سوال:

الف!۔ میرا یہ سوال ہے کہ آج کل لوگ ہر دوسری بات پر قسم اٹھاتے ہیں! اگر کوئی قسم اٹھا کر توڑ دے تو اس کا کیا کفارہ ہے ؟

ب!۔ اگر کوئی نماز میں امام کے پیچھے آکر کھڑا ہو اور امام نے سورۃ فاتحہ پڑھ لی یا پڑھ رہا ہو تو کیا مقتدی کو سورۃ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے ؟

ج!۔ کیا عورتوں کا جسم پر سے بال صاف کرنا جائز ہے ؟

المستفتی: وجاحت خان

جواب:

الف:!۔ بات بات پہ قسم کھانا یہ درست نہیں ہے ہاں سچ کو سچ ، جھوٹ کو جھوٹ ،حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے اور جائز کام میں قسم اٹھانا درست ہے اور اس وقت جب قسم کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو پھر قسم بھی صرف اللہ کی ہی اٹھائے ، اللہ کے علاوہ کسی اورچیز مثلاً اپنے آباء کی یا مخالف کے کسی بڑے کی یا اللہ پاک کے مقربین کی قسم نہ ہو کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ کے شرکاء میں سے کسی کی بھی قسم جائز نہیں اور اللہ کی قسم بھی صرف سچی قسم اٹھایا کرو چنانچہ حدیث پاک میں آتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ وَلاَ بِأُمَّهَاتِكُمْ وَلاَ بِالأَنْدَادِ وَلاَ تَحْلِفُوا إِلاَّ بِاللَّهِ وَلاَ تَحْلِفُوا بِاللَّهِ إِلاَّ وَأَنْتُمْ صَادِقُونَ”

سنن ابوداؤد۔کتاب الاَیمان حدیث نمبر 3248

اس لیے جب بغیر قسم کے چھٹکارہ نہ ہو توبامر ِمجبوری قسم کی اجازت ہے بشرطیکہ قسم کسی سچی بات پہ ہو کیونکہ جھوٹی قسم کھانا گناہ کبیرہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

“مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ مَصْبُورَةٍ كَاذِبًا فَلْيَتَبَوَّأْ بِوَجْهِهِ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ”

سنن ابو داؤد کتاب الاَیمان حدیث نمبر 3244

مطلب اس حدیث کا یہ ہے کہ جو آدمی جان بوجھ کر یا قصداً جھوٹی قسم کھا لے تو وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے ۔

لہذا اس قسم کی احادیث کومدنظر رکھتے ہوئے قسم اٹھانے میں بہت احتیاط کرنی چاہیے قسم کھا کر اگر آدمی توڑ دیے تو اسکا کفارہ ہوتا ہے لیکن اگر جھوٹی قسم کھا لے کہ میں نے یہ کام کیا ہے ، حالانکہ نہیں کیا تھا یا یہ کہ میں نے یہ نہیں کیا ، حالانکہ کیا تھا تو اس کا کفارہ سِوائے توبہ واِستغفار کے کچھ نہیں۔

الحلف على أمر ماض يتعمد الكذب فيه فهذه اليمين يأثم فيها صاحبها لقوله عليه الصلاة والسلام من حلف كاذبا أدخله الله النار ولا كفارة فيها إلا التوبة والاستغفار

ہدایہ جلد 2 ص 476 کتاب الاَیمان

اگر آدمی نے قسم اٹھا کر توڑ دی تو اس پر کفارہ لازم ہوتا ہے کفارہ یہ ہے کہ غلام آزاد کرے یا پھر دس مسکینوں کو کپڑے دے یا پھر دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلائے ان کاموں کی طاقت نہ رکھتا ہو تو پھر تین دن مسلسل لگاتار روزہ رکھے ۔

“فصل في الكفارة : قال كفارة اليمين عتق رقبة يجزي فيها ما يجزي في الظهار وإن شاء كسا عشرة مساكين كل وااحد ثوبا فما زاد وأدناه ما يجوز فيه الصلاة وإن شاء أطعم عشرة مساكين كالإطعام في كفارة الظهار والأصل فيه قوله تعالى { فكفارته إطعام عشرة مساكين } الآية وكلمة أو للتخيير فكان الواجب أحد الأشياء الثلاثة قال فإن لم يقدر على أحد الأشياء الثلاثة صام ثلاثة ايام متتابعات “

ہدایہ جلد 2 ص 479 کتاب الاَیمان

ب!: امام کے پیچھے مطلقاً قرات کرنا درست نہیں ہے چاہے امام سورۃ فاتحہ پڑھ رہا ہو یا پھر پڑھ چکا ہو کسی حالت میں بھی قرأت جائز نہیں ہے، مقتدی جب امام کے پیچھے کھڑا ہو جائے تو پھر وہ کچھ بھی نہیں پڑہے گا بلکہ امام کی قراءت کو سنے گا کیونکہ قرأت خلف الامام کے مسئلے کو قرآن کریم نے بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

“وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ “

پارہ نمبر 9 سورہ اعراف آیت نمبر 204

ترجمہ۔ اور جب قرآن کریم پڑھا جائے تو اسکی طرف کان لگاتے رہو اور خاموش رہو تاکہ تم پر حق تعالی کی رحمتیں نازل ہوں ۔

جمہور سلف وخلف اس بات ہر متفق ہیں کہ یہ آیت فرض نماز کے متعلق نازل ہوئی ہے۔

اجماع کی دلیل:

1۔ قال أحمد: فالناس على أن هذا في الصلاة وعن سعيد بن الْمُسَيَّبِ و الحسن و إبراهيم و محمد بن كعب و الزهري أنها نزلت في شأن الصلاة وقال زيد بن أسلم و أبو العالية كانوا يقرأُوْن خلف الإمام فنزلت : (وَإِذَا قُرئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ) وقال أحمد في رواية أبي داؤد : أجمع الناس على أن هذه الآية في الصلاة ولأنه عام فيتناول بعمومه الصلاة۔

المغنی لابن قدامۃ ج2ص117، مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ ج22ص150

2۔ چنانچہ ریئس المفسرین حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کے شان نزول میں ارشاد فرماتے ہیں :

“عن ابن عباس قوله: { وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا } يعني: في الصلاة المفروضة”

تفسیر ابن کثیر جلد 3 ص 261 سورۃ اعراف

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس آیت کا شان نزول فرض نماز ہے ۔

تفسیر نمبر 1:

قَدْ اخرج الامام المحدث أبو بكر أحمد بن الحسين بن علي البيهقي م 458 ھ :أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيدا لصَّفَّارُ ، نا عبيد بن شَرِيكٍ ، نا ابن أبي مريم ، نا ابن لَهِيعَةَ ، عن عبد الله بن هُبَيْرَةَ ، عن عبد الله بن عباس ، « أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قرأ في الصلاة فقرأ أصحابه وراءه فخلطوا عليه فنزل (وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا) فهذه في المكتوبة » ثم قال ابن عباس : « وإن كنا لا نستمع لمن يقرأ إنا إذًا لأجفىٰ من الحمير » (کتاب القراءۃ للبیہقی ص109رقم الحدیث:255)

تحقیق السند: اسنادہ حسن ورواتہ ثقات۔

تفسیر نمبر 2:

نیز حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بسند صحیح موقو فاً روایت مروی ہے جو اس کی مؤید ہے۔

أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي ، أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عَبْدُوس ، نا عثمان بن سعيد نا عبد الله بن صالح ، حدثني معاوية بن صالح ، عن علي بن أبي طلحة ، عن ابن عباس ، في قوله : « (وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا) يعني في الصلاة المفروضة »

کتاب القراءۃ للبیہقی :ص109 رقم الحدیث 254

تفسیر نمبر 3:

قال الامام الحافظ أبو محمد عبد الرحمن بن محمد أبي حاتم بن إدريس بن المنذر التميمي الحنظلي الرازي م 327 ھ: حدثنا يونس بن عبد الاعلى انبا ابن وهب ، ثنا أبو صخر عن محمد بن كعب القرظى : قال كان رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) إذا قرا في الصلاة اجابه من وراءه إن قال بسم الله الرحمن الرحيم قالوا مثل ما يقول حتى تنقضي الفاتحة والسورة فلبث ما شاء الله ان يلبث ثم نزلت : وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ فَقَرَاَ واَنْصَتُوا .

تفسیر ابن ابی حاتم الرازی ج4ص259رقم9493

ان مذکوہ تمام تفاسیر کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ آیت فرض نماز میں امام کے پیچھے قراءت نہ کرنے کے بارے میں نازل ہوئی اور اس آیت کی وجہ سے امام کی اقتداء میں قراء کرنے سے روکا گیا۔

اس مضمون پر ذخیرہ احادیث میں بھی دلائل موجود ہیں یہاں پر اختصار کی نیت سے ان سب کو ذکر نہیں کیا جاتا صرف ایک روایت جو اس بارے میں واضح ہے اس کو نقل کیا جاتا ہے، چنانچہ اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:

“عن جابر عن أبي الزبير عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ’’من كان له إمام فقراءة الإمام قراءة‘‘

ابن ماجہ حدیث نمبر 850

حضرت جابر رضی اللہ عنہ اس حدیث کے راوی ہیں فرماتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص امام کی اقتدا میں نماز پڑھ رہا ہو تو اس کے لیے امام کی قرأت ہی کافی ہے ۔

جب امام کی قراءت ہی مقتدی کی طرف سے بھی قراءت ہے تو پھر الگ سےفاتحہ پڑھنےکی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ امام کی قرأت مقتدی کی قرأت ہے ۔ لہذا مقتدی کسی بھی حالت میں امام کے پیچھے قرأت نہ کرے ۔

ج!: اگر کوئی عورت ایسی ہے جس کے چہرے پر بال آ گئے ہوں مثلاً جیسے داڑھی ہوتی ہے یا مونچھیں ہوتی ہیں تو انکو عورت صاف کر سکتی ہے اور اسی طرح جسم کے دیگر حصوں سے بھی بال صاف کر سکتی ہے بلکہ فقہائے کرام نے تو مستحسن لکھا ہے کہ عورت کے جسم کے وہ بال جس سے خاوند کو نفرت ہو یا خاوند پسند نہ کرے تو وہ عورت صاف کر سکتی ہے ۔چنانچہ فقہ حنفی کی معتبر کتاب ردالمختار میں ہے

“وَإِلَّا فَلَوْ كَانَ فِي وَجْهِهَا شَعْرٌ يَنْفِرُ زَوْجُهَا عَنْهَا بِسَبَبِهِ ، فَفِي تَحْرِيمِ إزَالَتِهِ بُعْدٌ ، لِأَنَّ الزِّينَةَ لِلنِّسَاءِ مَطْلُوبَةٌ لِلتَّحْسِينِ”

ردالمختار جلد نمبر 9 ص615 کتاب الخطر والاباحۃ ۔ دار المعرفۃ بیروت

اگر عورت کی بھنووں کے زائد بد نما بال ہوں تو ان کے دور کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں خصوصاً شوہر کے لیے زینت کی غرض سے کوئی خاتون اگر اس طرح کرتی ہےتو اور بھی مستحسن ہے لیکن فاحشہ قسم کی عورتوں اور ہیجڑوں کی طرح ہیئت اختیار کرنے سے گریز کرے۔

ولا بأس باخذ الحاجبین و شعر وجھہ مالم یشبہ المحنث ،اھ،ومثلہ فی المجتبی۔

عورتوں کابھنوؤں اور چہرے کے بالوں کو لینے میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ ہجڑوں سے مشابہت نہ ہو۔

فتاوی الشامی: ج9 ص615،کتاب الحظر،فصل فی النظر

لیکن آج کل جو فیشن عام ہو رہا ہے کہ عورتیں اپنی بھوؤں کو تلوار کی طرح ڈیزائن دے کر بناتی ہیں اس طرح محض زیب و زینت کے لیے بنانا جائز نہیں۔حدیث میں آتا ہے۔

عن علقمة عن عبد الله قال * لعن الله الواشمات والمستوشمات والنامصات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغيرات خلق الله۔

صحيح مسلم :ص949،رقم2125:دارالسلام

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اللہ تعالی نے گودنے والی اور گدوانے والی اور (خوبصورتی کی خاطر)پلکوں کے بالوں کو اکھیڑنے والی اور اکھڑوانے والی اور دانتوں کو ( خوبصورتی کی خاطر) کشادہ کرنے والی اور اللہ کی (دی گئی )بناوٹ میں تبدیلی کرنے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔

عورتوں کے لیے سر کے بال زینت ہیں جنہیں کسی بھی طرف سے کاٹنا جائز نہیں عورتوں کے سر کے بال کٹوانے میں چونکہ مردوں کے مشابہت اختیار کرنا ہے جوکہ موجبِ لعنت ہے کیونکہ حدیث میں آتاہے ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لعن اللہ المتشبھین من الرجال بالنساء ولعن المتشبھات من النساء بالرجال

مسند احمد: ج5ص243

ترجمہ: اللہ تعالی نے لعنت بھِجی ہے ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت اختیار کریں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں۔

اب چونکہ بال کٹوانا یہ مردوں کیلئے ہے اگر عورتیں بال کٹوائیں گی تو مردوں کے ساتھ مشابہت ہو گی۔

اسی طرح فتاوی عالمگیری میں ہے۔

“ولو حلقت المراَۃ راَسھا فان فعلت لوجع اصابھا لا باَس بہ وان فعلت ذالک تشبیھا بالرجل فھو مکروہ”

فتاوی عالمگیری :ج5ص358 کتاب الکراھیۃ

اگر عورت کسی شدید مرض کی وجہ سے سر کے بال کٹوائے تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر یہ بال فیشن کی وجہ سے مردوں کی مشابہت اختیار کرتے ہوئے کٹوائے تو یہ مکروہ تحریمی ہے۔

اس لیے اگر مرض نہ ہو تو ایسا کرنے والی عورت فاسق اور حدیث کی روشنی میں مستحق لعنت ہے اور جو تصاویر آپ نے بھیجیں ہیں یہ کسی مرض کا نتیجہ نہیں بلکہ فیشن ہے اور ایسا کرنا بھی اس حکم میں داخل ہو گا جو ہم نے ماقبل ذکر کیا ہے۔

ھذا ما کان عندی واللہ اعلم باالصواب

مجیب: مولانا مہتاب حسین سدوزئی