سوال:

مولانا زرولی صاحب نے بتایا کہ وتر (واجب)کے بعد نفل نماز یا تہجد پڑھنا خلاف سنت ہے کیا روزانہ وتر تہجد کے ساتھ پڑھے یا وتر عشاء کی نماز کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں ۔کبھی نیند کے غلبے کی وجہ سے تہجد نہیں پڑھی تو پھر وتر کا بھی خطرہ ہے۔

برائے مہربانی اس کی وضاحت کردیں کہ کیسے تہجد بھی پڑھی جائے اور وتر بھی

والسلام

ابجل پٹھان

الجواب منہ الصدق والصواب

وتر کے بعد نفل پڑھنا جائز ہے اور اس پر قولی اور فعلی دونوں قسم کی روایات موجود ہیں ترمذی شریف کی روایت میں ہے:

عن أم سلمة : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يصلي بعد الوتر ركعتين

سنن الترمذي:ج1ص108، رقم 471

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے ۔

اور سنن ابن ماجہ کی روایت میں اس حدیث میں کچھ اضافہ بھی آتا ہے اور وہ روایت یہ ہے:

عن أم سلمة :أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يصلي بعد الوتر ركعتين خفيفتين وهو جالس

سنن ابن ماجہ: باب ما جاء في الركعتين بعد الوتر جالسا،ص85، رقم 1195

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعدبیٹھ کر دوچھوٹی چھوٹی رکعتیں پڑھا کرتے تھے ۔

ان دونوں روایات سے ثابت ہو گیا کہ وتروں کے بعد نفل نماز پڑھنا بلاشک و شبہ جائز ہے۔یہ سنن زوائد میں سے ہے اور ابن ماجہ کی روایت کے مطابق اس کو بیٹھ کر ادا کرنا چاہیے۔

حجۃ الاسلام اما م مولانامحمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ نفل اگر اس نیت سے بیٹھ کر پڑھے گا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی منقول ہے تو اس نیت سے ان شاء اللہ عجب نہیں کہ ثواب میں کچھ کمی نہ رہے۔

امداد الفتاویٰ ج1ص457

اس طرح وتر کے بعد تراویح پڑھنا بھی صحیح ہےچنانچہ نورالایضاح میں ہے “ويصح تقديم الوتر على التراويح وتأخيره عنها” کہ وتر کو تراویح سے پہلے پڑھنا بھی صحیح ہے اور بعد میں پڑھنا بھی صحیح ہے۔

نور الإيضاح ونجاة الأرواح:فصل في التراويح وحكمها ص105

مذکورہ بالا تصریحات سے یہ مسئلہ واضح ہوگیا کہ وتر کے بعد نوافل میں کوئی حرج نہیں نفل نماز پڑھنا جائز ہے خواہ وتر کے بعد دو رکعت ادا کی جائے یا پھر تہجد کی نماز ادا کی جائے اور وتر کے بعدتہجد پڑھنا بھی جائز ہے۔

باقی جہاں تک تعلق ہے اس حدیث پاک کا جس میں یہ الفاظ آتے ہیں “اجعلوا آخِرَ صلاتِكم بالليل وتراً” اس میں جو امر دیا گیا ہے وہ امر استحبابی ہے نہ کے وجوبی اس لیے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے بعد نفل پڑھنا ثابت ہےجیسا کہ پہلے تحریر کیا جا چکا ہے ۔

واللہ اعلم بالصواب

مولانا محمد اسحاق