سوال:

برائے کرم مریض کےروزوں کے بارے میں ضروری مسائل بتا دیں ۔

کیا مریض پر روزہ رکھنا ضروری ہے یا افطار بھی کر سکتا ہے۔

اگر مریض نے زیادتی مرض کے خوف کی وجہ سے افطار کیا ہے اس پر قضاء لازم ہو گئی یا کفارہ ؟

محمد ذیشان

الجواب ومنہ الصدق والصواب:

اگر کوئی شخص مریض ہے شیخ فانی نہیں اور مریض کا حکم شریعت مطہرہ میں یہ ہے اگر مرض سے اچھا ہونے کے بعد اتنی مدت اس

کو ملے کہ اس میں قضا ء کر سکتا ہے تو روزہ کی قضا اس کے ذمہ میں ہے ورنہ قضا بھی نہیں۔

حوالہ فتویٰ دارلعلوم، یعنی امرادامفتیین

(۲) اگر کبر سنی یا حدوث مرض کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکتا ہو تو اسے اختیار ہے چاہے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے دو وقت پیٹ

بھر کے یا کچھ غلہ دے اس طرح پر کہ ہر مسکین کو نصف صاع گیہوں یا اس کو آٹا یا ایک صاع جویا انگور یا خرمادے اور نقد قیمت دینا بھی جائز ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ ایک وقت کھانا کھلائے اور وقت کی قیمت دے۔ اگر ایک مسکین کو ساٹھ دن دو وقت کھانا کھلائےتو بھی جائز ہے۔ لیکن اگر ایک مسکین کو ساٹھ مسکینوں کا کھانا پکا کر دے گا تو کفارہ میں ایک دن ہی شمار ہو گا جیسا کہ درمختار میں ہےاور اگر کچھ غلہ ساٹھ مسکینوں کا حساب کر کے ایک مسکین کو ایک دن میں د فعات دے تو مختلف فیہ ہے۔

بعض کے نزدیک ایک مسکین کی طرف کافی ہو گا۔ بعض کے نزدیک پورا کفارہ ادا ہو گا جیسا کہ ہر جندی نے کہا۔

حوالہ مجموع الفتاویٰ ج1ص361 مولانا ابی الحسنات مولانا محمد عبد الحئی لکھنوی

(۳) اگر مریض نے زیادتی مرض کے خوف کی وجہ سے افطار کیا ہے تو اس پر قضا لازم ہو گئ کفارہ لازم نہ ہو گا فتویٰ عالمگیری میں ہے۔

مریض کو جب اپنی جان کا یا کسی عضو کے جائے رہنے کا خوف ہو تو بالاجماع افطار کر لے اور اگر زیادتی مرض یا ابتدا ءمرض کا خوف ہو

تب بھی ہمارے نزدیک افطار کر لے اور جب افطار کر لیا تو اس پر قضاء واجب ہے جیسا کہ محیط میں ہے۔

حوالہ مجموع الفتاویٰ ص340 عبدالحئی لکھنوی

(۴) کسی بیمار کا کسی دوسرے سے روزے رکھوانا جائز نہیں ہےبلکہ اگر صحت کی جلد توقع ہو تو بعد از صحت خود قضا کرے۔ اگر بیماری ممتدہو اور صحت کی جلد توقع نہ ہو تو ہر روزہ کے بدلے میں ایک فطرانہ یعنی پونے دو سیر گیہوں یا اسکی قیمت کسی فقیر کو دیتا رہےلیکن اس صورت بھی جب تندرست ہو جائے گا تو قضاء لازم ہو گی۔

حوالہ خیرالفتاویٰ ج4ص79 از خیرمحمد جالندھری

(۵) بخار کی شدد کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑ دیا اگر اس صورت میں مرض اور بخار کی شدت و زیادتی کا قوی اندیشہ تھا یا کسی طبیب نے ایسا کہا تھا تو اس بناء پر روزہ افطار کیا گیا ہے تو کفارہ واجب نہیں ، قضا ء واجب ہو گئی۔

حوالہ خیرالفتاویٰ ج4ص59

(۶) دل کے مریض کو اگر ماہر دیندار ڈاکٹر یہ رائے دے کہ واقعی اس مریض کو روزہ رکھنے سے تکلیف زیادہ ہو گی یا تکلیف زیادہ عرصے تک بڑھ جائے گی تو افطار کی گنجائش ہے اور صحت یاب ہونے کے بعد اس پر قضا ء واجب ہے۔

حوالہ خیرالفتاویٰ ج4ص97

(۷) درد شفیقہ کے لاحق ہونے درد کے نا قابل برداشت ہونے اور درد کی وجہ سے آنکھیں تک نہ کھول سکے اور ناک سے پانی کے

جاری ہونے کی وجہ سے اور دوائی کے بغیر تکلیف کے بڑھ جانے کی وجہ سے اس حال میں اپنے مرض کا علاج کروائے اور جب صحتیاب ہو جائے تو چھوڑے گئے روزوں کی قضاء لازم ہے۔

حوالہ اشرف الفتویٰ مولانا عبدالرحمان اشرفی۔ زیر سر پرستی مفتی عبیداللہ۔ مولانا فضل الرحیم اشرفی ص 185

(۸) بیماری میں روزہ چھوڑنے کے لئے شرط یہ ہے کہ کوئی ماہر یا دیانت دار معالج یہ کہے کہ اس حالت میں روزہ رکھنے سے تکلیف کے بڑھ جانے یا درد ہونے کا اندیشہ ہے تو روزہ چھوڑ سکتے ہیں۔

کتبہ: مفتی محمد یوسف