سوال:

مجھے ایک مسئلہ درپیش ہے امید ہے کہ تسلّی بخش جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں گے۔

مجھے ایک شخص کے ساتھ کاروبار میں شرکت کرنی ہے ، جس کی شکل یہ ہے:

اس شرکت میں میری محنت لگے گی،میرا مال یا میراپیسہ نہیں لگے گااور اس تجارت میں رب المال بھی شریک رہے گا ۔

لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس شرکت میں نفع نقصان کا تعین کیسے کریں گے؟ میری شرکت نفع نقصان دونوں میں رہے گی یا صرف نفع میں؟

عبداللہ بدی

الجواب بعون الوہاب

فقہ کی اصطلاح میں تجارت کے اس طریقہ کو”عقد مضاربت” کہا جاتا ہےاس میں نفع کا تعیّن فیصد کے اعتبار سے کرنا ضروری ہے۔ مثلاً رب المال [جس کی رقم ہے]مضارب [کام اور محنت کرنے والا] سے کہے آپ میری اس رقم میں تجارت کر دیں نفع میں آپ کی شراکت 10 فیصد، 20فیصد،50فیصد وغیرہ ہو گی۔

ہاں ایسا کرنا جائز نہیں ہو گا کہ نفع کی مد میں ایک مخصوص رقم مضارب اور باقی رقم رب المال کے لیے متعیّن کر لی جائے مثلاً:

رب المال مضارب سے کہے کہ آپ محنت کردیں جو نفع ہو گا اس میں سے 1000 روپے آپ کو ملیں گے ، باقی جتنے ہوں گے وہ میرے ہیں یہ صورت جائز نہیں ۔

عقد مضاربت میں جو نقصان ہو جائے تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ نقصان کو نفع کی رقم سے پورا کیا جائے گا۔ اگر نقصان کم اور نفع کی رقم زیادہ ہوتو نقصان پورا کرنے کے بعد نفع کی باقی ماندہ رقم کو رب المال اور مضارب اپنے حصوں کے مطابق تقسیم کر لیں اور نقصان زیادہ اور نفع کم ہو تو نفع سے زیادہ نقصان میں مضارب شریک نہ ہو گا۔

مثال کے طور پر دس ہزار روپے نفع ہے اور نقصان آٹھ ہزار ہے تو نفع کی رقم میں سے آٹھ ہزار نقصان پورا کرنے کےلیے نکالیں گے اور باقی دوہزار مضارب اور رب المال فیصد کے لحاظ سے تقسیم کرلیں۔

آر اگر نفع دس ہزار اور نقصان پندرہ ہزار ہو تو نفع کی ساری رقم نقصان کے ازالے میں لگے گی اور مزید جو پانچ ہزار کا نقصان ہوا ہے اس میں مضارب شریک نہ ہو گا، اور یہ اضافی نقصان اکیلا رب المال برداشت کرے گا۔

لما فی المختصر القدوری ص106،کتاب المضاربۃ

“وَمَا هَلَكَ مِنْ مَالِ الْمُضَارَبَةِ فَهُوَ مِنْ الرِّبْحِ دُونَ رَأْسِ الْمَالِ وَإِنْ زَادَ الْهَالِكُ عَلَى الرِّبْحِ فَلَا ضَمَانَ عَلَى الْمُضَارِبِ فیہ”

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

مجیب: مفتی محمد یوسف