QuestionsCategory: بدعات ورسوماتسنت کے مطابق شادی کرنا
محمد asked 1 year ago

الحمدللہ میں بھی ٹھیک ہوں گزارش آپ سے یہ کرنی ہے کہ آج کے اس دور میں سنت کے مطابق شادی کیسے کی جا سکتی ہے ،میں ایک لڑکا ہوں چاہتا ہوں کہ میری شادی١٠٠ فیصد سنت کے مطابق ہو

کچھ چیزیں جو میں چاہتا ہوں کہ آپ تفصیل سے عرض فرما دیں

1: شادی میں جہیز کی حقیقت اور دلہے کی جہیز کے بارے میں کیا رائے ہونی چاہئے

2 : رسومات جو شادیوں میں عموماً ہوتی ہیں مثلاً دلہے یا دلہن کو مہندی لگانا وغیرہ وغیرہ

3 : شادی کی رات سنت کے مطابق کیسے زوجہ کے پاس جایا جائے مطلب کیسے ہم سنت کے مطابق یہ رات گزار سکتے ہیں اور براہ کرم یہ بھی بتا دیجیے کہ میاں بیوی آپس میں (اکٹھے ایک ساتھ) غسل کر سکتے ہیں یا نہیں.

4ولیمہ پر نیندر کا غلط رواج اور اسکا علاج اور کیا دلہا یا دلہن ولیمہ کے دن سلامی اور پیسوں کا ہار وصول کرنا اور ایسی سب چیزیں براہ مہربانی ان سب کا سنت کے مطابق علاج بتائیے۔

واسلام

محمد

1 Answers
Mufti Pirzada Akhound answered 1 year ago

الجواب حامداًومصلیا ً
جہیز کی شرعی حیثیت سمجھنے کے لیے مندرجہ ذیل اجزاء ملاحظہ فرمائیں:
(الف)
اگر ایک باپ اپنی بیٹی کو رخصت کرتے وقت اسے ایسی چیزوں کا تحفہ پیش کرے، جو اُس کے لیے آیندہ زندگی میں کار آمد ہوں،خواہ وہ سامان کی شکل میں ہو یا ملبوسات وزیورات کی شکل میں ہو،تو شرعا اس میں مضائقہ نہیں؛ بلکہ صلہ رحمی کے طور پر نام و نمود سے بچتے ہوئے بغیر کسی جبر و دباوٴ کے اپنی حیثیت کے مطابق دینا مستحسن ہے، خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو سادگی کے ساتھ کچھ اشیاء بطور صلہ رحمی عطا فرمائی ہیں۔ شرعی اعتبار سے صلہ رحمی اور بطور ہدیہ  کے لیے کوئی مقدار بھی مقرر نہیں ہے، اگر دوسرے مفاسد نہ ہوں، تو باپ اپنے دلی تقاضے کے تحت جو کچھ دینا چاہے، دے سکتا ہے۔ اسی طرح اگر لڑکی کے والد معاشرتی دباوٴ کے بغیر اپنی حیثیت کے مطابق لڑکے کو کچھ دینا چاہیں، تو شرعا اس کی بھی گنجائش ہے۔
(ب)
لڑکی کے والد کے لیے لڑکی کو جہیز دینا ضروری نہیں ہے،اسی طرح لڑکی کے شوہر کے لیے ضروریات کا انتظام کرنا ضروری نہیں ہے۔ جہیز نکاح کی ہر گزکوئی لازمی شرط نہیں ہے۔
(ج)
لڑکے اور اُس کے گھر والوں کو شرعا اور اخلاقاً کوئی حق نہیں پہنچتا ہے کہ وہ لڑکی اور اس کے گھر والوں سے جہیز کا مطالبہ کریں یا اس کی توقعات باندھیں۔ لڑکے والوں کی طرف سے صراحةً یا دلالةً لڑکی والوں کو زبردستی جہیز دینے پر مجبور کرنا قطعاً جائز نہیں ہے؛ بلکہ یہ کھلا ہوا جبر وظلم ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص محض مال کے لیے کسی عورت سے نکاح کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے مزید تنگدست بنادے گا
”ومن تزوج لمالہا لم یزدہ اللہ إلا فقرًا
أخرجہ الطبراني في الأوسط، رقم ۲۳۴۲
(د)
نام و نمود اور دکھاوے کے خاطر لڑکی کو جہیز دینا جائزنہیں ہے۔
(ح)
معاشرے کے دباوٴ کی وجہ سے اپنی حیثیت سے زیادہ جہیز دینا معاشرے میں پھیلی ہوئی ایک بری رسم کا تعاون کرنا ہے، اس لیے یہ صورت بھی جائز نہیں ہے۔
مستفاد از اسلامی شادی ص: ۱۵۱، بحوالہ اصلاح الرسوم
ان اجزاء سے صورت مسئولہ کا حکم واضح ہوگیا کہ نام و نمود سے بچتے ہوئے اپنی حیثیت کے مطابق بچی کو شادی کے موقع پر ضرورت کا کچھ سامان دینا جائز ہے؛ لیکن لڑکے والوں کو جہیز کا مطالبہ کرنا یا نام و نمود کی خاطر یا اپنی حیثیت سے زیادہ محض معاشرتی دباوٴ کی وجہ سے جہیز دینا شرعا جائز نہیں ہے۔
[2]
شادی کے موقع پر مرد وعورت کا ہلدی لگانا ایک ہندوانہ رسم ہے جو کہ ایک غیرشرعی رسم ہے جو ناجائز ہے اور شادی کے علاوہ کے موقع پر اگر کسی ضرورت کی وجہ سے ہو تو گنجائش ہے اور مہندی لگانا عورت کے لیے درست ہے بلکہ اس کے لیے مخصوص ہے کہ ہاتھ پیر کو لگائے، شادی کے موقع پر یا اس کے علاوہ لیکن مرد کو اس کی مشابہت اختیار کرنا اور ہاتھ پیر میں مہندی لگانا درست نہیں، ہاں مرد کے لیے سر پر اور داڑھی میں سرخ مہندی کا خضاب لگانا درست ہے، بوجہ مجبوری مرد کے لیے ہاتھ اور پاوٴں میں مہندی لگانے کی گنجائش ہے۔
[3]
شب زفاف میں پہلی ملاقات کے وقت ابتداءً دو رکعت شکرانہ کی نماز پڑھیں، مرد آگے کھڑا رہے عورت پیچھے،نماز کے بعد خیر وبرکت، مودت ومحبت، آپسی میل ملاپ کی دعا کریں۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک شخص عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے ایک باکرہ عورت سے نکاح کیا ہے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے پسند نہ کرے اور دشمن تصور کرے، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا محبت اللہ کی طرف سے ہے اور دشمنی شیطان کا فعل ہے، جب عورت تیرے گھر میں آوے تو تو اس سے کہہ کہ تیرے پیچھے کھڑی ہو کر دو رکعت نماز پڑھے، اور تو یہ دعا پڑھ:
اللھُمَّ بَارِکْ لِي فِي أَھْلِی، وَبَارِکْ لأھلِي و فِيَّ، اللھُمَّ ارْزُقْنِي مِنْھُمْ وَارْزُقْھُمْ مِنِّی، اللھُمَّ اجْمَعَ بَیْنَنَا إذَا جَمَعْتَ فِيْ خَیْرٍ وَفَرِّقْ بَیْنَنَا إِذَا فَرَّقْتَ إِلَی خَیر․ اس کے بعد بیوی کی پیشانی کے بال پکڑکر یہ دعا پڑھے۔ اللّٰھمَّ اِنِّيْ أَسْئَلُکَ مِنْ خَیْرِہَا وَخَیْرِ مَا جَبَلْتَہَا عَلَیْہِ وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّہَا وَشَرِّ مَا جَبَلْتَہَا عَلَیْہِ․ شوہر تلطف ومحبت سے پیش آئے، اپنا سکہ اور رعب جمانے کی فکر نہ کرے، اور ہرطرح اس کی دلجوئی کرے کہ عورت کو مکمل سکون اور قلبی راحت حاصل ہو اور ایک دوسرے میں انس و پیار پیدا ہو۔ جب مباشرت کا ارادہ کرے تو مباشرت سے پہلے عورت کو مانوس کرے، بوس وکنار ملاعبت وغیرہ جس طرح ہوسکے اسے بھی مباشرت کے لیے تیار کرے، اور اس بات کا ہر مباشرت کے وقت خیال رکھے فوراً ہی صحبت شروع نہ کردے اور بوقت صحبت اس بات کا خیال رکھے کہ عورت کی بھی شکم سیری ہوجائے، انزال کے بعد فوراً جدا نہ ہوجائے، اسی حالت پر رہے اورعورت کی خواہش پوری ہونے کا انتظار کرے، ورنہ عورت کی طبیعت پر اس سے بڑا بار پیدا ہوگا اور بسا اوقات اس کا خیال نہ کرنے سے آپس میں نفرت اور دشمنی پیدا ہوجاتی ہے جو کبھی جدائیگی کا سبب بن جاتی ہے۔
غنیة الطالبین میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں:
ویستحب لھا الملاعبة لھا قبل الجماع والانتظار لھا بعد قضاء حاجتہ حتی تقضي حاجتھا فإن ترک ذلک مضرة علیھا ربما أفضی إلی البغضاء والمفارقة (غنیة الطالبین: ۹۸)
جب صحبت کرنے کا ارادہ کرے تو اولاً بسم اللہ پڑھے اور یہ دعا پڑھے:
اللَّھُمَّ جَنِّبْنَا الشَّیْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّیْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، بوقت صحبت قبلہ کی طرف رخ نہ کرے، سر ڈھانک لے اور جتنا ہوسکے پردے کے ساتھ صحبت کرے کسی کے سامنے حتی کہ بالکل نا سمجھ بچے کے سامنے بھی صحبت نہ کرے اور بوقت صحبت بقدر ضرورت ستر کھولے، انزال کے وقت دل میں یہ دعا پڑھے: ا
للَّھُمَّ لَا تَجْعَلْ لِلشَّیْطَانِ فِیمَا رَزَقْتنَا نَصِیبًا۔
صحبت کے بعد یہ دعا پرھے: الْحَمْدُ لِلّٰہ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَہ ُ نَسَبًا وَصِھْرًا․ شب زفاف اور صحبت کے سلسلے کی آپس کی جو باتیں پوشیدہ ہوں کسی سے ان کا تذکرہ نہ کرے یہ بے حیائی اور بے مروتی کی بات ہے۔
(مستفاد: فتاوی رحیمیہ: ۴/ ۲۸۶ تا ۲۸۹ بحوالہ غنیة الطالبین مترجم: ۹۷ تا ۱۰۰ فصل فی آداب النکاح)
[4]
جی ہاں! میاں بیوی دونوں ایک ساتھ نہا سکتے ہیں، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتی تھی، آپ مجھ پر سبقت فرماتے تو میں کہتی: مجھے بھی دیجئے، مجھے بھی دیجئے۔
عن عائشة رضی اللہ عنھا قالت: کنت أغتسل أنا ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من إناء بینی وبینہ واحد فیبادرني حتی أقول: دع لي دع لي، قالت: وھما جنبان، وفي روایة أخری: کنت أغتسل أنا ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من إناء واحد تختلف أیدینا فیہ من الجنابة،
رواہ مسلم (۱: ۱۴۸) (إعلاء السنن، ۱:۱۲۸، ط: إدارة القرآن والعلوم الإسلامیة کراتشي)۔
[5]
ولیمے کے موقع پر مذکورہ طریقہ کا لین دین “نیوتہ” کہلاتا ہے، جو شادی بیاہ کے موقع کی ایک قبیح رسم اور شرعی اعتبار سے ناجائز ہے، قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے: وما آتیتیم من ربو لیربو فی اموال الناس فلا یربوا عنداللہ۔ (روم : 39) یعنی جو مال اس نیت سے دیا جائے کہ اس کے بدلے میں زیادہ ملے گا تو اللہ کے ہاں اس کی بڑھوتری نہیں ہوتی۔ مفسرین نے نیوتہ کے لین دین کو بھی اس آیت کا مصداق ٹھہراتے ہوئے ناجائز قرار دیا ہے، البتہ کسی قسم کے بدلے کی نیت کے بغیر محض خوشی کے موقع کی مناسبت سے رقم ہدیہ کردینا جائز ہے، اور جس برادری میں نیوتہ کی رسم ہے وہاں اگر شادی یا ولیمہ کے موقع پر کچھ دیا گیا ہے تو اس کی حیثیت قرض کی ہے اور قرض پراضافہ لینا بوجہ سود کے ناجائز ہے۔
وللہ اعلم بالصواب
فتاوی مرکز اہل سنت و الجماعت سرگودھا
6جنوری2019