QuestionsCategory: نکاح و طلاقرضاعی بہن سے نکاح
محمد ابو طالب asked 2 years ago

اگر کسی بچے نے کبھی بھی اپنی مامی سے دودھ پی لیا تو کیا اس بچے پر تمام مامو زاد بہنیں حرام ہے؟

1 Answers
Mufti Pirzada Akhound answered 1 year ago

الجواب حامدا ومصلیا
ہر وہ عورت جو کسی بچہ یا بچی کو دودھ پلائے تو وہ عورت اس کی رضاعی ماں کہلاتی ہے اور اس عورت کی اولاد اس بچہ یا بچی کے رضاعی بھائی وبہن ہوتے ہیں۔ جس طرح حقیقی بہن بھائی سے نکاح کرنا حرام ہے اسی طرح رضاعی بہن بھائی سے بھی نکاح کرنا حرام ہے ۔
لمافی القرآن الکریم (النساء:۲۳):حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَاَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الاَخِ وَبَنَاتُ الاُخْتِ وَاُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِيْ أَرْضَعْنَكُمْ وَاَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ۔الآیۃ۔
وفی مشکوۃ المصابیح ص۲۷۳باب المحرمات:
عن عائشۃ رضی الله عنھا قالت قال رسول الله ﷺ یحرم من الرضاعۃ مایحرم من الولادۃ
رواہ البخاری۔
وفی الھندیۃ (۳۴۳/۱) کتاب الرضاع: يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا ۔
وفی الدرالمختار(۲۱۷/۳)(باب الرضاع): ( ولا ) حل ( بين الرضيعة وولد مرضعتها ) أي التي أرضعتها ( وولد ولدها ) لأنه ولد الأخ۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء مرکز اھل السنۃ والجماعۃ سرگودھا پاکستان
4جولای 2019