QuestionsCategory: حدیث و سنتتوہین رسالت کی سزا
Muhammad Saqib asked 1 year ago

Hazrat mera 1 dost hy army my major hy wo mujh sy puch raha hy k plz enlighten me on the reference of punishment for blasphemy yani k Quran awr Hadees my kahan par likha hy k Toheen e Risalat ki saza Phansi hy… Kindly rehnumai farmayay. JAZAKALLAH

حضرت میرا ایک دوست آرمی میں میجر ہے وہ بطور حوالہ پوچھ رہا ہے کہ کیا قرآن کریم اور حدیث سے ثابت ہے کہ  توہین رسالت کی سزا پھانسی ہے؟ ازراہ کرم راہنمائی فرمائیے۔ جزاکم اللہ

1 Answers
Mufti Mahtab Hussain Staff answered 1 year ago

الجواب باسم الملھم الوھاب
قرآن کریم، احادیث مبارکہ، آثار صحابہ، اور اجماع امت کے مطابق جو کوئی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے یا سابقہ انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی شان میں کستاخی کرے تو اس گستاخ کی سزا قتل ہے۔
اس پر بے شمار احادیث مبارکہ، آثار صحابہ اور اقوال امت موجود ہیں
عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما قال: أتی عمر بن الخطاب برجل سب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ وسلم فقتلہ، ثم قال: من سب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أو أحداً من الأنبیاء فاقتلوہ۔
إعلاء السنن 12؍668 رقم: 4327-4328
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک آدمی کے پاس آئے جس نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی تھی اور اس کو قتل کر لیا پھر فرمایا کہ جو کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یا کسی بھی نبی علیہ السلام کو گالی دے اس کو قتل کر دو
عن عمر بن عبد العزیز قال: … فإنہ لا یحل قتل امرئ مسلم یسب أحداً من الناس إلا رجلاً سب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔
المحلی بالآثار، مسائل التعذیر 12؍433 رقم: 312
حضرت عمر بن عبد العزیز سے منقول ہے کہ کسی مسلمان کو لوگوں کو گالی دینے کے بدلے قتل کرنا جائز نہیں سوائے اس آدمی کے جو رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو گالی دے{اس کو قتل کیا جائے گا}
عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہما أن أعمی کانت لہ أم ولد تشتم النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم وتقع فیہ، فینہاہا فلا تنتہي، ویزجرہا فلا تنزجر، قال: فلما کانت ذات لیلۃ جعلت تقع في النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم وتشتمہ، فأخذ المغول، فوضعہ في بطنہا واتکأ علیہا فقتلہا… الحدیث بطولہ: وفي آخرہ: فقال النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ألا! اشہدوا أن دمہا ہدر۔
سنن أبي داؤد 2؍599 رقم: 4361، الفتاویٰ التاتارخانیۃ 7؍300 زکریا
ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ ایک اندھے کی بیوی تھی جو نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دیتی وہ اسے روکتا اور ڈانٹتا مگر وہ باز نہ آتی ایک رات اس نےپھر نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی ہجو کی گالیاں دیں تو اس کے خاوند نے خنجر نکال کر اس کے پیٹ پر رکھا اور اسے دبایا اور اسے قتل کر دیا {مکمل حدیث کا ترجمہ: اس کے پاؤں کے درمیان بچہ خون میں لت پت ہو گیا۔ صبح رسول علیہ الصلوۃ والسلام سے ذکر کیا گیا۔ لوگ اکٹھے ہوئے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا جس شخص نے یہ کام کیا ہے اسے میں اﷲ کی قسم دیتا ہوں اور میرا جو اس پر حق ہے وہ کھڑا ہو جائے تو ایک نابینا کھڑا ہوا جو لوگوں کو پھلانگ رہا تھا اور ڈگمگا رہا تھا یہاں تک کہ وہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے بیٹھ گیا اور کہا اے اﷲے رسول میں اس کا خاوند ہوں میری بیوی آپ کو گالیاں نکالتی، ہجو کرتی میں اسے روکتا وہ نہ رکتی میں اسے ڈانٹتا اور وہ منع نہ ہوتی میرے اس کےبطن سے دو موتیوں جیسے بچے ہیں وہ میری رفیقہ حیات تھی پچھلی رات اس نے آپ کی ہجو کرنی شروع کی اور گالیاں نکالنے لگی میں نے خنجر لے کر اس کے پیٹ پر رکھا اور اس پر زور دیایہاں تک کہ میں نے اس کو قتل کر دیا } نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا لوگو گواہ رہنا کہ اس کا خون رائیگاں گیا۔
مزید ایک مضمون جو ہماری کتاب جی ہاں فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے ص262 میں موجود ہے وہ بھی ساتھ لف کیا جاتا ہے جس سے فقہ حنفی کا موقف کھل کر سامنے آجائے گا۔
چھبیسویں اعتراض کا جواب
قرآن کریم، احادیث مبارکہ، آثار صحابہ، اور اجماع امت کے مطابق گستاخ رسول کی سزا قتل ہے۔ اسی بنا پر فقہ حنفی میں بھی گستاخ رسول کی سزا موجود ہے اور وہ قتل ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
فقہ حنفی کے محقق علی الاطلاق ابن ہمام حنفی فرماتے ہیں:
كل من أ بغض رسول الله صلى الله عليه وسلم بقلبه كان مرتدا فالسباب بطريق أولى ثم يقتل حدا عندنا فلاتعمل توبته فيإ سقاط القتل قالوا هذا مذهب أهل الكوفة ومالك ونقل عن أبي بكرالصديق رضي الله عنه
شرح فتح القدیر ج5 ص 98
جو آدمی دل میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض رکھے گا وہ مرتد ہو جائے گا تو سب و شتم سے بطریق اولیٰ مرتد ہو جائے گا۔ پھر وہ ہمارے نزدیک قتل کر دیا جائے گا اور اسقاط قتل میں اس کی توبہ کام نہیں آئے گی۔ یہ مذہب ہے اہل کوفہ کا اور امام مالک کا اور حضرت ابو بکر صدیق سے یہی نقل کیا گیا ہے۔
علامہ شامی فرماتے ہیں:
أفتى أكثرهم بقتل من أكثرمن سب النبي من أهل الذمة وإن أسلم بعد أخذه
رد المحتار، ج 4 ص 215
اکثر احناف ایسے ذمی کے قتل کا فتوی دیتے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے۔ اگرچہ وہ پکڑے جانے کے بعد اسلام بھی لے آئے تب بھی اسے قتل کیا جائے گا۔
در مختار میں ہے:
والحق أنه يقتل عندنا إذا أعلن بشتمه عليه الصلاة والسلام
در مختار، ج4 ص 2146
حق بات یہ ہے کہ جب وہ اعلانیہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہے تو اسے قتل کیا جائے گا۔
علامہ ظفر احمد عثمانی فرماتے ہیں:
وبالجملۃ فلا خلاف بین العلماء فی قتل الذمی او الذمیۃ اذا اعلن بشتم الرسول او طعن فی دین الاسلام طعنا ظاہرا
اعلاء السنن، ج 12 ص 539
علمائے اسلام کے اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں کہ اگر ذمی مرد یا عورت نبی علیہ السلام کی شان میں اعلانیہ گستاخی کرے یا اسلام میں عیب
نکالے تو اسے قتل کردیا جائے گا۔
مولانا عبدالمالک کاندھلوی حنفی لکھتے ہیں:
امت کے تمام فقہاء اور ائمہ مفسرین اور محدثین کا فیصلہ ہے کہ توہین رسول علیہ الصلوۃ والسلام کی سزا موت ہے۔
ناموس رسول ص 210
ان حنفی علماء کی عبارات سے معلوم ہوا کہ حنفی مسلک میں گستاخ رسول کی سزا موجود ہے اور وہ قتل ہے۔ آخر میں ایک حوالہ غیر احناف سے بھی اس بات کے ثبوت میں پیش خدمت ہے کہ احناف کے یہاں گستاخ رسول کی سزا قتل ہے۔ قاضی عیاض فرماتے ہیں:
أجمع عوام أهلی العلم على أن من سب النبي صلى الله عليه وسلم يقتل وممن قال ذلك مالك بن أنس والليث وأحمد وإسحاق وهو مذهب الشافعي قال القاضى أبوالفضل وهو مقتضى قول أبى بكر الصديق رضى الله عنه ولا تقبل توبته عند هؤلاء ،وبمثله قال أبوحنيفة و أصحابه
الشفا بتعریف حقوق المصطفی ج2 ص 215
تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ جو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے، اسے قتل کردیا جائے گا۔ امام مالک بن انس، امام لیث، امام احمد، امام اسحاق، اور امام شافعی رحمہم اللہ تعالی کا یہی مسلک ہے۔ قاضی ابو الفضل فرماتے ہیں کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے قول سے یہی مراد ہے اور ان تمام ائمہ کے نزدیک ایسے شخص کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں کا بھی یہی مسلک ہے۔
ان دلائل کی روشنی میں یہ بات واضح ہو گئی کہ گستاخ کی سزا قتل ہے