سوال:

بعد سلام مسنون، عرض یہ هے کہ کیا عورت کے بال لمبے ہیں. تو کاٹے وقت، آگے کی جانب قزع کی اجازت ہے؟ ساتھ فوٹو بھیجتے ہیں جس سے ہماری مراد واضح هوگی.

یحیٰ روات

جواب:

عورتوں کے لیے سر کے بال زینت ہیں جنہیں کسی بھی طرف سے کاٹنا جائز نہیں عورتوں کے سر کے بال کاٹوانے میں چونکہ مردوں کے مشابہت اختیار کرنا ہے جوکہ موجب لعنت ہے کیونکہ حدیث میں ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لعن اللہ المتشبھین من الرجال بالنساء ولعن المتشبھات من النساء بالرجال

{مسند احمد: ج5ص243}

ترجمہ: اللہ تعالی نے لعنت بھِجی ہے ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت اختیار کریں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں

اب چونکہ بال کٹوانا یہ مردوں کیلءے ہے اگر عورتیں بال کٹوائیں گی تو مردوں کے ساتھ مشابہت ہو گی

اسی طرح فتاوی عالمگیری میں ہے۔

“ولو حلقت المراَۃ راَسھا فان فعلت لوجع اصابھا لا باَس بہ وان فعلت ذالک تشبیھا بالرجل فھو مکروہ”

فتاوی عالمگیری :ج5ص358 کتاب الکراھیۃ

اگر عورت کسی شدید مرض کی وجہ سے سر کے بال کٹوائے تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر یہ بال فیشن کی وجہ سے مردوں کی مشابہت اختیار کرتے ہوئے کٹوائے تو یہ مکروہ تحریمی ہے۔

اس لیے اگر مرض نہ ہو تو ایسا کرنے والی عورت فاسق اور حدیث کی روشنی میں مستحق لعنت ہے اور جو تصاویر آپ نے بھیجیں ہیں یہ کسی مرض کا نتیجہ نہیں بلکہ فیشن ہے اور ایسا کرنا بھی اس حکم میں داخل ہو گا جو ہم نے ماقبل ذکر کیا ہے۔