QuestionsCategory: اذان و اقامتاقامت کی حیثیت کیا ہے
Molana Abid Jamshaid Staff asked 11 months ago

میں یونیورسٹی آف انجیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور میں پڑھتا ہوں۔اکثر کلاس ختم ہونے کے بعد ہم مسجد میں اپنی جماعت کرا لیتے ہیں۔کبھی ہم دو طالب علم ہوتے ہیں، کبھی پانچ چھ اور کبھی دو تین صفیں بھی بن جاتی ہیں۔میں نے اقامت کی حیثیت پوچھنی ہے کہ نماز سے پہلے اقامت کہنا لازمی ہے؟ خواہ نمازی دو تین ہوں یا اس سے زیادہ۔

کریم خان۔ پشاور

1 Answers
Molana Abid Jamshaid Staff answered 11 months ago

محترم جلال خان صاحب! اللہ تعالیٰ آپ کو خوش و خرم رکھے کہ یونیورسٹی کے ماحول میں بھی آپ نماز باجماعت کا اہتمام کرتے ہیں۔ پہلے تویہ سمجھیے کہ پانچوں نمازوں کے لیے اذان و اقامت کہنا سنتِ مؤکّدہ ہے۔ اسی طرح نمازِ جمعہ کے لیے دو اذانیں اور ایک اقامت کہنا بھی سنتِ مؤکّدہ ہے۔ان کے علاوہ کسی اور نماز مثلا: نمازِ وتر، نمازِ عید، نمازِ کسوف و خسوف، نمازِچاشت، نمازِ جنازہ اور نمازِ اوّابین وغیرہ کے لیےاذان و اقامت کہنا مسنون نہیں ہے۔اب یہ سمجھیے کہ آپ نے جو صورت لکھی ہے اس میں آپ کو اقامت کے ساتھ نماز ادا کرنی چاہیے خواہ نمازی دو تین ہوں یا زیادہ ۔تا ہم جو نمازیں بغیر اقامت کے ادا کی جا چکی ہیں انہیں دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں، کیوں کہ اقامت کی حیثیت فرض یا واجب کی نہیں بلکہ یہ ایک مسنون عمل ہے۔
آخر میں اس بات کا خیال رکھیے کہ اگر آپ کی یونیورسٹی کی مسجد میں کوئی امام مقرّر ہو اور پنجگانہ نمازیں باجماعت ادا کی جاتی ہوں تو تاخیر سے پہنچنے کی صورت میں آپ اپنی جماعت مسجد سے باہر کسی جگہ کرا لیا کریں کیوں کہ ایک مسجد میں دوسری جماعت کو فقہاء کرام نے مکروہ لکھا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مُجیب: مفتی شبیر احمد