QuestionsCategory: خواتینحیض کی عادت تبدیل ہو جانے کا حکم
ام فروہ asked 6 months ago

ایک عورت کی عادت مہینے کے پہلے پانچ دن حیض کی ہے۔ پانچ دن بعد وہ عورت پاک ہو جاتی ہے۔ اس بار اسے سات دن برابر خون آتا رہا۔ آیا اس عورت کی گزشتہ عادت کے پانچ دن نکال کر باقی دو دن کی نمازیں پڑھنی پڑیں  گی یا نہیں؟  یا یہ تمام دن حیض شمار ہوں گے؟

برائے مہربانی جواب دیں۔ شکریہ

سائلہ: ام فروہ

1 Answers
Mufti Pirzada Akhound answered 6 months ago

الجواب حامدا ومصلیا ۔
مذکورہ صورت میں جبکہ اس عورت کی عادت ہر مہینہ پانچ دن کی تھی اور اب اس عورت کا خون پانچ دن سے تجاوز کرکے سات دن ہوگیا یعنی عورت کو آنے والا خون ابتداء سے دس دن کے اندر اندر رک گیا تو یہ سمجھا جائے گا کہ اس عورت کی ماہواری کی عادت بدل گئی ہے اور یہ تمام دن ماہواری کے شمار ہوں گے، اس صورت میں ان تمام دنوں کی نمازیں معاف ہوں گی۔
البتہ اگر خون کی مدت عادت معروفہ سے تجاوز کر کے دس دن سے زیادہ ہو جائے تو اس صورت میں جو دن عادت کے تھے ان کی نماز معاف ہے اور عادت سے زیادہ جو ایام گزرے ہیں ان کی نماز کی قضاء کرنی پڑے گی اس صورت میں عادت معلومہ کو ماہواری اور عادت سے زائد خون کو استحاضہ شمار کیا جائے گا۔
واما اذا زاد علی عادتھا المعروفۃ دون العشر۔۔۔۔۔۔لا تومر بالاغتسال والصلاۃ ۔۔۔۔۔۔ فان جاوز العشرۃ امرت بقضاء ما ترکت من الصلاۃ بعد ایام عادتھا قال فی المجتبی وھوالاصح ۔
فی النھایۃ علی فتح القدیر :1/179 ، طبع رشیدیۃ۔
ترجمہ :اگر دس دن کے اندر اندر ماہواری کا خون عادت معروفہ سے بڑھ جائے تو اس صورت میں نماز معاف ہے اور اگر خون دس دن سے زیادہ ہوگیا تو اب ان تمام نمازوں کی قضاء کرنی پڑے گی جو عادت سے تجاوز کرچکی ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء مرکز اہل السنۃ والجماعۃ
سرگودھا پاکستان
25 نومبر 2019 ء بمطابق 27 ربیع الاول 1441ھ