QuestionsCategory: حقوق ومعاشرتبیوی کو والدین کے گھر اکٹھے رہنے پر مجبور کرنا
Molana Abid Jamshaid Staff asked 11 months ago

سائل کا تعلق پاکستان سے ہے لیکن پچهلے دو تین سال سے روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک قیام پذیر ہے۔میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں جو بهی کماتا ہوں اپنی والدہ کے نام پیسے بھیجتا ہوں، فیملی ہماری ایک ساتھ ہے۔ والد صاحب اور ایک بهائی سعودیہ میں ہیں، باقی دو بهائی، ایک بہن،میری والدہ، ایک بهابهی، میری بیوی اور میرے دو بچے یہ سب اکٹهے رہتے ہیں ۔ بیوی مجهے کہتی ہے گهر والے اسے ناجائز تنگ کرتے ہیں ، ناراض ہوتے ہیں۔ بچے بیمار ہوں تو کئی کئی روز منتوں کے بعد دوا ئی لا کر دیتے ہیں۔ بس اچها اچها کرتے رہتے ہیں ۔وہ کہتی ہے یہ سب گهر کا نظام غیر اسلامی ہے، قیامت میں سب کو پتا چلے گا وغیرہ وغیرہ۔تو کیا ایسے معاملات میں؛ میں اپنی والدہ سے پوچھ سکتا ہوں کہ میرے بیوی بچوں کے ساتھ وہ ایسا کیوں کرتی ہیں؟ ۔اور یہ کہ مجهے کچھ رقم اپنے پاس رکهنی چاہئے یا نہیں؟ جبکہ گهر کا سارا نظام والدہ ہی چلاتی ہیں۔ براہِ مہربانی وضاحت فرمائیں۔

ایک سائل

1 Answers
Best Answer
Molana Abid Jamshaid Staff answered 11 months ago

قرآن کریم اور حدیث نبوی میں والدین کی خدمت کے بڑے فضائل آئے ہیں اور ان کی نافرمانی کے وبال بھی بڑی تفصیل سے ذکر کیے گئے ہیں۔جائز کاموں میں والدین کی خدمت و اطاعت فرض ہے۔ اسی طرح اپنی بیوی کے حقوق ادا کرنا اور استطاعت کے مطابق اس کی دیکھ بھال کرنا شوہر کی ذمہ داری ہے۔ جو صورتِ حال آپ کو درپیش ہے ، اس میں آپ ٹھنڈے دل و دماغ سے اپنی بیوی کو سمجھائیں کہ وہ گھر کی چھوٹی موٹی باتوں کو برداشت کیا کرے، خواہ مخواہ معمولی باتوں کو طول دے کر اختلافات کی فضا قائم نہ کرے۔اسی طرح آپ اپنی والدہ کی خدمت میں بڑے ادب و احترام سے گزارش کریں کہ وہ اپنی بہو کو اپنی بیٹی سمجھ کر اس کا خیال رکھا کریں۔ یہ سمجھانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ بسا اوقات حقیقت میں بات کچھ بھی نہیں ہوتی مگر غلط فہمی کی وجہ سے اسے اتنا اچھالا جاتا ہے کہ وہ بہت بڑی لڑائی کا سبب بن جاتی ہے۔ آپ کا یہ اقدام لائق ِ تحسین ہے کہ اپنی کمائی اپنی والدہ کے ہاتھ پر رکھ دیتے ہیں مگراس میں سے کچھ اپنے پاس رکھ سکتے ہیں تاکہ بوقتِ ضرورت آپ کے اور آپ کے اہل و عیال کے کام آ سکے۔تا ہم یہ بات واضح رہے کہ اگر آپ کی بیوی اپنی خوشی سے آپ کی والدہ کے ساتھ رہنا چاہے اور ان کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھے تو بہت اچھی بات ہے۔لیکن اگر وہ الگ رہائش کی خواہش مند ہو تو اسے اکٹھے رہنے پر مجبور کرنا جائز نہیں۔کیوں کہ بیوی کو الگ جگہ میں رکھنا (خواہ اسی مکان کا ایک حصہ ہو، جس میں اس کے سوا کسی اور کا عمل دخل نہ ہو) شوہر کے ذمّہ شرعاً واجب ہے۔ واللہ اعلم بالصّواب
مُجیب: مولانا عابد جمشید