QuestionsCategory: حلال وحرامچار ماہ کے حمل کو ضائع کروانے کا حکم

سوال:
ایک عورت کو چار ماہ کا حمل ہے۔ ڈاکٹر نے الٹراساونڈ کر کے بتایا کہ آپ کا بچہ دماغی طور پر معذور ہے۔ اس عورت کا ایک بچہ پہلے بھی معذور ہے۔ یہ عورت کہتی ہے کہ میں  دو  معذور بچوں کو نہیں سنبھال سکتی۔ اس لیے اگر شریعت اجازت دیتی ہے تو میں اس حمل کو ضائع کر دوں گی۔ اس صورتحال میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ کیا اس حمل کو ضائع کرنے کی شرعاً اجازت ہے؟
سائل: مولانا عبد الماجد کشمیری

1 Answers
Mufti Shabbir Ahmad Staff answered 5 months ago

جواب:
 
واضح رہے کہ چار ماہ کے حمل میں روح پر جاتی ہے۔ اس لیے  چار ماہ کے بعد حمل ضائع کروانا کسی صورت جائز نہیں۔ اس کا گناہ انسانی جان کے قتل کے برابر ہے۔ اس لیے اس سے احتراز لازم ہے۔ بالفرض اگر رپورٹ  درست بھی ہو تب بھی اسقاطِ حمل جائز نہیں کیونکہ بیمار اور معذور انسان کو قتل کرنا جائز نہیں۔ ایسی صورتحال میں دعاؤں کا اہتمام کریں اور امید رکھیں کہ اللہ تعالیٰ بچے کو صحت مند پیدا فرما دے۔
واللہ اعلم بالصواب
محمد عاطف کشمیری
دار الافتاء،
مرکز اھل السنۃ والجماعۃ سرگودھا پاکستان
16- نومبر2020ء
 
الجواب صحیح
ابو محمد شبیر احمد حنفی
16- نومبر2020ء