QuestionsCategory: خواتینعورت کی آدھی گواہی
Omar asked 6 months ago

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

حضرت مفتی صاحب!

ایک بندہ یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ عورت کی گواہی صرف لین دین کے معاملے میں ہی مرد کی گواہی سے آدھی ہے، باقی معاملات میں اس کی گواہی مرد کے برابر ہے اور یہ بات قرآن سے ثابت ہے۔

حضرت!  کیا اس شخص کا دعوی ٹھیک ہے؟ اگر غلط ہے تو وہ شخص یہ بھی کہتا ہے کہ صرف قرآن سے ثابت کرو کہ میں غلط ہوں۔ اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا