QuestionsCategory: مالی معاملاتخرید و فروخت میں عقد سے زائد شرط لگانے کا حکم
محمد احمد asked 2 months ago

سوال:
ہم سکول کے بچوں کے لئے دکان سے سموسے منگواتے  ہیں۔ دکان والا ایک سموسہ دس روپے  کا دیتا ہے۔ اگر ہم اس سے بات کریں کہ ہم آپ سے بچوں کے لئے سموسے منگوائیں گے اور  ان کے پیسے دیں گے لیکن اسٹاف کے لئے (جو تقریباً 16 سموسے بنیں گے) آپ نے فری سموسے بھیجنے ہوں گے۔  تو کیا اس طرح دکاندار سے سموسے خریدنا جائز ہے؟ اگر یہ درست نہ ہو تو صحیح صورت کون سی اپنائی جائے؟
سائل: محمد احمد، راولپنڈی

1 Answers
Mufti Shabbir Ahmad Staff answered 2 months ago

جواب:
اس شرط کے ساتھ سموسے خریدنے سے یہ معاملہ فاسد  ہو جائے گا اس لیے اس طریقہ سے تو اجتناب لازم ہے۔ ہاں البتہ اس کا متبادل جائز  طریقہ یہ اختیار کیا جا سکتا ہے کہ دکاندار سے سموسے کی قیمت کم کرائی جائے۔ کم قیمت پر اس سے سموسہ لے کر طلباء کو دس روپے کا ہی فروخت کر دیں اور باقی ماندہ سموسے اسٹاف کو دے دیے جائیں۔  یوں معاملہ درست ہو گا۔
امام ابو الحسن علی بن ابی بكر بن عبد الجلیل المرغینانی (ت593ھ) لکھتے ہیں:
وكل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين …. يفسده اھ
(الہدایۃ في شرح بدایۃ المبتدی : ج3 ص48)
ترجمہ:  عقد میں ایسی شرط لگانا  جو عقد کے تقاضا کے خلاف ہو اور اس میں فریقین میں سے کسی ایک کا نفع ہو تو اس سے عقد فاسد ہو جاتا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دار الافتاء،
مرکز اھل السنۃ والجماعۃ سرگودھا پاکستان
24 ربیع الاول 1442ھ/
10- نومبر2020ء