QuestionsCategory: خواتینعورت کا پردہ کرنا
عبید asked 2 years ago

جس طرح آپ حضرات نے فرمایا کے حدیث سے ثابت ہے کہ صحابیات رضی اللہ عنھن حضور علیہ السلام سے پردہ کرتی تھیں۔۔۔۔

سوال ہے کہ صحابی اسے کہتے ہیں جس نے ایمان کی حالت میں حضور کو دیکھا ہو یا صحبت میں رہے ہوں۔۔۔

جبکہ صحابیات کے لئے یہ دونوں ممکن نہیں تھا تو صحابیات کیسے کہلائیں؟

اس لئے کہ جس طرح مردوں کو نا محرم عورتوں کو دیکھنے کی اجازت نہیں ہے اسی طرح عورتوں کو بھی  نامحرم مرد کو دیکھنے کی اجازت نہیں ہے

 جس طرح آپ علیہ السلام نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا تھا جس کا مفہوم ہے کہ عبداللہ ابن ام مکتوم تشریف لائے ہیں آپ پردہ کرلیں اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا تھا کہ وہ نابینا ہیں دیکھ نھیں سکتے تو آپ نے فرمایا کہ تم تو دیکھ رہی ہو (او کما قال علیہ السلام)

1 Answers
Mufti Shabbir Ahmad Staff answered 2 years ago

جواب:
صحابی کی راجح تعریف حافظ ابو الفضل شہاب الدین احمد بن علی ابن حجر عسقلانی  الشافعی (ت852ھ) نے یہ کی ہے:
وهو مَن لَقِيَ النبيَّ صلى اللهُ عليه وسلّم مؤمناً به، ومات على الإسلام.
(نزھۃ النظر شرح نخبۃ الفکر: ص133)
ترجمہ: صحابی اس شخص کو کہتے  ہیں جو حالت ایمان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور حالت اسلام ہی پر فوت ہو جائے۔
اس تعریف میں یہاں  لفظِ ”لقاء“ ہے جس سے مراد عمومی معنی یعنی “ملاقات” ہے، اس کے لیے آنکھوں سے دیکھنا، بات کرنا، سننا  اور صحبت میں رہنا لازمی نہیں۔ لہذا اگر کوئی شخص کسی اجتماع یا کسی محفل میں آ جائے تو وہ بھی ”لقاء“ میں شامل ہو کر صحابی کہلائے گا۔ مؤمن خواتین  اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پردہ کیا کرتی تھیں لیکن چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل میں حاضر ہو جاتیں تھیں اس لیے صحابیات کہلائیں گی۔ جب تعریف میں لفظِ  “لقاء”  (بمعنی ملاقات) ہے تو آپ کا اشکال ” صحابیات کے لئے یہ دونوں [حضور کو دیکھنا یا صحبت میں رہنا] ممکن نہیں تھا تو صحابیات کیسے کہلائیں؟” ختم ہو جانا چاہیے کیونکہ ان مومن خواتین کو لقاء حاصل تھا۔
واللہ اعلم بالصواب
دار الافتاء ،
مرکز اھل السنۃ والجماعۃ، سرگودھا، پاکستان
15-  ربیع الاول 1440ھ
24-  نومبر 2018ء