QuestionsCategory: مالی معاملاتکاروبار و شراکت
Adil Adil asked 1 week ago

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
 حضرت آپ سے ایک مسئلہ پوچھنا تھا.
میں نے بزنس کیا پارٹنرشپ پر ہم تین بندے تھے دو انویسٹر تھے اور میری محنت تھی اور جو منافع آتا تھا اس میں سے میں اپنا حصہ لے لیتا تھا اور انکا حصہ جمع کرتا تھا بزنس میں ہم نے بزنس ختم کیا تو میں نے جو انویسٹر کی رقم تھی اصل میں نے وہ دیدی  اور جو ان کا منافع تھا وہ باہر پھنس گئے پیسے اور وہ پیسے ڈوب گئے اور جو انویسٹر تھے وہ اب تنگ کر رہے ہیں کہ ہمیں پیسے دو لیکن کاروبار کی شرائط میں تھا کہ جو نفع نقصان ہوگا وہ تینوں میں برابر ہوگا لیکن اب وہ بول رہے ہیں کہ جو نقصان ہوا ہے اس کے ذمہ دار تم ہو اور سارے پیسے اب تم دو حضرت اس کی تھوڑی سی وضاحت کر دیں اور جو شریعت کے حساب سے فتوی بنتا ہے مجھے وہ بتا دیں۔

1 Answers
Mufti Mahtab Hussain Staff answered 1 week ago

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ:
اگر آپ محض محنت کر رہے تھے اور کاروبار میں آپ کا کوئی سرمایہ شامل نہیں تھا بلکہ دوسرے دو حضرات ہی سرمایہ دار تھے تو اس صورت میں نقصان کی ذمہ داری شرعاً آپ پرعائد نہیں ہو گی۔
علامہ محمدامین ابن عابدین شامی [متوفیٰ1252ھ]فرماتے ہیں:
[بطل الشرط] کشرط الخسران علی المضارب۔
ردالمختار:ج8ص502
ترجمہ:مضارب[جس کے ذمہ صرف محنت ہے] پر یہ شرط لگانا کہ نقصان کی صورت میں وہ ذمہ دار ہو گا، باطل ہے۔
واللہ اعلم بالصواب-