QuestionsCategory: خواتینمستحاضہ عورت کے لیے نماز کاحکم
Mufti Pirzada Akhound asked 1 week ago

سوال:

ایک عورت کو  حیض آیا اس کے بعد حیض ختم ہو گیا اس  عورت نے غسل کر لیا پھر دس دن بعد دوبارہ حیض آیا، نیز مہینہ میں دو تین بار آتا ہے۔

 کیا عورت اس حال میں نماز پڑھ سکتی ہے ؟

طیب خان

2 Answers
Mufti Pirzada Akhound answered 1 week ago

الجواب حامداً ومصلیاً
اگرحیض دس دن پر اور نفاس چالیس دن پربندہوگیا، اور بندش کے بعد ایک دودن کے وقفہ سے پھر جاری ہوگیا تو یہ وقفہ بھی بحکم جریان دم کے ہے، پس یوں سمجھاجائے گا کہ حیض دن سے زیادہ آیا اور نفاس چالیس دن سے زیادہ آیا، اور اس کا حکم یہ ہے کہ اگر اس عورت کی عادت حیض ونفاس میں پہلے سے معلوم ہے تو ایام عادت حیض ونفاس ہیں اور عادت سے زیادہ جتنے ایام ہیں وہ سب استخاضہ ہیں، پس عادت سے زائد ایام میں اگر کسی دن میں بوجہ خون آنے کے نماز نہ پڑھی ہو توا س کی قضا واجب ہے البتہ اگر دس دن حیض کے اور چالیس دن نفاس کے بعد پندرہ دن خون بند رہے تو اب اس وقفہ کوبحکم جریان دم شمار نہ کیاجائے گا بلکہ یہ دوسرا خون شمار ہوگا، پس اگر وہ حیض بن سکے مثلاً تین دن کا مل خون آیا تو اس کو دوسرا حیض شمار کیاجائے گا،
ففی الرسالۃ المذکورۃ لوعاد الدم بطل الحکم بطھارتھا کانھا لم تطھر قال فی التاتارخانیۃ وھذا اذا عاد فی العشرۃ ولم یتجاوزھا وطھرت بعد ذلک خمسۃ عشر یوماً فلوتجاوزھا او نقص الطھر عن ذٰلک فالعشرۃ حیض لو مبتداۃ والا فایام عادتھا اھ ( ص۹۳)
قولہ والزائد علی اکثرہ فی حق المبتدأۃ ، اما المعتادۃ فما زاد علی عادتہا ویجاوز العشرۃ فی الحیض والا ربعین فی النفاس یکون استحاضۃ ۔(رد المحتار ۱/ ۲۸۵)
وفی الہندیۃ : لو رأت الدم بعد اکثر الحیض والنفاس فی اقل مدۃ الطہر فما رأت بعد الاکثر ان کانت مبتدأۃ وبعد العادۃ ان کانت معتادۃ استحاضۃ وفی ص۴۰واذا جاوز الاربعین ولہا عادۃ فی النفاس ردت الی ایام عادتہا ۔(فتاوی ہندیہ ۱/۳۷)
واللہ تعالیٰ اعلم
مفتی پیرزادہ اخوند

Mufti Pirzada Akhound answered 1 week ago

الجواب حامداً ومصلیاً
اگرحیض دس دن پر اور نفاس چالیس دن پربندہوگیا، اور بندش کے بعد ایک دودن کے وقفہ سے پھر جاری ہوگیا تو یہ وقفہ بھی بحکم جریان دم کے ہے، پس یوں سمجھاجائے گا کہ حیض دن سے زیادہ آیا اور نفاس چالیس دن سے زیادہ آیا، اور اس کا حکم یہ ہے کہ اگر اس عورت کی عادت حیض ونفاس میں پہلے سے معلوم ہے تو ایام عادت حیض ونفاس ہیں اور عادت سے زیادہ جتنے ایام ہیں وہ سب استخاضہ ہیں، پس عادت سے زائد ایام میں اگر کسی دن میں بوجہ خون آنے کے نماز نہ پڑھی ہو توا س کی قضا واجب ہے البتہ اگر دس دن حیض کے اور چالیس دن نفاس کے بعد پندرہ دن خون بند رہے تو اب اس وقفہ کوبحکم جریان دم شمار نہ کیاجائے گا بلکہ یہ دوسرا خون شمار ہوگا، پس اگر وہ حیض بن سکے مثلاً تین دن کا مل خون آیا تو اس کو دوسرا حیض شمار کیاجائے گا،
ففی الرسالۃ المذکورۃ لوعاد الدم بطل الحکم بطھارتھا کانھا لم تطھر قال فی التاتارخانیۃ وھذا اذا عاد فی العشرۃ ولم یتجاوزھا وطھرت بعد ذلک خمسۃ عشر یوماً فلوتجاوزھا او نقص الطھر عن ذٰلک فالعشرۃ حیض لو مبتداۃ والا فایام عادتھا اھ ( ص۹۳)
قولہ والزائد علی اکثرہ فی حق المبتدأۃ ، اما المعتادۃ فما زاد علی عادتہا ویجاوز العشرۃ فی الحیض والا ربعین فی النفاس یکون استحاضۃ ۔(رد المحتار ۱/ ۲۸۵)
وفی الہندیۃ : لو رأت الدم بعد اکثر الحیض والنفاس فی اقل مدۃ الطہر فما رأت بعد الاکثر ان کانت مبتدأۃ وبعد العادۃ ان کانت معتادۃ استحاضۃ وفی ص۴۰واذا جاوز الاربعین ولہا عادۃ فی النفاس ردت الی ایام عادتہا ۔(فتاوی ہندیہ ۱/۳۷)
واللہ تعالیٰ اعلم
مفتی پیرزادہ اخوند