QuestionsCategory: جدید مسائلبلا وجہ چھٹی کرنے یا تاخیر سے آنے کی صورت میں ملازم کی تنخواہ کاٹنے کی شرعی حیثیت
Zeeshan Ali asked 6 months ago

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

مفتی صاحب! کیا شریعت میں ملازم کی تنخواہ کاٹنے کی گنجائش موجود ہے؟

مسئلہ یہ ہے کہ اکثر دفاتر میں تاخیر سے آنے یا بلا وجہ چھٹی کرنے پر تنخواہ سے کٹوتی کی جاتی ہے، تو کیا شرعاً اس کی گنجائش موجود ہے؟ اگر شرعاً یہ عمل جائز نہیں ہے تو پھر اس کا متبادل کیا ہے؟ کیونکہ اگر ملازمین کی تنخواہ سے کٹوتی نہ کی جائے تو وہ وقت کی پابندی نہیں کرتے جس سے دفتر کا نظم بھی خراب ہوتا ہے اور نقصان بھی۔

والسلام

ذیشان علی، کراچی

1 Answers
Mufti Kefayat-Ullah answered 2 months ago

جواب
واضح رہے کہ ملازم اجیر خاص ہے یعنی جب کام کرے گا اجرت کا مستحق ہو گا اور اگر کام نہ کرے تو اجرت کا مستحق نہیں ہوگا ۔
لہذا اگر دفاتر والے تاخیر کرنے کی وجہ سے تاخیر کی بقدر کٹوتی کریں  اس سے زائد نہیں یا چھٹی کرنے کی دن کی کٹوتی کریں تو وہ اس میں گناہ گار نہیں ہوں گے ، لیکن اگر وہ ملازمین کے ساتھ نرمی کا معاملہ کریں تو یہ ان کے لئے اجر اور ثواب ہوگا اور ملازمین کو بھی چاہیئے کہ وہ بھی بغیر عذر کے اس طرح کا معاملہ نہ کریں وگرنہ وہ  آخرت میں پکڑاورسزا  کے مستحق ہوں گے۔
واللہ اعلم بالصواب
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا پاکستان