QuestionsCategory: نکاح و طلاقایک طرف باپ بیٹا ہوں اور دوسری طرف ماں بیٹی ہوں تو نکاح کا حکم
زینب بی بی asked 10 months ago

[۱]:         زوج اور زوجہ ہیں۔ زوج کی ماں وفات پا چکی ہیں اور زوجہ کا والد وفات پا چکا ہے۔ اب اس آدمی یعنی زوج کا والد زوجہ کی ماں سے نکاح کر سکتا ہے؟
[۲]:        ایک عورت بیوہ ہو چکی ہےاور اس کی صرف ایک بیٹی ہے۔ ایک آدمی کی بیوی مر چکی ہے اور اس بیوی سے ایک بیٹا ہے۔ تو اب یہ دونوں مرد عورت نکاح کریں تو اِن کی جو یہ مذکورہ اولاد ہے ان کا آپس میں نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں؟

1 Answers
Mufti Shabbir Ahmad Staff answered 10 months ago

جواب:
دونوں سوالات کا حاصل یہ ہے  کہ ایک طرف باپ اور بیٹا ہیں اور دوسری طرف سے ماں اور بیٹی ہیں، کیا  آدمی کا نکاح عورت سے اور آدمی کے بیٹے کا نکاح اس عورت کی لڑکی سے  ہو سکتا ہے یا نہیں؟ جواب یہ ہے کہ اس طرح نکاح کرنا جائز ہے۔
علامہ کمال الدین محمد بن عبد الواحد الحنفی المعروف ابن الہمام (ت861ھ) فرماتے ہیں:
وَلَا بَأْسَ أَنْ يَتَزَوَّجَ الرَّجُلُ امْرَأَةً وَيَتَزَوَّجَ ابْنُهُ أُمَّهَا أوْ بِنْتَهَا لِأَنَّهُ لَا مَانِعَ. وَقَدْ تَزَوَّجَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَنَفِيَّةِ امْرَأَةً وَزَوَّجَ ابْنَهُ بِنْتَهَا.
(فتح القدیر لابن الہمام: ج3 ص210 کتاب النکاح  فصل فی المحرمات)
ترجمہ:  اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ ایک شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور اپنے بیٹے کا نکاح اس عورت کی ماں یا اس کی بیٹی سے کر دے کیو نکہ اس میں کوئی مانع نہیں۔ حضرت محمد بن الحنفیہ رحمہ اللہ نے بھی  ایسا کیا تھا کہ ایک عورت سے خود نکاح کیا تھا اور اپنے بیٹے کا نکاح اس عورت کی بیٹی سے کر دیا تھا۔
واللہ اعلم الصواب
دار الافتاء مرکز اھل السنۃ الجماعۃ سرگودھا
23- نومبر 2019ء