتی تھی بات آگے بڑھی اور جرگہ کی صورت میں بھی حل نہ ہوئی وہ خلع کے لئے عدالت گئی اور واپس لے لیا خود معافی مانگ کے گھر آئی پھر بنا بتائے چلی گئی یہ سلسلہ متواتر 3 سے 4 بار دہرایا گیا میں پردیس سے اس کی خاطر 3 ماہ بعد چھٹی لے کر اس کے مشورے سے آیا کہ مل کر معاملات طے پائیں گے اور مجھ سے وعدہ کیا کہ میں اب تمھارا ساتھ دونگی میں اس کو لینے گیا تو نہیں آئی کئی فون کالز لواحقین کو اور معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی آخر ایک دن تہہ پایا 14 دن بعد کہ کل بیٹھ کہ اس مسئلے کا حل نکالا جائے گا اور اسے میرے ساتھ بھیج دیا جائے گا پھر وہ دن آنے پر نئے بہانے بنائے گئے اور کال پر انکار کی صورت میں شدید غصے کی حالت میں کچھ سوچے سمجھے بنا

3 بار طلاق کے الفاظ ادا کر دئے۔

اوپر ایک بات بیان کرنا بھول گیا کے اسنے حمل بھی ضائع کر دیا تھا یا ہو گیا تھا واللہ اعلم۔

اسکے بعد اسنے کہا کہ میں نے کال پر صرف ایک بار سنا طلاق کا لفظ اور ہم نے غیر مقلد مفتی کے کہنے پہ رجوع کیا اور جب کہ معاشرے میں یہ بات عام ہو چکی ہے کہ طلاق واقع ہو چکی ہے کیا ہمارا تعلق باقی ہے یا نکاح فاسد ہو چکا ہے رہنمائی فرمائی جائے۔

1 Answers
Mufti Muhammad Riaz Staff answered 2 months ago

الجواب حامدا ومصلیا ومسلماً
تین بار طلاق کا لفظ ادا کرنے سے تینوں طلاقیں واقع ہوچکی  ہیں یہ عورت  مغلظہ بائنہ ہوکر آپ پر حرام ہو چکی ہے ،آپ کا  اس سے  دوبارہ نکاح بھی نہیں ہو سکتا   جب تک کہ حلالہ شرعی  نہ ہوجائے  ۔
عدت گزارنے کے بعد یہ عورت آزاد ہے آگے اپنی مرضی  سے جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے ۔
آپ نے  جو غیر مقلد  مفتی کے کہنے پر رجوع کیا ہے  یہ رجوع غلط  اور شریعت مطہرہ کے بالکل خلاف ہے   آپ کا اس عورت کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں رہا، فوراً جدائی اختیار کریں ۔ فقط واللہ اعلم بالصوا ب
دارالافتاء
مرکزاھل السنۃ والجماعۃ
سرگودھا پاکستان
30اپریل 2020